ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين
حیض اور اس کی مدت
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ​

حیض یہ ایک ناپاک خون ہے جو ہر جوان عورت کی رحم سے ہر ماہ کچھ دن کے لیے آتا ہے، اس کا رنگ سیاہ سرخی مائل رہتا ہے اس مدت میں عورت نماز نہیں پڑھتی ہے اور نہ روزہ رکھتی ہے، حیض کے بعد بھی بعض خواتین کو زائد خون آتا ہے جسے استحاضہ کا خون کہتے ہیں اس مدت میں عورت کو نماز روزے کی پابندی ضروری ہے یعنی اس میں چھٹی نہیں ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "إذَا کَانَ دَمُ الْحَيْضِ فَإِنَّهُ دَمٌ أَسْوَدُ يُعْرَفُ فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَأَمْسِكِي عَنِ الصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْآخَرُ، فَتَوَضَّئِي وَصَلِّي" (سنن ابو داؤد:304/حسن) جب حیض کا خون ہو جو سیاہ رنگت سے پہچانا جاتا ہے، جب یہ ہو تو نماز پڑھنے سے رک جاؤ، جب دوسری قسم کا ہو تو وضو کرو اور نماز پڑھو-
قارئین کرام! حیض کی اکثر مدت کتنی ہے اس باب میں اہل علم کے کئی اقوال ہیں، المختصر ہر عورت کی مدت مختلف ہوتی ہے، یہ خون عورت کی فطرت، جسامت، موسم، خاندان، خوراک اور رہائش (آب وہوا) کے اعتبار سے آتا ہے، البتہ عام طور پر عورتوں کو چھ سات دن تک آتا ہے لیکن بعض بعض عورتوں کو دس پندرہ دن تک بھی حیض آتا ہے اس لیے علماء نے یہ کہا کہ حیض کی اکثر مدت پندرہ دن ہے-
اگر کسی عورت کو دس پندرہ دن تک خون آتا ہے تو یہ انفرادی مسئلہ ہے اور ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے، بہرکیف اگر کسی عورت کو ہر ماہ 15/ دن تک حقیقت میں آتا ہے تو وہ حیض کا ہی خون مانا جائے گا اور عورت پندرہ دن تک روزہ نماز کا اہتمام نہیں کرے گی، لیکن شرط یہ ہے کہ عورت کو ہر ماہ اسی طرح خون آئے، یہ نہیں کہ ایک ماہ چھ دن آیا پھر کسی ماہ بڑھ گیا دس دن تک پہنچ گیا تو یہ استحاضہ کا خون مانا جائے گا اور استحاضہ یہ طہر کے ایام ہوتے ہیں ان میں روزہ نماز کی پابندی ضروری ہے گرچہ خون ٹپک رہا ہوں-
حاصل کلام یہ کہ حیض کی اکثر مدت شرعاََ متعین نہیں ہے عورت کو جب تک حیض کا خون آئے گا تب تک اس کی مدت شمار ہوگی، ہاں البتہ عورتوں کو عام طور پر زیادہ سے زیادہ چھ سات دن تک آتا ہے اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک مستحاضہ عورت کو فرمایا: "إِنَّمَا هِيَ رَكْضَةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَتَحَيَّضِي سِتَّةَ أَيَّامٍ أَوْ سَبْعَةَ أَيَّامٍ فِي عِلْمِ اللَّهِ، ثُمَّ اغْتَسِلِي، فَإِذَا رَأَيْتِ أَنَّكِ قَدْ طَهُرْتِ وَاسْتَنْقَأْتِ فَصَلِّي أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، أَوْ ثَلَاثًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً وَأَيَّامَهَا، وَصُومِي وَصَلِّي، فَإِنَّ ذَلِكِ يُجْزِئُكِ، وَكَذَلِكِ فَافْعَلِي، كَمَا تَحِيضُ النِّسَاءُ" (سنن ترمذی128/ حسن) استحاضہ کا خون یہ شیطان کے کچوکا کا اثر ہے، تو تم اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن ایام حیض سمجھ لو، پھر غسل کرو اور جب تم اچھی طرح پاک وصاف ہوجاؤ تو چوبیس یا تیئیس دن تک روزہ رکھو اور نماز پڑھو، تمہارے لیے یہ کافی ہے اور اسی طرح کرو جس طرح حیض والی عورتیں کرتی ہیں-
حیض کے اختتام سے قبل بعض خواتین کو گدلا پانی بھی نکلتا ہے لہٰذا خواتین کو چاہیے کہ وہ اسے بھی ناپاکی کے ایام میں شمار کریں، جب حیض بالکل بند ہو جائے اور پیلا اور گدلا پانی آنا بند ہو جائے تب عورت کو غسل کرنا چاہیے اور روزہ نماز کی پابندی شروع کر دینی چاہیے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top