ذیشان خان

Administrator
غیر مسلموں میں دعوت کے لئے کیا ان کی مذہبی کتابوں کا علم حاصل کرنا ضروری ہے؟

✍
فاروق عبد اللہ نراین پوری

ہمارے نوجوانوں کے ذہن میں بردرس نے ایک شبہہ یہ پیدا کر دیا ہے کہ غیر مسلموں میں دعوت کے لئے ان کی مذہبی کتابوں کا علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
بردرس کو سنتے سنتے بعض اہل علم بھی ان کی باتوں میں آگئے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے لگے کہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرنا ہو تو ان کی مذہبی کتابوں کی جانکاری حاصل کرنا شرط ہے۔
کوئی اسلامی دعوت کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لے تو اس دعوے کی حقیقت اس پر واضح ہو جائےگی۔ آپ غور کریں کہ موجودہ دور کے ان بردرس کے آنے سے پہلے غیر مسلموں میں دعوت کا کام جاری تھا یا نہیں؟
وہ کیسے دعوت دیتے تھے؟
خود ہمارے ہندوستان میں اسلام پھیلانے والے غیر مسلموں کی کتابوں سے کتنے واقف تھے؟
قرون اولی سے لے کر اب تک یہود ونصاری کے درمیان اسلام پھیلانے والے ان کی کتابوں کا کتنا سہارا لیتے تھے؟
صرف صحابہ وتابعین ہی کا زمانہ دیکھ لیا جائے انھوں نے غیر مسلموں کے مابین دعوت کے لئے کیا منہج اپنایا۔
بلکہ اگر آپ دیکھیں تو پائیں گے کہ بہت سارے علمائے سلف اہل کتاب کی کتابوں کو پڑھنا پسند نہیں کرتے تھے۔ انھیں پڑھنے سے عموما روکتےتھے، الا یہ کہ کوئی شرعی علوم میں ماہر ہو تو صرف ان کے لئے اہل کتاب پر رد کرتے وقت پڑھنے کی اجازت دیتے تھے۔ علوم اسلامیہ میں مہارت کے بغیر ان کتابوں کے مطالعے سے لوگوں کو روکتے تھے۔ [دیکھیں: فتح الباری: 13/525، مطالب أولي النهى في شرح غاية المنتهى للرحیبانی: 1/607، وفتوى الشيخ ابن باز في فتاوى نور على الدرب: 1/10، و مجموع فتاوى ورسائل ابن عثيمين: 1/33]
آج کل کے جو بردرس غیر مسلموں کی کتابوں کا اپنے آپ کو علامہ تصور کرتے ہیں وہ خود اسلامی علوم سے لا علم ہیں۔ کاش کہ یہ پہلے خود اپنی مذہبی کتابوں کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرتے۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ اور ان کے شاگرد علامہ ابن القیم نے اہل کتاب کے متعلق جتنا کچھ لکھ دیا ہے کوئی صرف انھیں ہی پڑھ لے تو ان پر رد کرنے کے لئے کافی ہوگا۔ ان کی کتابوں کو پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں پڑےگی۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ کی کتاب ”الجواب الصحیح لمن بدل دین المسیح“ اور علامہ ابن القیم کی کتاب ”ہدایۃ الحیاری فی اجوبۃ الیہود والنصاری“ اس باب کی بے نظیر کتابیں ہیں۔ اور بھی اس باب میں ہمارے علما نے قیمتی کتابیں تصنیف کی ہیں۔
اگر کوئی مزید پڑھنا چاہے تو ان مسلمانوں کی کتابوں کی مدد لینی چاہئے جو پہلے یہودی یا نصرانی تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد انھوں نے اپنے پرانے باطل مذہب کے بطلان کو واضح کیا۔
اگر کوئی علوم اسلامیہ نہ پڑھا ہو تو غیر مسلموں کی کتابوں کو اپنی عقل سے جانچےگا کہ اس میں کون سی بات صحیح ہے اور کون سی غلط۔ نیز وہ بہت ساری ایسی باتوں کی حمایت بھی کر سکتا ہے جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، یا جو گمراہ فرقوں کا نظریہ ہے۔
ایک مثال ملاحظہ فرمائیں: اسی طرح کے ایک واعظ ایک ہندو سے بات کر رہے تھے اور انھیں ان کی مذہبی کتابوں سے مطمئن کر رہے تھے کہ مورتی پوجا جائز نہیں۔ اس کے لئے انھوں نے ان کی کتابوں سے حوالہ دیا کہ دیکھیں آپ ہی کی کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ تعالی کی کوئی صورت نہیں۔ اور جب اس کی کوئی صورت نہیں تو اس کی کیسے کوئی مورتی بنا سکتا ہے۔
وہ ہندو تو ہو سکتا ہے ان کی باتوں سے مطمئن ہو گیا ہو لیکن اس واعظ نے منہج سلف کا علم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں اللہ تعالی کی صورت کا انکار کرکے خود جہمیہ کے عقیدے کی موافقت کی۔ اللہ تعالی کی صورت کا انکار کرنا یہ جہمیہ کا منہج ہے، اہل سنت والجماعت کا نہیں۔ اہل سنت والجماعت کا مذہب یہ ہے کہ اللہ کی صورت ہے جیسے کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ لیکن کسی چیز سے اس کی مثال نہیں دی جا سکتی۔ [دیکھیں: شرح السنہ للبربہاری: ص 67-68]
شرعی علوم میں مہارت پیدا کئے بغیر کوئی غیر مسلموں کی کتابیں پڑھےگا تو اسی طرح گمراہ ہوگا، اور دوسروں کو بھی گمراہ کرےگا۔
غیر مسلموں میں دعوت کا مسئلہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے۔ اللہ کے رسول کے زمانے سے لے کر آج تک اللہ کے فضل سے یہ کام جاری ہے۔ اور ہمارے اسلاف نے اس میں بھی ہمارے لئے بہترین نمونہ چھوڑا ہے۔ اس لئے یہ صرف ایک دھوکہ ہے کہ ان میں دعوت کے لئے ان کی کتابوں کا عالم ہونا ضروری ہے۔
توارت وانجیل کے نسخے (جو کہ محرف ہیں) اللہ کے رسول کے زمانے سے موجود ہیں، اگر ان میں دعوت کے لئے انھیں پڑھنا ضروری ہوتا تو وہ ہم سے پہلے اس جانب سبقت کرتے۔
سچ یہ ہے کہ: ان کی کتابوں کا عالم ہونا تو ضروری نہیں، البتہ یہ شرط ضرور ہے کہ وہ قرآن وحدیث کا عالم ہو۔ کتاب وسنت میں اس کے متعلق دلائل بھرے پڑے ہیں۔
ہاں اگر کوئی علوم اسلامیہ کا ماہر ہے اور ساتھ میں غیر مسلموں کی کتابوں سے بھی اسلام کی حقانیت کو ثابت کرنے کے لئے مدد لیتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ غیر مسلموں میں دعوتی کام کرنا ہو تو ان کی مذہبی کتابوں کا علم حاصل کرنا شرط یا کم از کم ضروری ہے اسلامی تاریخ دعوت سے جہالت، اور منہج سلف سے عدم واقفیت کی دلیل ہے
 
Top