ذیشان خان

Administrator
ایمان میں کمزور لوگوں کی علامت اور اس کا حل

نافع رحمہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ایک مرتبہ رسول اللہﷺ منبر پر تشریف لائے، اور بلند آواز سے لوگوں کو خطاب فرمایا:
’’يَا مَعْشَرَ مَنْ أَسْلَمَ بِلِسَانِهِ وَلَمْ يُفْضِ الْإِيمَانُ إِلَى قَلْبِهِ لَا تُؤْذُوا الْمُسْلِمِينَ [وفي روایۃ: لا تغتابوا المسلمين]، وَلَا تُعَيِّرُوهُمْ وَلَا تَتَّبِعُوا عَوْرَاتِهِمْ فَإِنَّهُ مَنْ تَتَبَّعَ عَوْرَةَ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ وَمَنْ تَتَبَّعَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ يَفْضَحْهُ وَلَوْ فِي جَوْفِ رَحْلِهِ‘‘، قَالَ: وَنَظَرَ ابْنُ عُمَرَ يَوْمًا إِلَى الْبَيْتِ أَوْ إِلَى الْكَعْبَةِ فَقَالَ: ’’مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ وَالْمُؤْمِنُ أَعْظَمُ حُرْمَةً عِنْدَ اللَّهِ مِنْكِ‘‘.
اے وہ لوگو جو زبان سے اسلام لائے ہو، اور ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح نہیں اترا ہے! مسلمانوں کو تکلیف مت دو، [ان کی غیبت نہ کرو]، ان کو عارمت دلاؤ اور ان کے پوشیدہ عیوب تلاشنے کی کوشش نہ کرو، کیونکہ اللہ کا قانون ہے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ عیب تلاشنے کے در پر ہوتا ہے‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کے پیچھے پڑ جاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ جس کے عیب کے پیچھے پڑ جائے، تو ایسے کو ذلیل ورسوا کر دیتا ہے، اگرچہ وہ اپنے گھر کے اندرہو.
راوی (نافع) کہتے ہیں کہ: ایک دن ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: کعبہ! تم کس قدر عظمت والے ہو! اور تمہاری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن اللہ کی نظر میں مومن (کامل) کی حرمت تجھ سے زیادہ عظیم ہے.
[سنن الترمذی: ۲۰۳۲، واللفظ لہ، سنن أبی داود: ٤۸۸۰، حسنہ الألبانی]

فوائد:
عام طور پر جس کے دل میں ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا ہوتا‘ وہی خودی کی اصلاح کے بجائے دوسرے مسلمانوں کی عیب جوئی وغیرہ کا مشغلہ رکھتا ہے، یوں وہ اپنے ناقص علم اور کمزور ایمان کی وجہ سے سمجھتا ہے کہ بس وہی اکیلا ٹھیک ہے اور باقی سب مجرم وگنہگار ہیں.
یہ ایک نفسیاتی اور شیطانی بیماری ہے کہ جس میں انسان اِن سطحی حرکتوں کے سہارے خود کو ہر ناحیہ سے مکمل شخصیت باور کرانا چاہتا ہے. اسی لئے نبی ﷺ نے ایسوں کو بڑی تاکیدی نصیحت فرمائی ہے کہ اگر واقعی کوئی صدق دل سے مسلمان ہوا ہے‘ توخبردار! وہ مسلمانوں کے تئیں اپنے دل اور زبان ونظر کو پاک رکھے، اور اپنے کمزور ایمان کو مضبوط کرنے کی فکر کرے، سو اس تربیت کے ذریعہ جب اسے ایمان کی حقیقی حلاوت ومٹھاس نصیب ہوجائے گی‘ تو وہ خود بخود ان بیہودہ حرکتوں سے باز آجائے گا. واللہ أعلم
•┈┈•┈┈•⊰⊙⊱•┈┈•┈┈•
 
Top