ذیشان خان

Administrator
ضعیف ہوا تو کیا ہوا حدیث تو ہے؟ ہمارا والد ضعیف ہو جائے تو کیا والد نہیں رہےگا؟

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

پیں پیں
نوٹیفیکیشن کی گھنٹی بجی۔ اختر حسین نے اپنا واٹس اپ چیک کیا۔ احمد کا میسیج تھا۔

”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“

”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“

”خیریت؟“

”الحمد للہ۔ آپ سنائیں!“

”الحمد للہ، بخیر ہوں“

”فرمائیں، کیا خدمت کر سکتا ہوں“

”ایک سوال تھا۔ آپ لوگ اللہ کے رسول کی حدیث کو ضعیف کیوں کہتے ہیں؟ حدیث تو اللہ کے رسول کی ہے، وہ کیسے ضعیف ہو سکتی ہے؟
احمد کافی الجھن میں تھے۔

”دیکھیں! پہلے آپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب محدثین کسی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں تو ان کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ محدثین کا کسی حدیث کو ضعیف کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول سے ثابت ہی نہیں کہ یہ آپ کا کلام ہے۔ اور جب تک اس بات کا ثبوت نہ مل جائے کہ وہ رسول اللہ کا کلام ہے اسے شریعت کا درجہ کیسے دے سکتے ہیں؟ کون سی بات اللہ کے رسول نے کہی ہے اسے چیک کرنے کے لیے محدثین کرام نے نہایت ہی ٹھوس اصول وضوابط مقرر کئے ہیں۔ انھی ضوابط کی روشنی میں وہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت ہے اور یہ ثابت نہیں یعنی کہ ضعیف وموضوع وغیرہ ہے“۔
اختر حسین نے سمجھانے کی کوشش کی۔

” ضعیف تو سند کے راوی ہوتے ہیں نا، حدیث تو اللہ کے رسول کی ہے۔ وہ بھلاکیسے ضعیف ہو سکتی ہے؟“۔
احمد کی الجھن ختم نہیں ہوئی تھی۔

”اللہ کے رسول نے یہ بات کہی یا نہیں یہ آپ کو کیسے پتہ؟ اس کے پتہ کرنے کا طریقہ سند ہی ہے۔ سند ہی کے ذریعہ ہمیں پتہ لگتا ہے کہ اللہ کے رسول نے وہ بات کہی یا نہیں۔جب وہ اللہ کے رسول کا کلام ہی نہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ ہم قول رسول کو ضعیف نہیں کہہ رہے، بلکہ ضعیف کہنے کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے رسول سے یہ بات ثابت ہی نہیں۔
اگر سند نہ ہوتی تو کوئی بھی اللہ کے رسول کی طرف جو چاہتا منسوب کرتا۔ بعض نے ایسی کوشش بھی کی، جب ان سے سند طلب کی گئی تو پتہ چلا کہ فلاں غیر دیانت دار، یا حافظہ کا گڑبڑ، یا کذاب شخص نے اسے ان سے بیان کیا ہے۔اب آپ ہی فرمائیں کہ ایسے کسی شخص کی خبر پر زندگی کا کوئی اہم فیصلہ آپ کریں گے؟“
اختر حسین نے ان سے الزامی سوال کیا۔

”نہیں“

”جب دنیاوی معاملات میں ہم ایسے کسی شخص کی خبر کی کوئی پرواہ نہیں کرتے تو آخرت کا معاملہ تو اس کہیں زیادہ اہم اور قیمتی ہے۔“

”آپ کی بات تو صحیح ہے لیکن ہم نے بعض مولویوں سے سنا، کہہ رہے تھے: ضعیف ہوا تو کیا ہوا حدیث تو ہے نا؟ اگر ماں باپ ضعیف ہو جائے تو کیا انھیں گھر سے نکال دیں گے؟ ضعیف ہونے کے بعد کیا وہ ماں باپ نہیں ہیں؟“۔
الجھن تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی۔

اختر حسین کی انگلیاں کی پیڈ پر پھر چلنے لگیں: ”پہلے بتا چکا ہوں کہ محدثین کے ضعیف کہنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ اللہ کے رسول سے ثابت نہیں۔ لہذا اسے حدیث کہنا حقیقی نہیں۔ وہ اللہ کے رسول کا کلام ہو اسی کا ہمیں شبہہ ہے۔ یہ جعلی ڈگری کی طرح ہے، جس کے لئے لفظ ڈگری کا تو استعمال کرتے ہیں لیکن جعلی کہہ کر اس کے عدم اعتبار کو بھی بیان کر دیتے ہیں کہ وہ کسی کام کا نہیں۔
اور ماں باپ کے ضعیف ہونے سے اس کی تشبیہ دینا مغالطہ آمیزی ہے۔ ماں باپ چاہے طاقتور ہوں یا کمزور ماں باپ ثابت ہونے میں کوئی شک نہیں۔ کمزور ہونے سے پہلے وہ جب طاقتور تھے تو بھی ماں باپ تھے، اب بھی ہیں۔ جب کہ حدیث سرے سے ثابت ہی نہیں ہوئی اس لیے اسے ضعیف کہا گیا ہے۔ ایسا نہیں کہ پہلے صحیح تھی بعد میں اس میں کوئی کمزوری آئی تب ضعیف کہہ رہے ہیں۔
اسی مثال کو اس طرح سمجھنے کی کوشش کریں: اگر کوئی بچہ بچپن میں کہیں کھو جائے، اور بڑا ہونے کے بعد کوئی دعوی کرے کہ ہم تمہارے ماں باپ ہیں، گرچہ دونوں ہٹھے کٹھے ہوں کیا وہ محض ان کے دعوی کرنے سے انھیں اپنا ماں باپ تسلیم کر لےگا؟ نہیں نا؟ تو یہاں ماں باپ کے طاقتور اور کمزور ہونے کا مسئلہ نہیں ہے۔ وہ ماں باپ ہیں یا نہیں اس کے ثبوت کا مسئلہ ہے۔ اگر ثابت ہو تو ہمیشہ ماں باپ ہیں، اگر ثابت نہ ہوں تو کبھی نہیں، نہ جوانی میں نہ بڑھاپے میں“۔
اتنا ٹائپ کرنے بعد اختر حسین نے انٹر دبایا۔

”اب بات سمجھ میں آ رہی ہے۔ جوان اور ضعیف ہونے کا مسئلہ نہیں، ثبوت کا مسئلہ ہے“

”جی بالکل“

”اچھا یہ بتائیں کہ اگر یہی بات ہے تو حدیث صرف صحیح ہوگی یا ضعیف، یعنی ثابت یا غیر ثابت۔ پھر یہ صحیح، حسن، ضعیف، موضوع وغیرہ متعدد تقسیمات کیوں؟“

”اس کا جواب تو تفصیل طلب ہے۔ پہلے محدثین کی اصطلاح میں کسی حدیث کے صحیح ہونے کی کیا شرطیں ہیں انھیں بیان کرنا پڑےگا، پھر کیسے اس کا درجہ گھٹ کر وہ حسن ہو جاتی ہے، پھر کیسے قبولیت کے درجے سے ہی نیچے چلی جاتی ہے بالتفصیل بیان کرنا پڑےگا“

”اگر مختصر میں کسی مثال سے سمجھا دیں تو مہربانی ہوگی“

”ٹھیک ہے ایک مثال کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ آپ نے مختلف طرح کی کرنسی نوٹ دیکھی ہوگی۔ بینک سے نکلے ہوئے ایک دم کرارے نئے نوٹ، پھٹے پرانے نوٹ، کچھ ایسے پھٹے ہوئے جن کے نمبرات تک غائب ہوں، اور جعلی ڈوپلیکیٹ نوٹ؟“

”جی دیکھی ہے“

”ایک دم نئے کرارے نوٹ کو کوئی لینے سے پرہیز کرےگا؟“

”بالکل نہیں، بلکہ ہر کوئی ایسی ہی نوٹ کی خواہش کرےگا“

”ایسی ہی صحیح احادیث کو سمجھ لیں“۔ اختر حسین کا ہاتھ مسلسل حرکت کر رہا تھا: ”اب بتائیں جو پرانے نوٹ ہوتے ہیں، یہاں تک کہ جو بعض جگہوں سے پھٹ بھی گئے ہوں، لیکن تمام نمبرات صحیح سالم ہوں، انھیں لوگ نئے نوٹوں کی طرح ہی ہاتھوں ہاتھ لیں گے یا تھوڑا چھان پھٹک کر؟“

”اچھی طرح چیک کرکے ہی لوگ ایسی نوٹوں کو لیں گے۔ ظاہر ہے لینا تو پڑےگا ہی لیکن نئے نوٹوں کی طرح نفس کا میلان نہیں ہوگا، البتہ سرکاری طور پر اس کی بھی وہی قیمت ہے جو نئے نوٹ کی ہے“

”آپ نے صحیح فرمایا۔ حسن احادیث کا معاملہ تقریبا ایسے ہی ہے“۔ اختر حسین نے پھر نیا سوال کیا: ”کوئی نوٹ ایسی ہو جو اتنی زیادہ پھٹ گئی ہوکہ نمبرات بھی غائب ہو چکے ہوں، کیا اسے کوئی قبول کرےگا؟“

”بالکل نہیں“

”ضعیف احادیث کا معاملہ ایسے ہی ہے“۔

”اور موضوع؟“

”وہ جعلی نوٹ کی طرح ہے، جو حکومت کی طرف سے جاری ہی نہیں ہوئی ہے، کسی نے اپنی طرف سے اصلی نوٹ کی طرح اسے چھاپنے کی کوشش کی ہے، اور لوگوں کو دھوکہ دینے ولوٹنے کی کوشش کی ہے بس۔ لیکن ماہرین کو اصل اور نقل میں فرق کرنا اچھی طرح آتا ہے۔ ایسے ہی موضوع احادیث کا معاملہ ہے“

”یہ تو بہت بڑا جرم ہے۔ اگر حکومت ایسے بندے کو پکڑ لے تو سخت سے سخت سزا دےگی“

”یہی معاملہ حدیث گھڑنے والوں کا بھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: جس نے جان بوجھ کر میری طرف کسی چیز کی جھوٹی نسبت کی وہ اپنا ٹھکانہ جہنم بنا لے“۔

”اللہ اکبر۔اللہ ہمیں بچائے“

”آمین“

”بہت بہت شکریہ شیخ۔ ایک دم معاملہ کلیئر ہو گیا۔جزاک اللہ خیرا“

”آمین، وایاکم“

”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“

”وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“
 
Top