ذیشان خان

Administrator
وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَكَ مِنَ الدُّنۡیَا کا مفہوم

✍ حافظ محمد طاھر

✿ بنی اسرائیل کے سرکش ونافرمان قارون کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے بیان فرمایا ہے کہ اسے اس کی قوم نے کہا :
((وَابۡتَغِ فِيۡمَاۤ اٰتٰٮكَ اللّٰهُ الدَّارَ الۡاٰخِرَةَ‌ وَلَا تَنۡسَ نَصِيۡبَكَ مِنَ الدُّنۡيَا‌ وَاَحۡسِنۡ كَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰهُ اِلَيۡكَ‌ وَلَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِى الۡاَرۡضِ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ.))
"اور جو کچھ اللہ نے تجھے دیا ہے اس میں آخرت کا گھر تلاش کر اور دنیا سے اپنا حصہ مت بھول اور احسان کر جیسے اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد مت ڈھونڈ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔" (سورة القصص: 77)

⇚ ولا تنس نصيبك من الدنيا. (دنیا سے بھی اپنا حصہ نظر انداز نہ کرو) کی مختلف تفاسیر کی گئی ہیں.
1. یعنی دنیاوی منفعت ومال سے فائدہ اٹھانا بھی نظر انداز نہ کرو بلکہ حلال و مباح امور کے ساتھ دنیاداری میں سے بھی اپنا حصہ ضرور حاصل کر لو. یہ تفسیر امام حسن بصری، قتادہ اور ابن جریج سے مروی ہے. (تفسیر طبری :10 /525)
یہی رائے ابن کثیر (تفسير ابن کثیر : 6/ 228) اور ابن العربی مالکی (أحكام القرآن : 3/ 513) کی ہے.

2. سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور جمہور مفسرین کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ دنیاوی زندگی میں آخرت کے لیے سامان تیار کرنا مت بھولو اور یہ بھی ہرگز نظر انداز نہ کرو کہ دنیا آخرت کے لیے عمل گاہ ہے لہذا خوب نیکیاں اور بھلائی کے کام کر کے اپنی دنیاوی نعمتوں سے آخرت کی تیاری کر لو.

⇚⇚عمومی رجحان کے مطابق پہلی تفسیر ہی کو بیان کیا جاتا ہے کہ آخرت کی تیاری کے ساتھ ساتھ (ولا تنس نصيبك من الدنيا) اپنی دنیاداری کو بھی نہ بھولو، دنیاداری بھی ساتھ ساتھ لے کر چلو... بعض مفسرین نے اس تفسیر کو ناپسند کیا ہے، ان کی رائے ہے کہ بھلا قارون جیسے شخص کو دنیاداری کی مزید ترغیب دینے کی کیا ضرورت تھی، وہ تو اسے پہلے ہی بڑا خوب علم تھا کہ دنیاوی منفعت بھی لازمی ہے، لہذا جمہور مفسرین والی تفسیر اصوب ہے، معنی کہ ولا تنس نصيبك من الدنيا میں بھی وہی ترغیب دی جا رہی ہے جو (وابتغ فيما اتاك الله الدار الآخرة) میں ہے یعنی اپنی دنیا کی زندگی سے آخرت کی تیاری کر لو، یہی جمہور کی رائے ہے.

1. سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
"یعنی دنیا میں اللہ تعالی کے لیے اعمال کرنا نہ چھوڑ."
(تفسیر طبری : 10/ 524 وسنده مقبول عند العلماء)
2. امام مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"یعنی تم اپنی دنیا میں آخرت کے لیے اعمال کرو."
(تفسیر طبری : 10/ 524، وهو حسن)
3. عون بن عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
لوگ اس آیت کا غیر درست مفہوم بیان کرتے ہیں، حالانکہ (ولا تنس نصيبك من الدنيا) کا مطلب ہے کہ دنیا میں اللہ کی اطاعت کے کام کرو.
(تفسیر طبری : 10/ 524 وسندہ صحیح)

⇚امام المفسرين، ابن جریر طبری رحمہ اللہ (310ھ) فرماتے ہیں :
"یعنی دنیا میں اپنی آخرت بنانے کا حصہ وموقع نہ چھوڑو، آج دنیا میں ایسے اعمال کرو جو کل اللہ کے عذاب سے بچنے کا ذریعہ بن جائیں."
(تفسیر طبری : 10/ 524)

⇚بعض علماء کا خیال ہے :
"پہلی تفسیر کے مطابق وعظ میں شدت ہے، قارون کو حکم دیا گیا کہ دنیا کو مکمل طور پر آخرت کے حصول کے لیے خرچ کرے..... اور دوسری تفسیر اگر دیکھی جائے تو اس کے مطابق ذرا نرمی ہے اس میں اس کی خواہشِ نفس کا بھی خیال رکھا گیا کہ وہ آخرت کے حصول کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی حلال طریقے سے اپنی خواہشات پوری کر لے." (تفسیر ابن عطیہ : 4/ 299، تفسیر قرطبی : 13/ 314)

⇚امام ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں :
"اس آیت میں "نصیب" کے متعلق تین اقوال ہیں :
پہلا قول یہ ہے کہ دنیا میں آخرت کے لیے اعمال کرنے میں بے پرواہی سے کام نہ لو.
دوسرا قول یہ ہے کہ دنیا کا جو حصہ مل جائے اسے لے لو اور اضافی وزائد راہِ الہی میں خرچ کر دو.
تیسرا قول یہ ہے کہ جو اللہ تعالی نے تجھ پر نعمتیں کر رکھی ہیں ان کا شکر ادا کرنے میں غفلت نہ کرو."
(احکام القرآن لابن العربی : 3/ 512)

⇚علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں :
ولا تنس نصيبك من الدنيا کے متعلق تین آراء ہیں: (١) عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، مجاہد رحمہ اللہ اور جمہور کی رائے ہے کہ اس سے مراد دنیا میں آخرت کے لیے نیک اعمال کرنا ہے. (٢) حسن بصری رحمہ اللہ کی رائے ہے کہ اس سے مراد اپنی ضرورت کی حد تک مال رکھنا باقی آخرت کے لیے خرچ کر دینا. (٣) قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس سے مراد حرام کو چھوڑ کر حلال کو اختیار کرنا ہے. (زاد المسير : 3/ 393)

⇚"نَصِیۡبَكَ" کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اس سے مراد کفن ہے، کیوں کہ دنیا سے جاتے وقت وہی صرف تمہارے حصے میں آئے گا.(الكشف والبيان للثعلبی : 7/ 262)اور یہ بھی مت بھولو! کہ تم اپنا سارا مال یہیں دنیا میں چھوڑ جاؤ گے، اور دنیاوی حصے میں سے سوائے کفن کے کچھ بھی ساتھ نہ لے جا سکو گے. (تفسیر ابن عطیہ : 4/ 299، تفسیر قرطبی : 13/ 314)

⇚ تنبیہ :
بعض مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں ایک روایت نقل کی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا :
«احرث لدنياك كأنك تعيش أبدا، واعمل لآخرتك كأنك تموت غدا»
"اپنی دنیا کے لیے اتنی محنت کرو کہ گویا ہمیشہ زندہ رہو گے اور آخرت کے لیے اس طرح عمل کرو گویا کل ہی فوت ہو جاؤ گے." (تفسیر قرطبی : 13/ 314)
یہ قول مرفوع نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے تو بے اصل ہے اور موقوفا ابن عمر کی بجائے ابن عمرو سے مروی ہے لیکن ثابت نہیں. (تفصیل کے لیے الضعیفہ للالبانی : 1/ 63 ح : 8)

ختم شد.
 
Top