ذیشان خان

Administrator
امیر المؤمنین کاتبِ وحی معاویہ رضی اللہ عنہ

✍⁩ ابو احمد کلیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

وإذا أتتك مذمتي من ناقص
فهي الشهادة لي بأني كامل
جب کوئی کم عقل میری مذمت بیان کرے تو یہی میرے با کمال ہونے کی دلیل ہے۔

جنتی، ہادی، مہدی، فقیہ، کاتبِ وحی، تمام مسلمانوں کے ماموں، جن کے دل کی شفافیت اور صداقت کو پرکھ کر عرش والے نے رضی اللہ عنہ کا پروانہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما پر انگشت نمائی کرنے والا کوئی انسان تو نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ وہ اپنی نسبت دینِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتا ہو، کیونکہ مکہ کے ضدی مشرکین کو بھی نبی کی صداقت پر اعتبار تھا، لیکن بعض لوگوں کو معاویہ رضی اللہ عنہ کے تئیں نبی صلی اللہ علیہ کے تعریفی کلمات پر اب بھی شک ہے، نیز معاویہ رضی اللہ عنہ سے ان کا رب تو راضی ہوگیا لیکن بعض لوگ راضی ہونے کیلئے تیار نہیں، معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت و دانائی اور علم و فقہ کے قصیدے صحابہ تو پڑھتے تھے، لیکن ان لوگوں کو ان کے صحابی ہونے پر ہی جلن ہوتی ہے۔

جب معاویہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کے ناک میں جمی دھول عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے بہتر ہے تو پھر معاویہ رضی اللہ کے خلاف بولنے والے اور ان کے زعماء کے ہفوات کی معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں کیا حیثیت؟
امام مالک رحمہ اللہ فرما تے ہیں: کچھ لوگوں نے نبی پاک کی شان میں تنقیص کرنا چاہا، جب وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے تو آپ کے جاں نثار ساتھیوں کو نشانہ بنایا، ان کے تعلق سے دروغ گوئی کی تاکہ لوگوں کو یہ باور کرایا جاسکے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم برے آدمی تھے (نعوذ باللہ ) کیوں کہ اگر وہ اچھے ہوتے تو ان کے ساتھی بھی اچھے ہوتے۔۔

چنانچہ صحابہ کے تعلق سے ایسی زبان دراز ی کی توقع صرف ایسے ہی شخص سے کی جا سکتی ہے ہے جو تاجدار مدینہ سید الاولین والآخرين سے بدگمانی رکھتا ہو۔

ابن القیم رحمہ اللہ فرما تے ہیں: بعض انسان کی فطرتیں دنیا کے سب سے گندے جانور جیسی ہوتی ہیں، ( جس جانور کا نام ہی ہمارے یہاں گالی تصور کیا جاتا ہے ) پاکیزہ اور صاف ستھری چیزیں اسے پسند نہیں آتیں، بلکہ اسے انسان کا فضلہ ہی محبوب ہوتا ہے، چنانچہ جیسے ہی کوئی انسان قضائے حاجت سے فارغ ہوتا ہے فورا وہ اس پر ٹوٹ پڑتےہیں۔

اسی طرح جاں نثاران رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف و تزکیہ میں بے شمار قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ وارد ہوئی ہیں، لیکن گستاخان صحابہ کو ان چیزوں سے سروکار نہیں ہوتا، اور جیسے ہی کوئی اسلام دشمن دجل و فریب اور بودہ دلائل کا سہارا لے کر صحابہ پر طعن کرتاہے فورا ان کی بات پر آمنا وصدقنا کہ دیتے ہیں.

اللہ رب العالمین ہم سب کے دلوں میں صحابہ کی محبت بھر، اور ہمیں ان کی طرزِ زندگی اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
 
Top