رب سے الجھو گے تو بہت پچھتاوگے

ب🖋: صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی

میں کسی کمبخت، بد بخت ملعون کا نام نہیں لینا چاہتا، مگر اسے آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ قرآن کلام الہی ہے، اور رب نے اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے، اس لئے جو بھی قرآن کی طرف غلط نگاہ سے چلے گا، اس کا انجام تباہی کے سوا کچھ بھی نہیں، کتنے طوفان آئے، کفر و الحاد، مشتشرقیت، شیعییت و رافضیت، اخوانیت، یہودیت، سب کو چیرتے ہوئے پورے شان و شوکت و عظمت کیساتھ الله کے فضل و کرم سے ایک اک حرف محفوظ ہے، اور رہتی دنیا تک محفوظ رہے گا، اور جس دن اللہ سبحانہ تعالی قرآن کو اٹھا لے گا، سمجھو کہ اب دنیا کے چل چلاو کا وقت بھی آگیا ہے۔
اے لوگو! دنیاوی منفعت و اسائش کی خاطر اللہ کی کتاب کا سودا کرکے اپنی آخرت مت برباد کرو، قوموں کے عروج زوال کو دیکھو اور عبرت حاصل کرو۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: کہ اللہ رب العلمین قرآن کی وجہ سے بہت سی قوموں کو عروج و رفعت و بلندی عطا کرتا ہے، اور اسی کی وجہ سے بہت سی قوموں کو ذلیل و خوار کر دیتا ہے[رواه مسلم۔

دیکھو جن لوگوں نے قرآن کی بے حرمتی کی، تحریف و رد بدل کی بات کی، یا قرآن کی شان میں گستاخی کی، ان کی نسلیں آج بھی ذلت و رسوائی کی گندگیاں چاٹ رہی ہیں۔

سن لو! دنیاوی ذلت و رسوائی سے بچنے کیلئے اگر قرآن کی آیات کا سودا کروگے، یا اس میں تحریف کی بات کروگے، دنیا و آخرت دونوں میں الله کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔
ہوش کے ناخن لو، ان بطش ربک لشدید یقینا رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔
 
Top