ذیشان خان

Administrator
نیکیاں اور برائیاں لکھنے والے فرشتے
================
مقبول احمدسلفی
ہر شخص کے ساتھ کئی فرشتے لگے ہوئے ہیں ، ان فرشتوں میں سے دو فرشتے جنہیں کراما کاتبین کہا جاتا ہے وہ لوگوں کی اچھی بری بات لکھنے پہ اللہ کی طرف سے مامور ہیں۔ یعنی لوگوں میں سے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے جس کے ساتھ اس کے چھوٹے بڑے اور برے اعمال کو لکھنے کے دو فرشتے نہ ہوں ۔
اللہ تعالی کا فرمان ہے :
{ وإن عليكم لحافظين ، كراماً كاتبين ، يعلمون ما تفعلون } [ الانفطار/10 -12] .
ترجمہ : یقینا تم پر حفاظت کرنے والے عزت دار لکھنے والے مقرر ہیں جو کچھ تم کرتے ہو وہ جانتے ہیں ۔
یہ فرشتے انسان کی اچھائی برائی جانتے ہیں اور اسے ہمیشہ لکھتے رہتے ہیں ، اس لئے انسان کو ہر عمل سے پہلے سوچ لینا چاہئے کہ وہ اچھا ہے یا برا؟
ایک دوسری جگہ اسی بات کا اللہ تعالی نے اس طرح ذکر فرمایا ہے :
{ ولقد خلقنا الإنسان ونعلم ما توسوس به نفسه ونحن أقرب إليه من حبل الوريد ، إذ يتلقى المتلقيان عن اليمين وعن الشمال قعيد ، ما يلفظ من قول إلا لديه رقيب عتيد } [ق/16-18]
ترجمہ: ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم اس کے دل میں جو خیالات اٹھتے ہیں ان سے واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے انسان منہ سے کوئی لفظ نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار رہتا ہے ۔
اس آیت میں صراحت کے ساتھ ذکر ہوا ہے کہ دو فرشتے دائیں اور بائیں موجود ہیں جو ہماری ہر بات لکھتے رہتے ہیں ۔ دائیں طرف والا نیکیاں ‌اور بائیں طرف والا برائیاں لکھتا ہے ۔
مذکورہ بالا نصوص سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کی نیکی اور بدی لکھنے پہ دو فرشتے مامور ہیں ۔ ایک دائیں کندھے پہ جو نیکی لکھتا ہے اور ایک بائیں کندھے پہ جو بدی لکھتا ہے ۔ احادیث سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دن کے دو فرشتے الگ اور رات کے دو فرشتے الگ ہیں‌۔
فرشتے کی بدلی کا علم مندرجہ ذیل آیت سے ہوتا ہے ۔
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ (رعد : 11)
ترجمہ: اس کے پہرے دار انسان کے آگے پیچھے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی نگہبانی کرتے ہیں ۔ کسی قوم کی حالت اللہ تعالی نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے ۔ اللہ تعالی جب کسی قوم کی سزا کا ارادہ کرلیتا ہے تو وہ بدلہ نہیں کرتا اور سوائے اس کے کوئی بھی ان کا کارساز نہیں ۔
اس آیت میں معقبات کا لفظ استعمال ہوا ہے جو معقبۃ کی جمع ہے ۔ اس کا معنی ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ۔ اس سے مراد فرشتے ہیں جو باری باری ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں ۔ دن کے فرشتے جاتے ہیں تو شام کے آجاتے ہیں ،شام کے جاتے ہیں تو دن کے آجاتے ہیں ۔ (تفسیر احسن البیان)
اللہ تعالی اپنے بندوں پہ کس قدر مہربان ہے کہ دل میں پیدا ہونے والے غلط خیالات معاف کردیتا ہے مگر کسی نے نیکی کا ارادہ کیا اور نہ کرسکا پھر بھی نیکی لکھ دی جاتی ہے ۔سبحان اللہ العظیم
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إن الله تجاوز عن أمتي ما حدَّثت به أنفسَها ما لم تعمل أو تتكلم ۔(رواه البخاري :4968 ومسلم :127 ) .
ترجمہ : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالی میری امت سے اس وقت تک درگذر کردیا ہے جو اس کے دل میں (برا) خیال پیدا ہوتا ہے جب تک کہ اس پہ عمل نہ کرے یا بول نہ دے۔
اور دوسری حدیث ہے :
يقول اللهُ : إذا أراد عبدي أن يعمل سيئةً فلا تكتُبوها عليه حتى يعملَها ، فإن عملَها فاكتبوها بمثلِها ، وإن تركها من أجلي فاكتبوها له حسنةً ، وإذا أراد أن يعملَ حسنةً فلم يعملْها فاكتبوها له حسنةً ، فإن عملَها فاكتبوها له بعشرِ أمثالِها إلى سبعمائةِ ضِعفٍ(صحیح بخاری : 7501)
ترجمہ : حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " اللہ تعالی (فرشتوں سے ) فرماتا ہے کہ : جب میرا کوئی بندہ برائی کرنے کا ارادہ کرے تو اسے اس کے خلاف اس وقت تک نہ لکھو جب تک کہ وہ اس سے سرزد نہ ہوجائے ۔ اگر وہ اس برائی کا ارتکاب کرلے تو اسے ایک ہی( گناہ ) لکھو ۔ اور اگر اس نے اسے میری خاطر چھوڑ دیا تو اس اس کے لیے ایک نیکی لکھ دو ، اور جب وہ نیکی کرنے کا ارادہ کرے لیکن اسے نہ کر سکے تو اس کے حصے میں ایک نیکی لکھ دو، پھر اگر وہ وہ نیکی کرلے تو اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک لکھو ۔
ایک اور حدیث میں مذکور ہے:
عن أبي أمامة : أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إن صاحب الشمال ليرفع القلم ست ساعات عن العبد المسلم المخطئ ، فإن ندم واستغفر الله منها ألقاها ، وإلا كتبت واحدة .(رواه الطبراني في المعجم الكبير 8 / 158 ) .
ترجمہ : ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بائیں طرف والا غلطی کرنے والے مسلمان سے چھ گھنٹے تک قلم اٹھائے رکھتا ہے تو اگر وہ اپنے کئے پر نادم ہو اور اللہ تعالی سے استغفار کرے اسے ختم کر دیتا ہے اگر نہ کرے تو ایک گناہ لکھتا ہے ۔
٭ اس حدیث کو علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح الجامع ( 2/212) میں صحیح کہا ہے ۔
یقینا اللہ تعالی بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ۔
 
Top