ذیشان خان

Administrator
کیا شہدا وفات پا چکے ہیں؟

✍
فاروق عبد اللہ نراین پوری

ایک بار قرآن کریم میوزیم میں زائرین کی راہنمائی کر رہا تھا، میں نے شہدا کے لیے وفات کا لفظ استعمال کیا، اونچی ٹوپی والے گروپ کے ایک صاحب نے اعتراض کیا: کیا شہدا وفات پا چکے ہیں؟
میں نے کہا: اگر میں بھی شہید ہونا چاہوں تو کیا کرنا پڑےگا؟
بولے: دشمنوں سے جہاد کرنا پڑےگا۔
میں نے کہا: اگر دشمنوں کو میں قتل کر دوں تو شہید ہو جاؤں گا؟
بولے: نہیں، اگر وہ آپ کو قتل کر دیں تو شہید کہلائیں گے۔
میں نے کہا: یعنی شہید ہونے کے لیے مرنا ضروری ہے؟
انھیں اپنے اعتراض کا معقول جواب مل چکا تھا۔
بولے: بات تو آپ کی صحیح ہے۔ بغیر وفات کے کوئی کیسے شہید ہوگا۔ لیکن ان کو صرف ایک لمحے کے لیے موت آتی ہے۔
میں نے کہا: میرے بھائی۔ ابھی تو آپ لفظ وفات سن کر ہی بگڑ رہے تھے، اب قبول کر رہے ہیں کہ ان کو بھی موت آتی ہے، گرچہ ایک لمحہ کے لیے ہی ابھی قبول کر رہے ہیں۔ اگر کتاب وسنت کے نظریے سے سوچیں گے تو پورے طور پر بھرم سے باہر نکل جائیں گے۔ ان شاء اللہ۔
 
Top