ذیشان خان

Administrator
ايسے محدثین جن سے مؤلفین کتب ستہ نے بلا واسطہ روایت کی ہے

✍ فاروق عبداللہ نراین پوری

استاد محترم فضیلۃ الشیخ عبد المحسن العباد – حفظہ اللہ ومتعہ بالصحہ والعافیہ – اپنے کتب حدیث کے دروس میں روات حدیث کے مختصر تعارف کا خصوصی اہتمام کرتے ہیں اور ان کے متعلق گاہے گاہے نہایت ہی اہم ونادر فوائد سے طلبہ کو نوازتے رہتے ہیں۔ شیخ کے دروس میں التزام کے ساتھ شریک ہونے والا طالب گوناگوں علمی فوائد کے علاوہ بغیر کسی اضافی محنت کے بے شمار روات حدیث کے حالات زبانی یاد کر سکتا ہے۔سند میں جب بھی کسی راوی کا نام آتا ہےشیخ یہ ضرور بتاتے ہیں کہ کتب ستہ کے مصنفین میں سے کس کس نے اس سے روایت کی ہے۔ اور جب کسی ایسے راوی کا نام آتا ہے جس سے کتب ستہ کے تمام مصنفین نے براہ راست روایت کی ہے تو ان تمام روات کا نام ذکر کرتے ہیں جنھیں یہ شرف حاصل ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علم حدیث سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ان تمام روات کااختصار کے ساتھ تذکرہ کر دیا جائے۔
یہ شرف پانے والے روات کی کل تعداد نو ہے۔ ذیل میں ان تمام روات کے اسمائے گرامی کے ساتھ ساتھ بطور دلیل ہر کتاب سے ایک ایک حدیث کا حوالہ دیا جا رہا ہے جہاں کتب ستہ کے مصنفین نے ان سے ڈائریکٹ روایت کی ہے۔
(۱)عبد الله بن سعيد بن حصين الكندي، أبو سعيد الأشج الكوفي
صحیح بخاری (حدیث نمبر۷۱۱۹)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۱۵۶۰)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۱۹۷۳)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۵۲۶)، سنن نسائی (حدیث نمبر۹۰۷)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۱۹۵۶)
(۲)محمد بن معمر بن ربعي القيسي، أبو عبد الله البصري، البحراني
صحیح بخاری (حدیث نمبر۹۲۳)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۲۴۵)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۲۱۲۹)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۳۰۵۶)، سنن نسائی (حدیث نمبر۵۲۰۴)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۳۱۳۶)
(۳)نصر بن علي بن نصر الأزدي الجهضمي أبو عمرو الصغير
صحیح بخاری (حدیث نمبر۴۵۵۲)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۲۷۸)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۲۳۱۴)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۷۱۲)، سنن نسائی (حدیث نمبر۲۱۳۱)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۵۸۵)
(۴)يعقوب بن إبراهيم بن كثير مولاهم، أبو يوسف الدورقي
صحیح بخاری (حدیث نمبر۱۱۹۱)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۶۵۷)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۲۳۰۲)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۲۸۹)، سنن نسائی (حدیث نمبر۱۱۶۲)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۱۱۶۴)
(۵)عمرو بن علي بن بحر بن كنيز، أبو حفص الفلاس الصيرفي الباهلي البصري
صحیح بخاری (حدیث نمبر۶۸۸۶)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۱۷۹/۲۵۱۱)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۲۴۳)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۲۳۱۳)، سنن نسائی (حدیث نمبر۱۵۵۳)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۶۱۳)
(۶)محمد بن العلاء بن كريب الهمداني، أبو كريب الكوفي (مشهور بكنيته)
صحیح بخاری (حدیث نمبر۱۰۵۹)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۴۹)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۲۵۸۷)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۴۸۲)، سنن نسائی (حدیث نمبر۳۵۷۴)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۲۰۰)
(۷)محمد بن بشار بن عثمان العبدي، أبو بكر البصري، بندار
صحیح بخاری (حدیث نمبر۶۶۰)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۸۷۵)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۵۱۰)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۲۷۰)، سنن نسائی (حدیث نمبر۱۱۳۴)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۳۲۰۱)
(۸)محمد بن المثنى بن عبيد بن قيس بن دينار العنزي، أبو موسى البصري
صحیح بخاری (حدیث نمبر۱۲۹۹)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۳۴۹)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۳۰۷۳)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۱۰۸)، سنن نسائی (حدیث نمبر۴۲۰۵)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۷۸۴)
(۹)زياد بن يحيى بن زياد بن حسان بن عبد الله، أبو الخطاب الحساني النكري العدني
صحیح بخاری (حدیث نمبر۲۶۵۷)، صحیح مسلم (حدیث نمبر۱۰۵۸)، سنن ابی داود (حدیث نمبر۳۷۵۸)، جامع ترمذی (حدیث نمبر۱۹۶۰)، سنن نسائی (حدیث نمبر۱۲۸۶)، سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر۲۱۹۹)
شیخ محمد بن علی بن آدم اثیوبی رحمہ اللہ نے ”ذخيرة العقبى في شرح المجتبى“(۱/۵۸۵) میں ان جلیل القدر خوش نصیب محدثین کوچندا شعار میں اس طرح جمع کیا ہے:
اشْتَرَكَ الأئمَّةُ الهُدَاةُ …………………….. ذَوُو الأصُول السِّتَّة الوُعَاةُ
في تسْعَة منَ الشُّيُوخ المَهَرَهْ … ……………. البَارعينَ النَّاقدينَ البَرَرَه
أولئكَ الأشَجُّ وابنُ مَعْمَر . …………….. نَصْرٌ ويَعْقُوبُ وعَمْروٌ السَّري
وابنُ العَلاء وابنُ بَشَّار كَذَا … ……………. ابنُ المُثَنَّى وزيَادٌ يُحْتَذَى
اور بھی دوسرے علما نے ان محدثین کو اشعار میں جمع کرنے کااہتمام کیا ہے لیکن ان کے یہاں بعض ناموں میں قدرے اختلاف ہے۔ چنانچہ حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
بندارٌ ابنُ المثنى الجهضميُّ أبو ………… سعيدِ عمرٌو وقيسي وحساني
يعقوبُ والعنبري الجوهريُّ هم ……….. مشايخُ الستة اعرِفهم بإحسانِ
[فتح المغیث للسخاوی :۳/۳۴۵-۳۴۶]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان محدثین میں جوہری (جن کانام ہے:إبراهيم بن سعيد الجوهرى، أبو إسحاق بن أبى عثمان البغدادى الطبرى)اور عنبری (جن کا نام ہے: عباس بن عبد العظیم العنبری) کو بھی شامل کیا ہے،نیز ان کے یہاں ان کی تعداد دس ہے، نو نہیں۔
لیکن صحیح یہ ہے کہ امام بخاری نےجوہری سے روایت نہیں کی ہے۔ ان کی کوئی روایت صحیح بخاری میں نہیں ملتی۔ حافظ سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَالْجَوْهَرِيُّ لَمْ تَقَعْ رِوَايَةُ الْبُخَارِيِّ عَنْهُ فِي صَحِيحِهِ صَرِيحًا [فتح المغيث بشرح الفيۃ الحديث:۳/۳۴۶]
(امام بخاری کی ”صحیح“ میں صراحت کے ساتھ ان کی جوہری سے روایت موجود نہیں)
اور حافظ مزی نے بھی تہذیب الکمال میں ان کے شاگردوں میں امام بخاری کا نام ذکر نہیں کیا ہے۔ان کے سوانح میں شاگردوں کا ذکر کرتے ہوئےفرماتے ہیں:
رَوَى عَنه الجماعة سوى البخاري [تہذيب الكمال فی اسماء الرجال:۲/۹۶]
(ان سے جماعت یعنی کتب ستہ کے تمام مصنفین نے روایت کیا ہے سوائے بخاری کے)
حافظ زرکشی نے بھی ”النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح“(۱/۱۶۱-۱۶۲) میں ان محدثین کا ذکر کیا ہے جن سے کتب ستہ کے تمام مصنفین نے براہ راست روایت کیا ہے لیکن انھوں نے بھی جوہری کا نام ذکرنہیں کیا ہے۔ لہذا اس ضمن میں جوہری کا نام ذکر کیا جانا صحیح نہیں۔ واللہ اعلم
اسی طرح عباس بن عبد العظیم العنبری کا نام بھی اس ضمن میں ذکر کرنا صحیح نہیں، کیونکہ ان سے امام بخاری نے موصولًا نہیں، تعلیقًا روایت کیا ہے۔
امام زرکشی رحمہ اللہ ان کا نام ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
وعباس بن عبد العظيم العنبري إلا أن رواية البخاري عنه تعليق[النكت على مقدمۃ ابن الصلاح للزركشی:۱/۱۶۲]
(ان محدثین میں عباس بن عبد العظیم عنبری بھی ہیں لیکن ان سے بخاری کی روایت تعلیقًا ہے)
اس لیے جب ابن ناصر الدین دمشقی رحمہ اللہ نے ان محدثین کا نام ذکر کیا تو عباس بن عبد العظیم کا نام ذکر نہیں کیا، ان کے اشعار اس طرح ہیں:
روى خ م د ت ن ق عَن مَشَايِخ عشرَة … هم الْعَنزي الْجَهْضَمِي ابْن معمر
وَبُنْدَار وَالْفَلَّاس يَعْقُوب دورق …….. اشج زِيَاد ابْن الْعَلَاء وجوهري
[توضیح المشتبہ لابن ناصر الدین الدمشقی:۱/۳۸۸]
البتہ انھوں نے بھی جوہری کو ذکر کرنے میں حافظ ذہبی کی موافقت کی ہے جو کہ صحیح نہیں، جیسا کہ ابھی بیان کیا گیا۔
نیز حافظ ذہبی نے ابو کُرَیب محمد بن العَلَاء بن کُرَیب کا نام چھوڑ دیا ہے، حالانکہ ان سے کتب ستہ کے تمام مصنفین نے براہ راست روایت کی ہے، جیسا کہ ابھی اوپر ہر کتاب سے حدیث نمبر کے حوالے کے ساتھ بیان کیا گیا۔
اسی لیے بدر بن سلامہ نے ان پر استدراک کرتے ہوئے کہا ہے:
وأبو كريب رووا عنه بأجمعهم ………… والفيريابي قل شيخ لهم ثانِ
[فتح المغيث بشرح الفيۃ الحديث للسخاوی:۳/۳۴۶]
لیکن انھوں نے ابو کُرَیب کے ساتھ فریابی (محمد بن يوسف بن واقد بن عثمان الضبي مولاهم، أبو عبد الله الفريابي) کو بھی شمار کرنے کی بات کی ہے، جب کہ فریابی کو اس لسٹ میں شمار کرنا صحیح نہیں۔ ان سےصرف امام بخاری نے براہ راست روایت کی ہے،جب کہ باقی پانچوں نے بالواسطہ۔
ان تمام محدثین سے براہ راست روایت کرنے میں کتب ستہ کے مصنفین کے ساتھ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ بھی شریک ہیں۔ انھوں نے ان تمام محدثین سے اپنی ”صحیح“ میں براہ راست روایت کی ہے۔ بلکہ جوہری اور عنبری جن کے متعلق ابھی گزرا کہ ان سے کتب ستہ کے تمام مصنفین نے براہ راست روایت نہیں کی ہے ان سے بھی ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے براہ راست روایت کی ہے۔ اس سے ابن خزیمہ رحمہ اللہ کے اسانید عالیہ کا پتہ چلتا ہے۔ اور وہ اس باب میں معروف بھی ہیں۔ ان کی اسانید ان کے ہم عصر دوسرے محدثین کی بہ نسبت کافی عالی ہیں۔
 
Top