ذیشان خان

Administrator
کیا پیروں، بزرگوں اور اولیائے کرام سے کچھ مانگنا عقل مندی ہے؟

✍
فاروق عبد اللہ نراین پوری

عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی میت کو دفن کرکے فارغ ہوتے تو فرماتے: «استغفروا لأخيكم، وسلوا له بالتثبيت، فإنه الآن يسأل»
(تم لوگ اپنے بھائی کے لئے -اللہ تعالی سے- مغفرت طلب کرو، ان کی ثابت قدمی کا سوال کرو، ابھی ان سے سوال کیا جائےگا)۔ (سنن ابی داود 3221)۔
ذرا غور فرمائیں !!!!
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جن کے لئے اللہ سے مانگنے کا حکم دے رہے تھے یہ کون تھے؟
یہ کون تھے جو اپنی وفات کے بعد اپنی قبروں میں لوگوں کی دعاؤوں کے محتاج تھے؟
یہ صحابہ کرام تھے جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم دفن کرنے کے بعد لوگوں کو ان کے لئے اللہ تعالی سے مانگنے کا حکم دیتے تھے۔
اگر ایک صحابی خود دوسروں کی دعاؤوں کا محتاج ہو تو ہے کوئی ایسا پیر، ولی، بزرگ، خواجہ، غریب نواز جو ان سے بھی بڑے ہوں اور اپنی وفات کے بعد دوسروں کی دعاؤوں کے محتاج نہ ہوں، بلکہ لوگوں کی محتاجگی دور کر سکتے ہوں؟
میرے بھائیو! وہ خود ہماری دعاؤوں کے محتاج ہیں۔ اور محتاج کے سامنے اپنی محتاجگی دور کرنے کی درخواست کرنا کوئی عقل مندی نہیں ہو سکتی۔
اللہ تعالی ہمیں راہ راست کی ہدایت دے۔
 
Top