ذیشان خان

Administrator
کیا قیامت میں آدمی کو اس کی ماں کے نام سے پکارا جائے گا؟

================
مقبول احمد سلفی
یہ بات عوام میں کافی مشہور ہوگئی ہے ، آئیے اس کی حقیقت دیکھتے ہیں ۔
اس کو سمجھنے کے لئے یہ پہلے دیکھنا پڑے گا کہ آدمی دنیا میں کس سے پکارا جاتا تھا؟
چنانچہ یہ بات بدیہی ہے کہ دنیا میں لوگ باپ کے نام سے ہی پکارے جاتے ہیں ، رجسٹر پہ ، فائل میں ، معاملات میں اور دنیا کے تمام تر مشاغل میں باپ کا نام استعمال کیا جاتا ہے اور یہ حکم قرآن کا بھی ہے ۔
(1) ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ ۔(احزاب:5)
لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ ۔
اور حدیث پاک میں غیر باپ کی طرف نسبت کرنے والوں پہ جنت کی حرمت بتلائی گئی ہے ۔
(2) من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم فالجنة عليه حرام(رواہ البخاری ومسلم)
ترجمہ : نبی ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے باپ کے علاوہ کسی کی طرف اپنے اپ کو منسوب کیا جب کہ وہ جانتا ھو کہ اس کاباپ نہیں ھے اس پر جنت حرام ہے۔
(3) لا ترغبوا عن آبائكم فمن رغب عن أبيه فهو كفر(بخاري 6786)
ترجمہ : اپنے آباء و اجداد سے اعراض نہ کرو! جس نے اپنے باپ کے علاوہ کس دوسرے کی طرف نسبت کی اس نے کفر کیا۔
پتہ یہ چلا کہ دنیامیں لوگ والد کی نام سے پکارے جاتے تھے تو یہی حکم وفات کے بعد بھی باقی رہے گا یعنی وفات کے بعد بھی ہر جگہ والد کے نام سے ہی پکارا جائے گا۔ چنانچہ اس کے صریح دلائل بھی ہیں۔
پہلی دلیل :
عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْغَادِرَ يُرْفَعُ لَهُ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ( صحیح بخاری کتاب الادب: 6177)
ترجمہ : ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کہ نبی ﷺ نے فرمایاقیامت کے دن دغا باز کی سرین پر جھنڈا لگایا جائے گا جس پر لکھا ہوگا کہ اس نے فلاں بن فلاں سے غدر کیا تھا۔
دوسری دلیل :
إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم، فحسنوا أسماءكم۔(ابوداؤد)
ترجمہ: نبی ﷺ نے فرمایاکہ تم لوگ قیامت کے دن اپنے باپوں کے نام سے پکارے جاؤگے تو اپنا نام اچھا رکھو۔
٭ اس حدیث کی سند جید ہے ۔
بعض لوگ ایک ضعیف حدیث سے دلیل پکڑتے ہیں کہ لوگوں کو قیامت کے دن ماں کے نام سے پکارا جائے گا۔ حدیث دیکھیں :
الناس یوم القیامة بامھاتھم سترا من اللہ عز وجل علیھم(الآلی المصنوعۃ للسیوطی : ۴۴۹/۲ نقلہ عن الطبرانی)
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ : "بے شک اللہ تعالیٰ لوگوں کو قیامت کے دن اُن کی ماؤں (کے نام) سے پکارے گا تاکہ اس کے بندوں کی پردہ پوشی رہے۔
٭ اس حدیث کو شیخ البانی نے موضوع اور باطل قرار دیا ہے ، تفصیل کے لئے مذکورہ حدیث کے تحت دیکھیں السلسلہ الضعیفہ۔
قرآن کی ایک آیت سے بھی ماں کے نام سے پکارے جانے کی دلیل پکڑی جاتی ہے ۔
یوم ندعوکل اناس بامامھم﴿ (الاسرائ: 7)
ترجمہ: جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
یہاں امام سے مراد ماں لیتے ہیں جو کہ غلط ہے ۔
مذکورہ باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو قیامت کے دن بھی باپ کے نام سے پکارا جائے گا جیساکہ دنیا میں پکارا جاتا تھا، جو لوگ اس کے خلاف بات کرتے ہیں ان کے پاس کوئی صحیح اور ٹھوس دلیل نہیں ہے ۔
واللہ اعلم
 
Top