ذیشان خان

Administrator
حدیث «إن الله وَضَعَ عن المُسافِر الصَّومَ، وشَطْرَ الصَّلاة، وعن الحامِل أو المُرْضِعِ الصَّومَ» میں دلالت اقتران کی حیثیت

✍️
فاروق عبد اللہ نراین پوری

انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم، وشطر الصلاة، وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام"۔
یہ حدیث بہت ساری کتب حدیث میں موجود ہے، مذکورہ الفاظ امام ترمذی کے ہیں۔ (جامع ترمذی، 3/85، ح715)۔
امام ترمذی نے اسے روایت کرنے کے بعد حسن کہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی حسن کہا ہے، لیکن مخالفت کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ (موافقۃ الخبر الخبر، 2/43)۔
امام منذری نے امام ترمذی کی تحسین نقل کی ہے اور اس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے، شیخ البانی وشیخ اثیوبی وغیرہما نے بھی اسے حسن کہا ہے۔
حالانکہ اس کی سند ومتن میں شدید اضطراب ہے، جسے بہت سارے علما نے بیان کیا ہے۔ امام نسائی اور بیہقی رحمہما اللہ نے اپنی ”سنن“ میں اس کی سند ومتن میں اضطراب کی طرف اشارہ کیاہے۔ (دیکھیں: سنن نسائی، 4/180, والسنن الکبری، 4/231، ومعرفۃ السنن والآثار، 3/379-380)۔
یہی معاملہ امام ابو حاتم رازی کا ہے۔ (دیکھیں: العلل لابن ابی حاتم، 1/266)۔
جب کہ امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللہ نے اس کی صراحت کی ہے، فرماتے ہیں: "قد اضطربت الرواية في هذا الحديث"۔ (المعرفہ والتاريخ، 2/ 279)
امام ابن الترکمانی فرماتے ہیں:
بَيَّن البيهقي في هذا الباب اضطراب سند هذا الحديث، وقد بَيَّنَّا في باب صلوة المسافر اضطراب متنه أيضًا، وبسطنا الكلام عليه هناك، وعلى تقدير سلامته من الاضطراب ليس هو بمطابق لهذا الباب إذ حقيقة وضع الصيام عنهما أن لا قضاء عليهما كما أنه لا كفارة. (الجوهر النقي، 4/231)۔
شیخ احمد بن محمد بن صدیق الغماری فرماتے ہیں: "هذا الحديث وقع فيه اضطراب شديد في السند والمتن". (المداوي لعلل الجامع الصغير وشرحي المناوي، 2/318)۔
شیخ اثیوبی فرماتے ہیں: "اعلم أن هذا الحديث مضطرب اضطرابًا شديدًا، وقد بيَّن المصنّف -رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى- ذلك فيما ساقه من هذه الروايات في هذا الباب"۔ (ذخيرة العقبى في شرح المجتبى، 21/176)۔
(جان لو کہ یہ حدیث سخت قسم کی مضطرب حدیث ہے۔ اور امام نسائی نے اس باب کی احادیث ذکر کرتے ہوئے اسے بیان بھی کیا ہے۔)
اس کے باوجود شیخ اثیوبی نے امام ترمذی کی تحسین پر ہی اپنی موافقت ظاہر کی ہے۔
شیخ حماد انصاری نے ”تحفۃ السائل عن المرضع والحامل“ (ص106) میں اسے ضعیف کہا ہے، اور امام ترمذی کی تحسین پر تعقب بھی کیا ہے۔
امام ابو حاتم رازی نے اس کے بعض طرق کو بیان کرنے کے بعد ایک طریق کو راجح قرار دیاہے، فرماتے ہیں: "والصحيح ما يقوله أيوب السختياني عن أبي قلابة عن أنس بن مالك القشيري". (العلل لابنه, 1/266).
اس حدیث کی سند ومتن پر غور کرنے سے اس کا اضطراب بالکل واضح ہو جاتا ہے۔
✿ یہ حدیث کئی مختلف طرق سے مروی ہے، لیکن مشہور طرق دو ہیں:
● پہلا: ابو ہلال الراسبی عن عبد اللہ بن سوادہ القشیری عن انس بن مالک الکعبی
ابو ہلال الراسبی سے ان کے دس سے زائد تلامذہ نے اسے روایت کی ہے۔ اور ان کے الفاظ میں شدید اختلاف ہے۔ چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
■ 1 - إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم، وشطر الصلاة، وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام ".
یہ امام ترمذی کے الفاظ ہیں۔ امام بغوی نے ان ہی کے طریق سے روایت کی ہے، لیکن ان کے یہاں الفاظ اس طرح ہیں:
■ 2 – «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاةِ، وَعَنِ الْحَامِلِ، وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ».
اس میں مسافر سے روزہ ساقط ہونے کی بات ہی نہیں آئی ہے۔ اگر دلالت اقتران سے یہاں استدلال کیا گیا تو نتیجہ نکلےگا کہ جس طرح مسافر سے آدھی نماز کی قضا کا بعد میں مطالبہ نہیں کیا جائےگا اسی طرح حاملہ ومرضعہ سے بھی مطالبہ نہیں کیا جائےگا۔
امام ترمذی نے وکیع کے طریق سے یہ حدیث روایت کی ہے۔ لیکن وکیع سے ہی مروی دوسری کتابوں میں اس کے الفاظ دوسرے ہیں۔
■ 3 - «إن الله عز وجل وضع شطر الصلاة عن المسافر، ووضع الصوم أو الصيام عن المريض والحبلى والمرضع».
یہ ہدبہ بن خالد کے الفاظ ہیں، ابن ابی عاصم نے ڈائرکٹ ان سے روایت کی ہے۔ اس میں بھی مسافر سے صرف آدھی نماز کے سقوط کی بات ہے، روزہ کے سقوط کی نہیں۔ اور حاملہ ومرضعہ کے ساتھ مریض کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
ہدبہ بن خالد کے طریق سے ہی امام طبرانی نے بھی المعجم الکبیر میں روایت کی ہے اور وہاں لفظ کچھ یوں ہے:
■ 4 – «إن الله وضع شطر -أو نصف- الصلاة عن المسافر، ووضع الصوم -أو الصيام- عن المسافر، والمريض، والحامل».
اس میں بھی پہلے جملے میں مسافر سے صرف آدھی نماز کے سقوط کی بات ہے، روزہ کے سقوط کی نہیں۔ لیکن دوسرے جملے میں مرضعہ کے بدلے مسافر کا ذکر ہے، اور اس میں بھی مریض کا ذکر ہے۔
امام طبرانی نے یہ لفظ ابو ہلال الراسبی کے اور تین شاگردوں سے روایت کی ہے: ابو نعیم، کامل بن طلحہ الجحدری اور شیبان بن فروخ۔
جب کہ شیبان بن فروخ سے دوسرے لوگوں نے روایت کی ہے اور ان کے یہاں لفظ کچھ دوسرے ہی ہیں۔ مثلا ابو بکر الباغندی ”احادیث شیبان بن فروخ وغیرہ“ (ص15، مخطوط) کے یہاں اس کے الفاظ یہ ہیں:
■ 5 - «إن الله وضع شطر الصلاة أو نصف الصلاة عن المسافر ، ووضع الصوم أو الصيام عن المرضع والحبلى».
اس روایت کے مطابق مسافر سے روزہ کے ساقط ہونے کی بات ہی نہیں ہے، اس سے صرف نماز کے ساقط ہونے کی بات ہے۔
اسی طرح ابو نعیم کی بات ہے، امام طبرانی کے یہاں ان کے الفاظ کچھ ہیں (جسے ابھی ذکر کیا گیا) اور فسوی کے یہاں کچھ اور، فسوی کے یہاں ان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں:
■ 6 - «إن الله وضع عن المسافر نصف الصلاة ووضع عن المسافر الصوم أو الصيام وعن الحبلى والمرضع».
غور کریں! طبرانی کے یہاں مریض کا ذکر تھا، مرضعہ کا نہیں، اور یہاں مرضعہ کا ذکر ہے، مریض کا نہیں۔
■ 7 - «إِنَّ اللهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ " أَوِ الصِّيَامَ».
یہ امام بیہقی کے الفاظ ہیں۔ لیکن امام بیہقی نے اسے روایت کرنے کے بعد اس پر نقد کیا ہے، فرماتے ہیں: كَذَا رَوَاهُ أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ دُونَ ذِكْرِ أَبِيهِ فِيهِ وَرَوَاهُ وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
بطور نمونہ یہ الفاظ ذکر کئے گئے، ورنہ اس کے اور بھی مختلف الفاظ ہیں۔ اس سے بالکل واضح ہے کہ ابو ہلال الراسبی سے اس کے الفاظ ضبط کرنے میں چوک ہوئی ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ علما نے ان کے حفظ وضبط پر کلام کیا ہے۔
گرچہ امام ابو داود نے ان کی توثیق کی ہے۔ ابن معین نے کبھی صدوق، کبھی لیس بہ بأس، اور کبھی صالح لیس بذاک القوی کہا ہے۔
لیکن امام احمد فرماتے ہیں: "يحتمل في حديثه، إلا أنه يخالف في قتادة، وهو مضطرب الحديث".
ابن سعد کا کہنا ہے: فيه ضعف.
امام بخاری اور عقیلی دونوں نے اپنے ”الضعفاء“ میں انہیں ذکر کیا ہے۔
امام نسائی نے ”لیس بالقوی“ اور دارقطنی نے ضعیف کہا ہے۔
ابن عدی نے انہیں ”الکامل فی ضعفاء الرجال“میں ذکر کیا ہے۔ اور ان کے ترجمہ میں کہا ہے: ولأبي هلال غير ما ذكرت، وفي بعض رواياته ما لا يوافقه الثقات عليه، وهو ممن يكتب حديثه۔
واضح رہے کہ ان کے ترجمہ میں ابن عدی نے جن احادیث کا ذکر کیا ہے ان میں سے زیر بحث حدیث بھی ہے۔
امام ابن حبان نے ان کے متعلق مفسر جرح کی ہے، فرماتے ہیں: "كان أبو هلال شيخا صدوقا إلا أنه كان يخطىء كثيرا من غير تعمد حتى صار يرفع المراسيل ولا يعلم وأكثر ما كان يحدث من حفظه فوقع المناكير في حديثه من سوء حفظه".
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں ”صدوق فیہ لین" کہا ہے، جس پر صاحب تحریر التقریب نے تعاقب کرتے ہوئے کہا ہے:
"بل: ضعيفٌ يُعتبر به في المتابعات والشواهد، فقد ضعَّفه يحيى بن سعيد، ويزيد بن زريع، والبخاري، والنسائي، وأبو زرعة الرازي، وابن سعد، وابن حبان، والبزار، والدارقطني. وقال ابن معين: صدوقٌ، ووثقه أبو داود. وقال ابن عدي بعد أن ساق له جملة أحاديث في "الكامل": "ولأبي هلال غير ما ذكرت، وفي بعض رواياته ما لا يُوافقه الثقات عليه، وهو ممن يكتب حديثه" (كأنه يعني في المتابعات والشواهد). وقد طلب أبو حاتم تحويله من كتاب "الضعفاء" للبخاري، لأنه عنده، والله أعلم، ممن لم يبلغ الضعف الشديد، وهذه عادة له معروفة".
(الطبقات لابن سعد 7/278، سؤالات ابن الجنيد لابن معين ص427، الضعفاء للبخاري ص102, سؤالات الآجري لأبي داود 2/161، الضعفاء للنسائي ص231، الضعفاء للعقيلي 4/74، الكامل لابن عدي 6/2221، الجرح والتعديل 5/77، المجروحين لابن حبان (2/283), تعليقات الدارقطني على المجروحين لابن حبان, ص246, تهذيب الكمال 9/168، تهذيب التهذيب 5/247، التقریب، ص481، تحریر تقریب التہذیب، 3/250)
علما کے ان اقوال سے واضح ہے کہ ان کے حفظ کے اندر کافی خلل تھا، وہ مضطرب الحدیث تھے، جس سے ان کی احادیث کے اندر مناکیر داخل ہو گئیں۔ اور اس حدیث کے اندر الفاظ کے شدید اختلاف سے بالکل واضح ہے کہ خصوصا اس حدیث کو ضبط کرنے میں ان سے کافی چوک ہوئی ہے۔ اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ اس کا صحیح لفظ کون سا ہے۔ جنہوں نے اس حدیث کی تحسین کی ہے انہوں نے بھی یہ تعیین نہیں کی کہ اس کا ثابت شدہ لفظ کون سا ہے۔
● دوسرا طریق: اس کی سند کے اندر شدید اختلاف ہے۔
بعض طرق میں ”أيوب، عن أبي قلابة، عن أنس بن مالك القشيري“ ہے۔
بعض میں ”أيوب، عن أبي قلابة، عن رجل من بني عامر، عن أنس“ ہے۔
بعض میں ”عن أبي قلابة، عن رجل من بني عامر أن رجلا منهم أتى النبي صلى الله عليه وسلم“ ہے۔
بعض میں ”أيوب السختياني عن رجل من بني عامر عن رجل من قومه“ ہے۔
بعض میں ”حماد عن الجريري عن أبي العلاء عن رجل من قومه“ ہے۔
بعض میں ”يحي بن أبي كثير قال: حدثني أبو قلابة الجرمي قال: حدثني أبو أمية أو أبو المهاجر عن أبي أمية“ ہے۔
بعض میں ”عن أبي قلابة عن عبيد الله بن زيادة عن أبي أمية أخي بني جعدة“ ہے۔
امام ابو حاتم رازی نے ان میں سے پہلے طریق کو صحیح کہا ہے۔
اس کے الفاظ کے اندر بھی شدید اختلاف ہے۔ بعض نمونے ملاحظہ فرمائیں:
■ 1 - «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ شَطْرَ الصَّلَاةِ عَنِ الْمُسَافِرِ, وَالصَّوْمَ عَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ».
اس میں مسافر کے روزے کا کوئی ذکر نہیں۔
■ 2 - «إن الله وضع عن المسافر والحامل والمرضع الصوم وشطر الصلاة».
اس میں مسافر، حاملہ ومرضعہ کے روزے اور آدھی نماز دونوں کے معاف ہونے کی بات ہے۔
■ 3 - «وشطر الصلاة عن الحبلى».
اس میں حاملہ کی آدھی نماز کے ساقط ہونے کی بات ہے۔ اور ایوب السختیانی سے اس لفط کو شعبہ نے روایت کی ہے۔ (المعرفہ والتاريخ، 2/469)۔
اس کے علاوہ بھی متعدد الفاظ مروی ہیں جن میں نکارت بالکل واضح ہے۔
اب جس کے الفاظ میں اس قدر شدید اضطراب ہو اس کے سیاق اور اقتران سے استدلال کہاں تک درست ہو سکتا ہے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
اگر تسلیم بھی کر لیا جائے کہ یہ صحیح یا حسن درجے کی حدیث ہے جیسے کہ بعض علما نے کہا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان میں سےکون سا لفظ ثابت ہے؟ تمام مروی الفاظ یا بعض خاص الفاط؟
یقینا کوئی بھی تمام مروی الفاظ کو علی الاطلاق ثابت شدہ نہیں کہہ سکتا ورنہ حاملہ ومرضعہ سے بھی آدھی نماز کے سقوط کو قبول کرنا لازم آئےگا، کیونکہ بعض الفاظ میں اس کی صراحت ہے۔
واضح رہے کہ اس حدیث سے قضا وفدیہ دونوں کے قائلین استدلال کرتے ہیں۔ لیکن صحیح ماننے کی صورت میں در اصل یہ قضا کے قائلین کے خلاف حجت ہے، ان کے لئے نہیں۔
فدیہ کے قائلین کا استدلال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مسافر اور حاملہ ومرضعہ سے روزے کو معاف ہونے کی صراحت کی ہے۔ اس حدیث کا منطوق صرف ”وضع“ یعنی سقوط صوم ہے۔ اس میں قضا یا فدیہ کی سرے سے کوئی بات ہی نہیں کی گئی ہے۔ اور آیت ”وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین“ اور عبد اللہ بن عباس وعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے آثار سے پتہ چلتا ہے کہ ان پر صرف فدیہ ہے، قضا نہیں۔ ان دونوں دلیلوں پر مفصل بحث آگے آرہی ہے ان شاء اللہ۔
علامہ ابن الترکمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وعلى تقدير سلامته من الاضطراب ليس هو بمطابق لهذا الباب، إذ حقيقة وضع الصيام عنهما أن لا قضاء عليهما كما أنه لا كفارة"۔ (الجوهر النقي، 4/231)۔
(اگر مان لیا جائے کہ اس میں اضطراب نہیں، پھر بھی یہ حدیث باب سے مطابقت نہیں رکھتی، کیونکہ ان دونوں سے سقوط صیام کی حقیقت یہ ہے کہ نہ ان پر قضا ہو، نہ کفارہ)۔
در حقیقت یہی اس حدیث کا صحیح مفہوم ہے جو علامہ ابن الترکمانی نے بیان کیا ہے۔ واضح رہے کہ وہ حنفی المسلک ہیں، بلکہ متعصب قسم کے حنفی ہیں جسے میں نے اپنے ایک مقالہ ”التعريف بابن التركماني وكتابه الجوهر النقي“ میں بیان کیا ہے، اور احناف کے یہاں حاملہ ومرضعہ پر صرف قضا ہے فدیہ نہیں۔ امام بیہقی نے انہیں کے موافق یہاں باب قائم کیا ہے، امام بیہقی کی تبویب ہے: "بَابُ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ لَا تَقْدِرَانِ عَلَى الصَّوْمِ أَفْطَرَتَا وَقَضَتَا بِلَا كَفَّارَةٍ كَالْمَرِيضِ"۔ اس تبویب سے احناف کے مسلک کی ہی تائید ہو رہی ہے، اس کے باوجود علامہ ابن الترکمانی نے صاف گوئی کے ساتھ کہا ہے کہ یہ حدیث اس باب کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ اس حدیث سے صرف یہ سمجھ میں آتا ہے کہ ان سے روزے ساقط ہیں، نہ قضا کی اس میں بات کی گئی ہے، نہ کفارہ کی۔
جہاں تک مسافر کا مسئلہ ہے کہ اس پر قضا واجب ہے تو اس پر قضا کے وجوب کے لئے یہ حدیث دلیل نہیں ہے، دوسری دلیل سے یہ استدلال ہے۔ اگر مسافر پر قضا کے وجوب کے لئے کوئی دوسری دلیل نہ ہوتی، صرف یہی ایک حدیث ہوتی تو کیا صرف اس حدیث سے مسافر کے لئے قضا کو واجب کیا جا سکتا تھا؟
قطعا نہیں۔
اس کا صاف مطلب یہ کہ یہ حدیث کسی کے لئے بھی قضا کے وجوب پر دلالت نہیں کرتی، نہ مسافر کے لئے، نہ حاملہ ومرضعہ کے لئے۔ اس لئے اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کسی کو بھی قضا کا حکم دینا صحیح نہیں، کیونکہ اس میں صرف سقوطِ صوم کی بات آئی ہے، قضا کی نہیں۔
اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن حزم رحمہ اللہ نے قضا وفدیہ دونوں کی نفی کی ہے، کیونکہ حدیث میں صرف سقوط کی بات آئی ہے، قضا یا فدیہ کی نہیں۔
لیکن فدیہ کے وجوب کے لئے چونکہ آیت ”وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین“ موجود ہے جو کہ حاملہ ومرضعہ کے حق میں محکم ہے (تفصیلات آگے آرہی ہیں) اس لئے فدیہ کا انکار صحیح نہیں۔ البتہ قضا کے لئے چونکہ کوئی دوسری دلیل نہیں اس لئے اس کا انکار برحق ہے۔
✿ اس حدیث سے استدلال میں وجوب قضا کے قائلین کا پورا دار ومدار دلالت اقتران پر ہے۔ دلالت اقتران کا معنی یہ ہے کہ ایک ہی سیاق میں مسافر اور حاملہ ومرضعہ کوبیان کیا گیا ہے، لہذا جو حکم مسافر کا ہوگا وہی حکم حاملہ ومرضعہ کا بھی ہونا چاہئے۔
یہ استدلال ضعیف ہے، کیونکہ جمہور کے نزدیک دلالت اقتران سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔ علمائے اصولیین کی ایک جماعت نے اس کی صراحت کی ہے۔ (دیکھیں: البحر المحیط للزرکشی، 4/297، التمهيد في تخريج الفروع على الأصول للاسنوی، ص 273، التبصرہ للشیرازی، ص229، المسودہ لآل تیمیہ، ص126، المستصفی للغزالی2/42)۔
ہاں بعض جگہوں پر قوی قرائن کی بنیاد پر دلالت اقتران کی حجیت کو تسلیم بھی کیا جاتا ہے۔ شیخ ابو عاصم الشحات البرکاتی اپنی کتاب ”دلالۃ الاقتران ووجہ الاحتجاج بها عند الأصوليين“ (ص: 69) کے آخر میں خلاصۃ البحث میں فرماتے ہیں:
إنَّ دلالةَ الاقترانِ لا تقوى على إثباتِ الأحكامِ وحدها، والراجحُ قولُ الجمهورِ وهو القولُ بضعفِها، وإن كان لا بأسَ من التَّقَوِيَ بها أحياناً لا سيما إذا قامت القرائنُ الدالةُ على ذلك، وقد ظهر معنا في بعضِ الأمثلةِ، أما أن تنفردَ وَحْدَها في إثباتِ الأحكامِ فبعيدٌ جداً، واللهُ أعلمُ.
(دلالت اقتران بذات خود احکام کے اثبات کی قوت نہیں رکھتا، اس میں راجح جمہور کا قول ہے کہ اس کی حجیت ضعیف ہے، گرچہ بسا اوقات اس سے تقویت میں کوئی حرج نہیں خصوصا جب کہ اس پر دلالت کرنے والے قرائن موجود ہوں۔ بعض مثالوں میں ہم نے یہ دیکھا بھی۔ لیکن صرف اس سے احکام ثابت کئے جائیں تو یہ بہت بعید ہے۔ واللہ اعلم۔)
اس لئے ہمیں حدیث انس کو بغور دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہاں قرینہ اس استدلال کی تائید کرتا ہے یا تضعیف؟
پہلے ہی بیان کیا جا چکا ہے کہ اس حدیث کی سند ومتن میں علما نے شدید اضطراب کی بات ہے۔ جنہوں نے اس کی تحسین کی ہے یا اس کے بعض طرق کو صحیح کہا ہے ہم انہیں کے الفاظ پر غور کرتے ہیں، کیونکہ تمام الفاظ کو خود قضا کے قائلین تسلیم نہیں کرسکتے۔
اوپر بیان کیا گیا کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اس حدیث کی تحسین کی ہے، پہلے انہیں کے الفاظ پر غور کرتے ہیں، پھر امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے جس طریق کو صحیح کہا ہے اس طریق کے الفاظ پر بھی غور کریں گے کہ دلالت اقتران یہاں قوی ہے یا انتہائی ضعیف۔
امام ترمذی کے الفاظ یہ ہیں: "إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم، وشطر الصلاة، وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام"۔ (جامع ترمذی، 3/85، ح715)۔
(اللہ تعالی نے مسافر سے روزہ اور اس کی آدھی نماز معاف کر دی ہے، اور حاملہ ومرضعہ سے روزے کو۔)
اس میں ”وضع“ کے سیاق میں مسافر کے روزے، اس کی آدھی نماز، اور حاملہ ومرضعہ کے روزے کو شامل کیا گیا ہے۔
قائلین قضا کے مطابق اس ”وضع“ کا معنی ”وضع فی مدۃ العذر“ ہے۔ یعنی عذر کی مدت میں ساقط ہے، عذر ختم ہونے کے بعد قضا ضروری ہے۔ اگر یہ استدلال اور معنی تسلیم کر لیا جائے تو مسافر سے سفر کی مدت ختم ہونے کے بعد آدھی نماز کی قضا کا بھی مطالبہ کرنا چاہئے۔ کیونکہ ایک ہی سیاق میں اسے بھی بیان کیا گیا ہے، اور اقتران اسے بھی شامل ہے۔
بالکل ایک ہی سیاق میں ”شطر الصلاۃ“ کا بھی موجود ہونا بہت بڑا قرینہ ہے کہ یہاں ”وضع“ کا معنی ”وضع فی مدۃ العذر“ نہیں ہے، اس لئے جن علما نے یہ معنی بیان کیا ہے ان کی تشریح محل نظر ہے۔
نیز”شطر الصلاۃ“ کا موجود ہونا اس بات پر بھی قوی قرینہ ہے کہ یہاں سیاق میں جن چیزوں کو بیان کیا گیا ہے سب کا حکم یکساں نہیں ہے، الگ الگ ہے۔ مسافر کے روزے کا حکم الگ ہے، اس کی نماز کا حکم کا الگ ہے، اور اسی طرح حاملہ ومرضعہ کے روزے کا حکم بھی الگ ہے۔ لہذا یہاں پر دلالت اقتران انتہائی ضعیف ہے۔
مشہور شارحین حدیث امام خطابی، علامہ طیبی، علامہ مناوی، علامہ توربشتی، علامہ ابو الحسن سندی وغیرہم نے اس حدیث کی شرح کے وقت اس بات کی صراحت کی ہے کہ یہاں پر سیاق کلام میں جن چیزوں کو اکٹھا کرکے ذکر کیا گیا ہے سب کا حکم الگ الگ ہے، یکساں نہیں۔
امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"قد يجمع نظم الكلام أشياء ذات عدد مسوقة في الذكر، ومتفرقة في الحكم، وذلك أن الشطر الموضوع من الصلاة يسقط لا إلي قضاء، والصوم يسقط في السفر، ثم يلزمه القضاء إذا أقام، والحامل والمرضع تفطران إبقاء علي الولد، ثم تقضيان وتطعمان من أجل أن إفطارهما كان من أجل غير أنفسهما". (معالم السنن، 2/125)۔
(کبھی کبھی نظم کلام ایک ہی سیاق میں بہت ساری ایسی چیزوں کو جمع کر لیتا ہے جن کا حکم الگ الگ ہوتا ہے۔ اس لئے کہ نماز کا جو آدھا حصہ ساقط کیا گیا ہے وہ ایسا سقوط ہے جس کی قضا نہیں ہے، اور روزہ حالت سفر میں ساقط ہے پھر اقامت کی حالت میں اس کی قضا ضروری ہے۔ حاملہ ومرضعہ بچے کی وجہ سے روزہ چھوڑےگی، پھر اس کی قضا کرےگی اور فدیہ بھی دےگی، اس لئے کہ ان کا روزہ چھوڑنا اپنے لئے نہیں دوسرے کے لئے ہے۔)
علامہ طیبی رحمہ اللہ نے بھی یہی بات ذکر کی ہے۔ (دیکھیں: الكاشف عن حقائق السنن، 5/1599)۔
یہاں محل شاہد ان کا یہ بیان کرنا ہے کہ اس سیاق میں جن چیزوں کا تذکرہ کیا گیا ہے سب کا حکم الگ الگ ہے، یکساں نہیں ہے۔
اور علامہ توربشتی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "الصوم" منصوب، والعامل فيه "وَضَع"، وشتان بين الوضعَين، فإن الموضوع عن الصلاة ساقط لا إلى قضاء، ولا كذلك الصوم، وإنما ورد البيان على تقرير الرخصة، فأتى بقضايا مسوقة في الذكر، مختلفة في الحكم"َ۔ (دیکھیں: ذخيرة العقبى في شرح المجتبى، 21/175)۔
(”الصوم“ منصوب ہے، اس کا عامل ”وضع“ ہے، اور دونوں وضع کے مابین کتنا بڑا فرق ہے۔ نماز کا جو حصہ ساقط کیا گیا ہے اس کی قضا نہیں ہے، جب کہ روزے کا معاملہ ایسا نہیں ہے، اس میں صرف رخصت کو بیان کیا گیا ہے۔ پس اس حدیث میں کئی قضیوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کا حکم الگ الگ ہے۔)
اور علامہ ابو الحسن سندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "وقد وضع الله عن المسافر صوم الفرض بمعنى وضع عنه لزومه في تلك الأيام وبين عدة من أيام أخر فكيف صوم النفل (والحامل والمرضع) أي إذا خافتا على الحمل والرضيع أو على أنفسهما ثم هل هو وضع إلى قضاء أو لا وهذا الحديث ساكت عنه فكل من يقول بقضائه لا بد له من دليل قوله"۔ (حاشية السندي على سنن ابن ماجه، 1/512)۔
(اللہ تعالی نے مسافر سے فرض روزہ ساقط کر دیا ہے، یعنی کہ ان ایام میں روزہ رکھنا لازمی نہیں ہے، دوسرے ایام میں وہ اس کی قضا کر لے، اور حاملہ ومرضعہ سے جب اسے دودھ پیتے بچے پر، حمل پر، یا اپنے آپ پر خوف ہو تو روزہ کو ساقط کر دیا ہے۔ یہ سقوط قضا کے ساتھ مربوط ہے یا نہیں اس بارے میں حدیث خاموش ہے، لہذا جو بھی قضا کی بات کرتا ہے اس کے اوپر اپنے قول کی دلیل پیش کرنا ضروری ہے۔)
ان تمام شارحین حدیث کی تشریحات سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہاں پر سیاق میں ایک ہی قسم کی چیزوں کا تذکرہ نہیں ہے، بلکہ مختلف احکام کی چیزوں کو ایک ہی سیاق میں بیان کیا گیا ہے۔
لہذا صرف اقتران کو دلیل بنا کر حاملہ ومرضعہ کو مسافر کے مشابہ قرار دینا قرین انصاف نہیں ہے۔ دلالت اقتران ایک تو خود ضعیف حجت ہے، اوپر سے سیاق الگ الگ چیزوں کو سموئے ہوئے ہے پھر کیسے اس سے حجت پکڑی جا سکتی ہے؟
یہ تو اس سیاق کی بات ہوئی جس کی امام ترمذی نے تحسین کی ہے۔
✿ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے جس سیاق کو صحیح کہا ہے اس سے تو اس کا ضعف مزید آشکارا ہو جاتا ہے۔ واضح رہے کہ امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے”ایوب عن ابی قلابہ عن انس بن مالک القشیری“ کے طریق کو صحیح کہا ہے۔ ورنہ بیان کیا گیا کہ اس کے طرق میں شدید اختلاف ہے۔
امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ نے جس طریق کی تصحیح کی ہے اس کے الفاظ پر غور فرمائیں:
■ سنن النسائی الصغری (4/180، ح2274) کے الفاظ: «إن الله وضع عن المسافر نصف الصلاة والصوم، وعن الحبلى والمرضع».
■ سنن النسائی الکبری (3/151، ح2595) کے الفاظ: «إن الله وضع عن المسافر» يعني نصف الصلاة والصوم وعن الحبلى والمرضع.
■ صحیح ابن خزیمہ (2/983، ح2043) کے الفاظ: "إِنَّ اللَّه قَدْ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ، وَشَطْرَ الصَّلَاةِ، وَعَنِ الْحُبْلَى أَوِ الْمُرْضِعِ".
■ تفسیر طبری (3/435، ح2792) کے الفاظ: "إن الله وَضع عن المسافر والحامل والمرضع الصومَ وشَطرَ الصلاة"
■ الخلافیات للبیہقی (5/59، ح3547) کے الفاظ: "إِنَّ اللَّهَ عز وجل وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ، وَالْحَامِلِ، وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ".
■ المتفق والمفترق للخطیب البغدادی (1/129) کے الفاظ: "إِنَّ الله وضع عن المسافر والحامل أو المرضع الصوم وشطر الصلاة".
ان تمام الفاظ پر غور فرمائیں کہ یہاں اقتران کس بات پر دلالت کر رہا ہے؟
مذکورہ تمام کتابوں میں اقتران اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ حاملہ ومرضعہ سے آدھی نماز بھی معاف ہے۔ امام نسائی اور ابن خزیمہ کے یہاں مسافر سے صوم وصلاۃ کے سقوط پر ہی حبلی ومرضع کو عطف کیا گیا ہے، یہاں سیاق میں حبلی ومرضع کے ساتھ صوم کی تخصیص نہیں ہے جیسے کہ امام ترمذی کے یہاں اس کی تخصیص تھی۔
اور تفسیر طبری، الخلافیات للبیہقی والمتفق والمفترق للخطیب میں تو سیاق بالکل صراحت کر رہا ہے کہ مسافر کی طرح حاملہ ومرضعہ سے بھی آدھی نماز معاف ہے۔
کیا اس حدیث کے دلالت اقتران سے حجت پکڑتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ حاملہ ومرضعہ سے بھی آدھی نماز معاف ہے؟
✿ خلاصۂ کلام یہ کہ حدیث انس بن مالک الکعبی میں شدید اضطراب ہے۔ اس کے سیاق اور اقتران کو دلیل بنانے کی صورت میں یہ لازم آتا ہے کہ حاملہ ومرضعہ سے آدھی نماز بھی معاف ہے جس کا کوئی قائل نہیں۔
لہذا اس کے اقتران کو دلیل بنانا ممکن نہیں۔
✿ دلالت اقتران کے سلسلے میں علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کا نفیس قاعدہ:
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے دلالت اقتران کب قوی ہوتی ہے اور کب ضعیف اس پر اپنی کتاب ”بدائع الفوائد“ (4/1627-1629) میں بڑا ہی نفیس کلام پیش کیا ہے۔ فرماتے ہیں: "دلالة الاقتران: تظهر قوَّتها في موطنٍ، وضعفها في موطنٍ، وتساوى الأمرين في موطن، فإذا جمع المقترنين لفظٌ اشتركا في إطلاقه وافتراقا في تفصيله قويت الدلالة"۔
"دلالت اقتران کسی جگہ قوی ہوتی ہے، کہیں ضعیف، اور کہیں معاملہ یکساں ہوتا ہے۔
جب دو کلمہ کو ایک ساتھ جمع کیا جائے اور دونوں پر کسی ایک لفظ کا اطلاق کیا جائے، لیکن دونوں کلمہ کی تفصیلات جدا ہوں تو یہ دلالت قوی ہوتی ہے"۔
پھر انہوں نے حدیث "الفطرة خمس" سے اس کی مثال پیش کی ہے۔ اس حدیث میں کئی کلمات کو ایک ساتھ جمع کرکے اس پر ”الفطرۃ“ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ حدیث کے الفاظ ہیں: " الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ"۔
لہذا لفظ ”الفطرۃ“ کا حکم یہاں سب کو شامل ہے۔ یہ الگ مبحث ہے کہ ”الفطرۃ“ سے مراد کیا ہے؟ واجب، مستحب، یا بالعموم پوری شریعت۔ لیکن جو بھی مراد ہو وہ اس سیاق میں وارد تمام کلمات کو شامل ہے۔
یہاں غور کریں اس سیاق میں وارد تمام مسائل کو کلمات کی شکل میں ذکر کیا گیا ہے۔ مستقل جملوں کی شکل میں نہیں۔
اگر کہیں پر اقتران جملوں کے مابین ہو تو وہاں پر اس کی دلالت قوی نہیں، بلکہ نہایت ضعیف ہوتی ہے۔ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اسے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"وأما الموضع الذي يظهر ضعف دلالة الاقتران فيه فعند تعدد الجمل واستقلال كل واحدة منهما بنفسها كقوله: "لا يبولن أحدكم في الماء الدائم ولا يغتسل فيه من جنابة " وقوله: "لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده" فالتعرض لدلالة الاقتران ههنا في غاية الضغف والفساد، فإن كل جملة مفيدة لمعناها وحكمها وسببها وغايتها منفردة به عن الجملة الأخرى، واشتراكهما في مجرد العطف لا يوجب اشتراكهما فيما وراءه، وإنما يشترك حرف العطف في المعنى إذا عطف مفردًا على مفرد، فإنه يشترك بينهما في العامل كقام زيد وعمرو، وأما نحو اقتل زيدا وأكرم بكرا فلا اشتراك في معنى، وأبعد من ذلك ظن من ظن أن تقييد الجملة السابقة بظرف أو حال أو مجرور يستلزم تقييد الثانية، وهذا دعوى مجردة بل فاسدة قطعًا، ومن تأمل تراكيب الكلام العربي جزم ببطلانها"۔
(اور دلالت اقتران اس وقت ضعیف ہوتی ہے جب متعدد جملے ہوں اور ہرجملہ دوسرے سے مستقل ہو۔ مثال کے طور پر: «لاَ يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِى الْمَاءِ الدَّائِمِ، وَلَا يَغْتَسِلْ فِيهِ مِنْ الْجَنَابَةِ» اور: «لا يقتل مؤمن بكافر، ولا ذو عهد في عهده » ہے۔ یہاں پر دلالت اقتران سے تعرض کرنا انتہائی کمزور اور فاسد ہے۔ یہاں اپنے معنی، حکم، سبب، اور غایت کے اعتبار سے ہر جملہ مفید، اور دوسرے جملے سے الگ ہے۔ اور دونوں کے درمیان مجرد عطف کے ذریعہ اشتراک کا پایا جانا باقی چیزوں کے مشترک ہونے کو واجب نہیں کرتا۔ بلکہ حرف عطف کے ذریعہ معنی کے اندر اس وقت اشتراک ہوتا ہے جب مفرد کو مفرد پر عطف کیا جائے، اس وقت وہ عامل کے اندر دونوں میں مشترک ہوتا ہے، جیسے ”قام زید وعمرو“ ہے۔ لیکن ”اقتل زيدًا وأكرم بكرًا“ جیسی مثالوں میں معنی کے اندر کوئی اشتراک نہیں ہوتا۔ اس سے بھی بعید ترین گمان وہ ہے جو بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ سابقہ جملہ ظرف، یا حال یا مجرور کے ساتھ مقید ہو تو دوسرا جملہ بھی لازمًا مقید ہوگا۔ یہ ایک مجرد دعوی ہے، بلکہ یقینی طور پر فاسد ہے۔ جو بھی عربی جملوں کی ترکیبوں پر غور کرےگا انہیں اس کے بطلان کا یقین ہو جائےگا۔)
✿ یہاں جس دلالت اقتران کو علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے ضعیف کہا ہے اس پر غور کریں۔ جب متعدد جملے ہوں اور ہرجملہ دوسرے جملے سے مستقل ہو اس وقت دلالت اقتران ضعیف ہوتی ہے۔ اور اس کی انہوں نے دو مثالیں دی ہیں۔ جن میں سے دوسری مثال تو ہماری اس زیر بحث حدیث کے بالکل مشابہ ہے۔
وہ مثال ہے: "لا يقتل مؤمن بكافر، ولا ذو عهد في عهده"۔
واضح ہو کہ اس حدیث کے اقتران سے استدلال کرتے ہوئے احناف نے یہ کہا ہے کہ جس طرح ایک مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائےگا اسی طرح ایک ذمی کو بھی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائےگا، کہتے ہیں اس کا معنی ہے: "وَلَا يُقْتَلُ ذُو الْعَهْدِ بِالْكَافِرِ"۔ یعنی حرمتِ دم کے اندر احناف کے نزدیک مسلم وذمی دونوں کا درجہ برابر ہے۔ ان کی دلیل اسی حدیث کا اقتران ہے۔ کیونکہ ”لَا يُقْتَلُ“ کے سیاق میں دونوں کو بیان کیا گیا ہے۔ (دیکھیں: المبسوط للسرخسی، 26/135)۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ اسی استدلال پر رد کر رہے ہیں کہ یہاں پر دلالت اقتران ضعیف ہے، گرچہ ”لَا يُقْتَلُ“ دونوں پر داخل ہے لیکن دونوں الگ الگ مستقل جملے ہیں، یہاں ایک کلمہ کا دوسرے کلمہ پر عطف نہیں ہے کہ اسے قوی کہا جائے، بلکہ جملہ کا عطف جملہ پر ہے۔ یعنی "لا يقتل مؤمن بكافر" ایک مستقل جملہ ہے اور "ولا ذو عهد في عهده" ایک مستقل جملہ، اور دونوں کے درمیان رابط واو عطف ہے، یعنی "ولا يقتل ذو عهد في عهده"۔
پہلے جملہ میں ایک مستقل حکم بیان کیا گیا ہے کہ کسی مؤمن کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائےگا، اور دوسرے جملہ میں ایک مستقل حکم کہ کسی ذمی کو دوران عہد قتل نہیں کیا جائےگا۔
دو مستقل جملوں کے درمیان صرف واو عطف کی وجہ سے دونوں کا ایک حکم ایک مان لینا کیونکہ دونوں پر ”لَا يُقْتَلُ“ داخل ہے انتہائی ضعیف استدلال ہے۔
پھر آگے علامہ ابن القیم نے مثال دے کر واضح کیا ہے کہ کب دلالت اقتران قوی ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں: "وإنما يشترك حرف العطف في المعنى إذا عطف مفردًا على مفرد، فإنه يشترك بينهما في العامل كقام زيد وعمرو"۔
(حرف عطف کے ذریعہ معنی کے اندر اس وقت اشتراک ہوتا ہے جب مفرد کو مفرد پر عطف کیا جائے، اس وقت وہ عامل کے اندر دونوں میں مشترک ہوتا ہے، جیسے ”قام زید وعمرو“ ہے۔)
محترم قارئین! اوپر دیکھیں علامہ ابن القیم نے دلالت اقتران کب قوی ہوتی ہے وہاں بھی ”قام زید وعمرو“ کی طرح ہی ایک مثال پیش کی ہے، وہاں بھی مفرد کا عطف مفرد پر ہے۔ اور وہ ہے: حدیث "الفِطْرَةُ خَمْسٌ: الخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمُ الأَظْفَارِ"۔ جس میں مفرد کا مفرد پر عطف کیا گیا ہے۔
اسی طرح کی ایک حدیث: «لَيَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ يَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِيرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ. (صحيح البخاري، 7/106، ح5590) بھی ہے، ان دونوں حدیثوں میں مفرد کا عطف مفرد پر ہے۔ لہذا یہاں پر دلالت اقتران قوی ہے۔
لیکن اگر جملہ کا عطف جملہ پر ہو تو وہاں دلالت اقتران نہایت ضعیف ہوتی ہے، جیسے کہ علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا۔
✿ اب آتے ہیں زیر بحث حدیث "إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم، وشطر الصلاة، وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام"پر ۔
محترم قارئین! غور فرمائیں! یہاں پر مفرد کا عطف مفرد پر ہے یا جملے کا عطف جملے پر؟
واضح ہے کہ یہاں ”وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام“ ایک مستقل جملہ ہے، اور اس کا عطف ایک جملہ پر ہے، کسی مفرد لفظ پر نہیں۔
جس طرح "لا يقتل مؤمن بكافر" ایک مستقل جملہ تھا، اسی طرح ”إن الله تعالى وضع عن المسافر الصوم، وشطر الصلاة“ ایک مستقل جملہ ہے۔
اور جس طرح "ولا ذو عهد في عهده" ایک مستقل جملہ تھا۔ اور پہلے جملہ پر عطف کی وجہ سے اس کا معنی ”ولا يقتل ذو عهد في عهده“ نکلا۔ اسی طرح ”وعن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام“ ایک مستقل جملہ ہے، اور پہلے جملہ پر عطف کی وجہ سے اس کا معنی ”ووضع عن الحامل أو المرضع الصوم أو الصيام“ نکلتا ہے۔
لہذا جس طرح وہاں پر دوسرے جملے کا حکم پہلےجملے سے بالکل الگ ہے، اور محض اقتران کی وجہ سے دونوں کو ایک سمجھنا غلط استدلال ہے، یہاں بھی دونوں کا حکم بالکل الگ ہے اور دونوں کو محض اقتران کی وجہ سے ایک سمجھنا غلط استدلال ہے۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ کا یہ قاعدہ نہایت ہی نفیس قاعدہ ہے، اور اس سے دلالت اقتران کی حیثیت کو سمجھنا نہایت ہی آسان ہے۔ اسی طرح کا قاعدہ ان سے پہلے علامہ ابن دقیق العید نے بیان کیا ہے کہ جب دو مستقل جملوں کو کوئی سیاق شامل ہو تو وہاں دلالت اقتران ضعیف ہوتی ہے، قوی نہیں۔ (دیکھیں: إحكام الأحكام لابن دقیق العید، 1/63ـ64)۔
✿ خلاصۂ کلام: انس بن مالک الکعبی رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کی سند ومتن میں شدید اضطراب ہے۔ امام نسائی، ابو حاتم رازی، یعقوب بن سفیان الفسوی، بیہقی، اور ابن الترکمانی وغیرہم نے اس میں اضطراب کی بات کی ہے۔
جب کہ امام ترمذی، حافظ ابن حجر اور شیخ البانی وغیرہم نے اسے حسن کہا ہے۔ حسن ماننے کی صورت میں اس سے وجہ استدلال دلالت اقتران ہے۔ اور دلالت اقتران جمہور کے نزدیک ایک ضعیف حجت ہے، ان کے نزدیک اس سے استدلال جائز نہیں۔ ہاں اگر کہیں قوی قرینہ موجود ہو تو اس سے استدلال کی گنجائش ہے۔
اس کے الفاظ پر غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں مختلف طرح کی چیزوں کو ایک ہی سیاق میں بیان کیا گیا ہے جن کا حکم الگ الگ ہے، شارحین حدیث کی ایک جماعت نے اس کی صراحت کی ہے، کیونکہ ایک ہی سیاق میں مسافر، حاملہ ومرضعہ کے روزوں کے ساتھ مسافر کی آدھی نماز بھی ساقط ہونے کی بات آئی ہے۔ اگر یہاں وضع سے مراد صرف عذر کی مدت میں سقوط ہو اور عذر زائل ہونے کے بعد قضا مقصود ہو تو مسافر سے آدھی نماز کی قضا کا بھی مطالبہ ہونا چاہئے، کیونکہ وضع کا لفظ اسے بھی شامل ہے۔ اس لئے یہاں قرینہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ یہاں دلالت اقتران انتہائی ضعیف ہے۔
اس کی مزید تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امام ابو حاتم رازی نے جس طریق کی تصحیح کی ہے اس کے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ حاملہ ومرضعہ سے آدھی نماز بھی ساقط ہے۔ اور اس کا کوئی قائل نہیں۔
علامہ ابن القیم رحمہ اللہ نے دلالت اقتران کب قوی ہوتی ہے اور کب ضعیف اس کے متعلق ایک نفیس قاعدہ بیان کیا ہے، وہ یہ کہ اگر عامل ایک ہو اور مفرد کا عطف مفرد پر ہو تو دلالت اقتران قوی ہوتی ہے جیسے کہ ”الفطرۃ خمس“ والی حدیث میں ہے۔ لیکن اگر جملہ کا عطف جملہ پر ہو تو دلالت اقتران انتہائی ضعیف ہوتی ہے جیسے کہ ”لا یقتل مؤمن بکافر...“ والی حدیث میں ہے۔ اور حدیث انس میں جملہ کا عطف جملہ پر ہے، مفرد کا عطف مفرد پر نہیں۔ اس لئے بھی یہاں دلالت اقتران انتہائی ضعیف ہے۔
لہذا اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حاملہ ومرضعہ سے روزوں کی قضا کا مطالبہ کرنا صحیح نہیں۔
والله أعلم وعلمه أتم وأحكم.
 
Top