ذیشان خان

Administrator
اللہ تعالی عرش پر ہے۔(مدلل بحث)

کتاب وسنت اور امت کے سلف سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی اپنے آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے اور وہ بلند و بالا اور ہر چیز کے اوپر ہے اس کے اوپر کوئی چیز نہیں ۔
فرمان باری تعالی ہے :
(1) إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ۔
ترجمہ : بے شک تمہارا رب الله ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھرعرش پر قرار پکڑا۔(سورۃ الاعراف ،آیت 54)
(2) إِنَّ رَبَّكُمُ ٱللَّهُ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ۔
ترجمہ : بے شک تمہارا رب الله ہی ہے جس نے آسمان اور زمین چھ دن میں بنائے پھر عرش پر قائم ہوا۔(سورۃ یونس ،آیت 3)
(3) ٱللَّهُ ٱلَّذِى رَفَعَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ بِغَيْرِ عَمَدٍۢ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ۔
ترجمہ : الله وہ ہے جس نے آسمانوں کو ستونوں کے بغیر بلند کیا جنہیں تم دیکھ رہے ہو پھر عرش پر قائم ہوا۔(سورۃ الرعد،آیت 2)
(4) ٱلرَّحْمَٰنُ عَلَى ٱلْعَرْشِ ٱسْتَوَىٰ۔
ترجمہ: رحمان جو عرش پر جلوہ گر ہے (سورۃ طہ،آیت 5)
(5) ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ۔
ترجمہ: جس نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان میں ہے چھ دن میں بنایا پھر عرش پر قائم ہوا۔(سورۃ الفرقان،آیت 59)
مذکورہ بالا آیات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ اللہ تعالی عرش پر مستوی ہے اور اس بات کے انکار کی کسی کو جرات نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالی کا فرمان ہے۔
اب یہ سمجھتے ہیں کہ استواء کیا ہے ؟
=======================
چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ الله نے استواء کی تفسیر میں فرمایا کہ: اس سے مراد عرش کے اوپر علو ہے، اور اس پر ایمان لانا واجب ہے، اور بے شک اس کی کیفیت کے متعلق سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا، اور یہی معنی ام المومنین حضرت ام سلمہ سے بھی منقول ہے، اور ربيعہ بن ابو عبد الرحمن سے بھی منقول ہے جو کہ امام مالک رحمہ الله کے استاذ ہیں، اور یہی حق ہے جس میں کوئی شک نہیں، اور بلا شبہ یہی اہل سنت وجماعت کا قول ہے۔
احادیث سے استدلال
============
احادیث سے بھی اس بات کی خوب وضاحت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی آسمانوں کے اوپر ہے ، وضاحت کے لئے ایک حدیث ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
صحیح مسلم میں معاویہ بن الحکم السلمی کی وہ روایت جس میں انہوں نے رسول اللہ ز سے اپنی لونڈی کو آزاد کرنے کا پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے میرے پاس لاؤ۔ آپ ﷺ نے اس لونڈی سے پوچھا کہ "اللہ کہاں ہے؟" تو اس نے کہا کہ آسمان پر۔ پھر آپ ﷺ نے پوچھا کہ "مین کون ہوں" تو اس نے کہا کہ اللہ کے رسول۔ تب آپ ﷺ نے فرمایا۔ اسے آزاد کر دو۔ بے شک یہ مومنہ ہے۔
ائمہ کرام کے اقوال
===========
اب اس سلسلے میں ہم ائمہ کے اقوال ذکر کرتے ہیں ۔
(1) ابو مطیع البلخی نے امام ابو حنیفہ سے پوچھا: اس کا کیا حکم ہے جو شخص یہ کہے کہ میں نہیں جانتا کہ اللہ آسمان پر ہے یا زمین پر۔۔۔۔؟
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: بلا شبہ اس نےکفر کیا۔۔۔ اس لیے کہا اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” الرحمٰن علی العرش استویٰ“ اور اس کا عرش ساتوں آسمانوں کے اوپر ہے۔۔
ابو مطیع بلخی کہتے ہیں : میں کہا اچھا اگر وہ کہے کہ اللہ عرش پر ہے لیکن اسے نہیں پتا کہ عرش آسمان پر ہے یا زمین پر ۔۔۔؟
امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں: وہ کافر ہے اس لیے کہ اس نے عرش کے آسمان پر ہونے کا انکار کیا۔۔۔۔
(شرح عقیدہ الطحاویہ ص:387 از- امام ابن ابی العز الحنفی ۔۔۔طبع: موسسہ الرسالہ)
(2) امام مالک نے کہا: اللہ عرش پہ ہے اور اس کا علم پوری کائنات میں ہے کوئی بھی جگہ اس کے علم سے خالی نہیں۔ (مسائل الامام احمد از ابو داؤد۔ باب فی الجھمیہ۔ صفحہ 353)
(3) یوسف بن موسیٰ القطان جو کہ ابو بکر خلال کے شیخ ہیں انہوں نے کہا کہ ابو عبداللہ (احمد بن حنبل) سے کہا گیا : اللہ ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنی مخلوقات سے جدا اور علیحدہ اپنے عرش پر ہے اور اس کا علم اور قدرت ہر جگہ ہے؟
انہوں (احمد بن حنبل) نے کہا: ہاں ، وہ اپنے عرش پر ہے، کوئی چیز اس کے علم سے بچ نہیں سکتی (یعنی کوئی چیز اس کے علم سے خالی نہیں اور وہ سب کچھ جانتا ہے)۔ (مختصر العلو للعلی الغفار للذھبی۔ صفحہ 189)۔
(4) راوی کہتا ہے کہ میں نے اوزاعی کو یہ کہتے سنا: ہمارا عقیدہ اور سب تابعین کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش کے اوپر ہے، ہم اللہ تعالیٰ کی جملہ صفات کو مانتے ہیں جو احادیث میں آئی ہیں۔ (الاسماٰء والصفات للبیھقی۔ ص 291)
(5) امام عثمان بن سعید الدارمی فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالی آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔
(6) الإمام قتيبة بن سعيد ( المتوفى سنه 240هـ) فرماتے ہیں: کہ آئیمہ اسلام اور اھل السنۃ والجماعۃ کا یہ قول ہے کہ اللہ تعالی ساتویں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر ہے جیسا کہ اس نے قرآن میں فرمایا " الرحمن علی العرش استوی۔
(7) امام ابن عبد البر حافظ المغرب ( المتوفى سنة 463هـ ) اپنی کتاب التمهيد ( 6/ 124) میں حدیث نزول کی شرح میں فرماتے ہیں اور یہ حدیث بہت سے متواتر اور عادل رواۃ سے نبی ز سے منقول ہے، جس میں یہ دلیل ہے کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور محدثین کی ایک بڑی جماعت نے اس دلیل "الرحمن علی العرش استوی" کو معتزلۃ اور جھمیۃ کی بات " کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے" کے رد میں واضح کیا ہے
(8) امام الحافظ أبو نعيم صاحب الحلية اپنی كتاب محجة الواثقين میں فرماتے ہیں : کہ تمام محدثین کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالی تمام آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے۔ اور اس کے اوپر کوئ چیز مستوی نہیں جیسا کہ جھمیۃ کا یہ کہنا کہ اللہ ہر جگہ موجود ہے۔
(9) راوی کہتا ہے کہ شقیق نے عبداللہ بن مبارک سے کہا: ہم اپنے رب کو کیسے پہچانیں؟ (عبداللہ بن مبارک نے) کہا: اس طرح کہ وہ ساتوں آسمانوں سے اوپر اپنے عرش پر ہے اور وہ اپنی مخلوقات سے جداء ہے۔ (الرد علی الجھمیہ از عثمان بن سعید دارمی۔صفحہ 39،40)۔
(10) امام الذهبي اپنی کتاب "العلو" کے آخر میں فرماتے ہیں اور اللہ تعالی اپنے عرش کے اوپر ہے جیسا کہ تمام صحابہ تابعین اور تبع تابعین کا اس بات پر اجماع ہے۔
کلام آخر
============
اس موضوع کے اختتام پر قول فیصل کے طور پر امام ابن خزیمہ ؒ کا فیصلہ سنا دینا چاہتا ہوں۔
اما م ابن خزیمۃ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو اس بات کا انکار کرے کہ اللہ تعالی ساتوں آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے اسے توبہ کرنی چاہیے۔ پس اگر تو وہ توبہ کرلے تو بہتر ورنہ اس کی گردن اڑا دی جائے اور اسے سر عام لٹکا دیا جائے تاکہ اہل علاقہ اس سے عبرت حاصل کریں۔
ترتیب و پیشکش:
مقبول احمد سلفی​
 
Top