ذیشان خان

Administrator
ماہ رمضان اور لوگوں میں پائے جانے والے بعض وسوسے

✍ فاروق عبد الله نراین پوری

الحمد لله رب العالمين, والصلاة والسلام على رسوله محمد وآله وصحبه أجمعين, أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدًا عبده ورسوله . أما بعد:
شیطان انسان کا ازلی دشمن ہے ۔ وہ ہمیشہ انسان کو نیکی کی راہوں سے دور اور گناہ کے راستوں پر دھکیلنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔ اور ہر شخص کو اس کی علمی اورتقوی وپرہیزگاری کے حساب سے بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص عبادت وبندگی میں منہمک ہوتا ہے تو اسے غلو اور افراط کے شکنجہ میں جکڑتا ہے یا پھر اس کے اندر شکوک وشبہات کے بیج بوکر اسے اصلا عبادت سے ہی دور کر دیتا ہے۔
ماہ رمضان میں بھی بہت سارے لوگوں کو ایسے وسوسوں کا شکار دیکھا جاتا ہے ۔ ذیل میں بعض ایسے وساوس کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جسے راقم الحروف نے گذشتہ چند سالوں میں بکثرت لوگوں کے درمیان دیکھا اور سنا ہے :
۱۔ تین رات سے زیادہ باجماعت صلاۃ تراویح نہ پڑھنا:
ماہ رمضان کے اہم اور بابرکت اعمال میں سے ایک عمل باجماعت صلاۃ تراویح کا ادا کرنا ہے ۔ لیکن بعض لوگوں کو یہ کہتے ہوئے دیکھا اور سنا جاتا ہے کہ تین رات سے زیادہ باجماعت صلاۃ تراویح جائز نہیں ۔ اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ تین رات سے زیادہ جماعت کے ساتھ تراویح نہیں پڑھی یا پڑھائی اس لئے تین رات سے زیادہ اسے جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی جا سکتی حتی کہ بعض حضرات جرأت ومبالغہ سے کام لیتے ہوئے اس پر بدعت کا بھی حکم صادر فرما دیتے ہیں ۔ واللہ المستعان ۔
حالانکہ اس کے استحباب اور فضیلت پر سنت سے دلیل موجود ہے ، نیز صحابہ کرام کا متفقہ عمل اس کی مشروعیت پر بین ثبوت ہے ۔
البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تین رات سے زیادہ باجماعت تراویح نہ پڑھانا تو وہ اس لئے تھا کہ صحابہ کرام کے شدید حرص کی بناء پر آپ کو اسے امت پر فرض کردئے جانے کا خوف لاحق ہو گیا تھا ، جو کہ لوگوں پر باعث مشقت تھا ۔ (دیکھیں : صحیح بخاری 1/197، صحیح مسلم 1/524)
لیکن آپ کی وفات کے بعد یہ خوف زائل ہو گیا ۔ اس لئے جب عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو باجماعت تراویح کے لئے جمع کیا تو کسی نے اعتراض نہیں کیا۔
نیز جس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تین رات باجماعت تراویح کا ذکر ہے اسی میں آپ کا یہ قول بھی موجود ہے : «إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة». (أبو داود 1375, الترمذي 806, النسائي 3/203, ابن ماجہ 1327۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ارواء الغلیل (2/193) حدیث نمبر (447) میں صحیح قرار دیا ہے ۔)
یعنی جب کوئی شخص امام کے فارغ ہونے تک اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے تو اس کے حق میں پوری رات کا قیام لکھا جاتا ہے ۔
پس اس حدیث میں باجماعت تراویح کے لئے واضح دلیل موجود ہے ۔ اور صحابہ کرام نیز سلف صالحین کے عمل سے اس کی مشروعیت مزید واضح ہو جاتی ہے ۔ وللہ الحمد ۔
اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا کے اکثر ممالک میں لاک ڈاون نافذ ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت کی خاطر احتیاطی تدابیر کے طور پر اکثر ممالک میں مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنے پر پابندی ہے۔ لوگ اپنے اپنے گھروں میں پنجوقتہ نمازیں ادا کر رہے ہیں۔ تراویح کی نماز کے لئے جماعت کا مسئلہ دیگر نمازوں کی طرح ہی ہے۔ جس طرح لوگ اپنے اپنے گھروں میں اہل خانہ کے ساتھ دیگر فرض نمازیں باجماعت ادا کر رہے ہیں اسی طرح تراویح کی نماز بھی باجماعت ادا کریں، کیونکہ جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس گنا افضل ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث نمبر 645)۔
موجودہ صورت حال میں تراویح کی نماز کے لئے دوسرے گھروں کا رخ کرنا یا اپنے گھر میں دوسرے لوگوں کو جمع کرکے جماعت قائم کرنے کی کوشش کرنا قطعا مناسب نہیں۔ انسانی جان کی حفاظت باجماعت نماز ادا کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔اور اس عرصے میں ہم نے اچھی طرح مشاہدہ کر لیا ہے کہ یہ وائرس اختلاط کی وجہ سےکس تیز رفتاری کے ساتھ ایک دوسرے میں منتقل ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کے جسم میں قوت مدافعت زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ آپ کو متاثر نہ کر رہا ہو لیکن جس شخص سے آپ مل رہے ہیں اس میں آپ کی طرح قوت مدافعت نہ ہو اور اس پر اٹیک کر دے۔ لہذا پلیز اپنے اور دوسرے کی جانوں کو خطرہ میں نہ ڈالیں، اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں کوتاہی نہ برتیں۔
نیز یہ بھی جان لیں کہ تراویح کی نماز گرچہ بلاشک بہت ہی اجر وثواب کا باعث ہے لیکن فرض نمازوں سے یہ افضل نہیں۔ جب فرض نمازیں آپ اپنے گھروں میں صرف اہل خانہ کے ساتھ ادا کر رہے ہیں تو تراویح کے لئے اس طرح کی کوشش کرنا شرعا وعقلا غیر مناسب ہے۔
2۔ غروب آفتاب کے بعد افطار میں احتیاطا تاخیر کرنا:
روزہ کی مدت صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک ہے ۔ جب سورج غروب ہو جائے اور مؤذن مغرب کی اذان دے دے تو افطار میں احتیاطا تاخیر ایک غیر ضروری عمل اور سنت نبوی سے اعراض کرناہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : «لا یزال الناس بخیر ما عجلوا الفطر» ”لوگ اس وقت تک خیر میں ہوں گے جب تک افطار میں جلدی کریں گے“ ۔ (صحیح بخاری 1/335)
ایک دوسری حدیث میں ہے : «لا يزال الدينُ ظاهراً ما عَجلَ الناسُ الفِطْرَ؛ لأن اليهود والنصارى يؤخرون »۔ ”جب تک لوگ افطار میں جلدی کریں گے دین غالب رہےگا، اس لئے کہ یہود ونصاری افطار میں تاخیر کرتے ہیں “۔ (سنن أبي داود (2353) و مسند احمد (15/503)۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحيح أبي داود (7/ 121) میں اسے حسن قرار دیا ہے ۔)
علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ”یہ حدیث افطار میں تاخیر کرنے کی کراہیت کا تقاضا کرتی ہے چہ جائیکہ اسے چھوڑ دیا جائے، اور جب تاخیر کرنا مکروہ ہوا تو یہ عبادت نہیں بن سکتا ، کیونکہ عبادت کا ادنی درجہ یہ ہے کہ وہ مستحب ہو “۔ (زاد المعاد فی ھدی خیر العباد 2/36) ۔
۳ ۔ دن میں احتلام ہونے یا جنبی کی حالت میں فجر کی اذان ہو جانے پر روزہ نہ رکھنا:
بہت سارے لوگوں کے اندر یہ غلطی پائی جاتی ہے کہ دن میں احتلام ہونے کی بنا پر روزہ ترک کر دیتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ اس سے ان کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح جنبی کی حالت میں فجر کی اذان ہو جانے پر کچھ لوگ اس دن روزہ رکھنا جائز ہی نہیں سمجھتے۔
بہت سارے حضرات اکثر شرم وحیا کی وجہ سے علماء سے یہ مسائل دریافت نہیں کرتے ، حالانکہ شرعی مسائل دریافت کرنے میں کسی طرح کی شرمندگی نہیں ہونی چاہئے، ایسے حضرات شرم وحیاء کے نتیجے میں لا علمی کی بناء پر اپنے روزہ کو برباد کر ڈالتے ہیں ۔
روزہ کی حالت میں بیوی سے جماع یا استمناء (ہینڈنگ) کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ لیکن حالت صیام میں احتلام کی وجہ سے روزہ فاسد ہونے کی کوئی دلیل نہیں ملتی ۔ واللہ أعلم ۔ اور اہل علم نے اسے مبطلات صیام میں شمار نہیں کیا ہے کیونکہ یہ بندے کا اختیاری عمل نہیں ہے ۔
اس کے برعکس عائشہ وام سلمی رضي اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں سے جماع کی وجہ سے جنبی ہوتے اور اسی حالت میں فجر ہو جاتی ، پھر آپ غسل کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔ (صحیح بخاری 1925، وصحیح مسلم 1109)
4 ۔ سحری کرنے کا موقع نہ ملنے پر اس دن کا روزہ ترک کر دینا:
بعض حضرات نیند نہ کھلنے کی بناء پر بسا اوقات سحری نہیں کر پاتے اور بغیر سحری کے روزہ کو ناجائز سمجھ کر روزہ چھوڑ دیتے ہیں ۔ حالانکہ سحری کو علماء نے صرف مستحب ومسنون عمل کہا ہے ، کسی نے اسے واجب یا شرط نہیں قرار دیا ہے ۔ علامہ ابن المنذر ، ابن قدامہ اور نووی رحمہم اللہ نے اس کے مستحب ہونے پر اجماع نقل کیا ہے ۔ [دیکھیں: الاجماع لابن المنذر (49), المغنی لابن قدامہ (3/54), المنہاج شرح مسلم بن الحجاج (7/206) ]۔
لہذا اگر سحری کرنے کا موقع نہ ملے تو بغیر سحری کے روزہ رکھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے ۔ واللہ أعلم۔
۵ ۔ نماز تراویح نہ پڑھنے کی صورت میں روزہ کو فاسد سمجھنا:
کچھ لوگوں سے ہر سال یہ سوال سننے کو ملتا ہے کہ فلاں شخص نے یا میں نے آج تراویح کی نماز نہیں پڑھی ہے کیا ایسی صورت میں روزہ رکھنا درست ہے ؟
ایسے حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ نمازتراویح روزہ کی صحت کے لئے شرط نہیں ہے ۔ اس کے بغیر بھی روزہ درست ہے۔ لیکن نماز تراویح بہت ہی زیادہ اجر و ثواب والا عمل ہے اور ماہ رمضان خیر وبرکات اور نیکیوں کے سمیٹنے کا مہینہ ہے ۔ اس لئے بہت ہی بڑا محروم ہے وہ شخص جو جان بوجھ کر بغیر کسی عذر کے اس عظیم اجر سے دور رہتا ہے ۔ سب کو شدت سے باجماعت اس کا اہتمام کرنا چاہئے ۔ اللہ تعالی ہم سب کو اسے قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔
 
Top