داڑھی کتنی لمبی ہونی چاہیے ؟
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
داڑھی کتنی لمبی ہونی چاہیے ؟ اور حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما جس میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما قبضہ سے زیادہ داڑھی کٹوا دیتے تھے اس کے بارے میں آپ وضاحت فرمائیں کیا یہ حدیث صحیح بھی ہے یا نہیں ؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ داڑھی رکھنا فرض وضروری ہے اسے منڈانا مونڈنا اور کاٹنا کٹانا درست نہیں ۔ قبضہ والی تحدید کسی مرفوع صحیح حدیث میں وارد نہیں ہوئی رہا کسی امتی کا قول یا عمل خواہ وہ کسی صحابی سوال کا ہی قول یا عمل ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا عمل کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا دیکھئے حضرت عمر بن خطابسوال مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جلیل القدر صحابی اور تمام صحابہ رضوان اللہ علیھم اجمعین میں فضیلت وشرف میں دوسرے نمبر پر ہیں فیصلہ فرماتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی ہوں گی مگران کے اس فیصلہ کو صرف اور صرف اس لیے نہیں اپنایا جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسی طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی تھی ۔ حج تمتع سے حضرت عمر سوال نے منع فرمایا تو کسی نے ان کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ہے تو سائل نے کہا آپ کے والد صاحب تو اس سے منع کرتے ہیں تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا آیا میرے باپ کے امر کا اتباع کیا جائے گا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کا ؟ مسند امام احمد رحمہ اللہ میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کی کہ عورتوں کو مساجد میں جانے سے نہ روکو تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک بیٹا کہنے لگا ہم تو انہیں ضرور روکیں گے تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنا رہا ہوں اور تو کہتا ہے ہم انہیں ضرور روکیں گے ’’فَمَا کَلَّمَہُ عَبْدُاﷲِ حَتّٰی مَاتَ‘‘ تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے اس بیٹے سے کلام نہیں کیا حتی کہ وہ فوت ہو گئے صحابی سوال کا قول یا عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر اس وقت بنتا ہے جب وہ کسی آیت مبارکہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی ثابت شدہ حدیث سے نہ ٹکرائے پھر وہ اس صحابی سوال سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سرزد ہو اور اس مقام پر قبضہ والے عمل میں ان دونوں شرطوں سے کوئی ایک بھی موجود نہیں لہٰذا قبضہ والے عمل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریر قرار دینا یا سمجھنا صحیح نہیں ۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان یہ نہیں کہ وہ معصوم تھے ان سے کوئی خطا سرزد نہیں ہوتی تھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی شان یہ ہے کہ ان سے جو بھی چھوٹی موٹی خطا سرزد ہوئی اللہ تعالیٰ نے وہ انہیں معاف کر دی {وَلَقَدْ عَفَا عَنْکُمْ} اس لیے کسی صحابی سوال وغیر صحابی کے قول یا عمل کی آڑ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ، اقوال اعمال اور تقاریر کو پس پشت ڈالنا درست نہیں۔
راوی کے عمل یا قول کے اس کی بیان کردہ روایت کے خلاف ہونے کی صورت میں راوی کے عمل یا قول کو لینا اس کی روایت کو نہ لینا اہل تحقیق کا نہیں اہل تقلید کا شیوہ ہے محدثین نے اصول حدیث میں اس قاعدہ بے فائدہ کا ردّ فرمایا ہے اس موضوع پر حافظ عبدالسلام بھٹوی حفظہ اللہ ایک تفصیلی اور جامع مضمون لکھ رہے ہیں وہ عنقریب ہی منظر عام پر آ جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ ۱۳/۲/۱۴۰۸ہـ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
جلد 01 ص 519


کتاب: اجتماعی نظام
صفحہ نمبر: 725

اجتماعی نظام - صفحہ 725 (https://shamilaurdu.com/book/ijtimaee-nizam/725/)
 
Top