داڑھی کی مقدار شرعی کیا ہے ؟
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
(۱) داڑھی کی مقدار شرعی کیا ہے ؟ (۲) داڑھی منڈانے والے کا ایمان کامل ہے یا ناقص؟ ابو عبدالقدوس

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
:(۱) داڑھی کی مقدار مشت یا اس سے کم وبیش قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں کہیں وارد نہیں ہوئی بس ’’اعْفُوا اللِّحٰی‘‘ ہی آیا ہے باقی موقوف دین میں حجت ودلیل نہیں تاوقتیکہ وہ حکماً مرفوع نہ ہو۔
(۲) ناقص ہے اور بسا اوقات ختم ہو جاتا ہے جب داڑھی منڈانے کے بعد شیشہ دیکھ کر خوش ہونے لگے {کَمَا یَدُلُّ عَلَیْہِ حَدِیْثُ : وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیْمَانِ وَحَدِیْثُ : وَلَیْسَ وَرَآئَ ذٰلِکَ مِنَ الْایمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ}1 [جیسا کہ یہ حدیث بتاتی ہے کہ یہ سب سے کم درجہ کا ایمان ہے اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں] ۱۸/۱۰/۱۴۱۷ہـ
1[کتاب الایمان ۔ صحیح مسلم ج۱ باب کون النہی عن المنکر من الایمان]

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
جلد 01 ص 520


کتاب: اجتماعی نظام
صفحہ نمبر: 726

اجتماعی نظام - صفحہ 726 (https://shamilaurdu.com/book/ijtimaee-nizam/726/)
 
Top