شادی شدہ بچی اپنے سر کے بال اپنی مرضی سے کٹواتی ہے
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
ایک مسلمان شادی شدہ بچی اپنے سر کے بال اپنی مرضی سے کٹواتی ہے ۔ دوسری صورت کہ ایک شادی شدہ عورت خاوند کے کہنے پر بناؤسنگھار کے لیے سر کے بال کٹواتی ہے ۔ ان دونوں صورتوں میں احکام الٰہی اور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کے کیا احکامات ہیں اور کتنا بڑا گناہ ہے ؟ عبدالرشید رشدی

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
عورت کے لیے سر کے بال کٹانا ، کاٹنا ، منڈانا اور مونڈنا درست نہیں جیسا کہ وصل شعر پر لعنت اور غسل جنابت میں شعر مضفور میں رعایت والی احادیث سے ثابت ہوتا ہے دونوں صورتوں میں درست نہیں بچی اپنی مرضی سے یہ کام کرے یا خاوند وغیرہ کے کہنے پر یہ کام کرے البتہ احرام کھولتے وقت عورت پر تقصیر ہے ۔ واللہ اعلم ۱۲/۵/۱۴۱۸ہـ

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل
جلد 01 ص 525


کتاب: اجتماعی نظام
صفحہ نمبر: 738

اجتماعی نظام - صفحہ 738 (https://shamilaurdu.com/book/ijtimaee-nizam/738/)
 
Top