آخرت کے دن پر ایمان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ۔ (الانبیاء:۱۰۴)
جس طرح ہم نے پہلی بار(لوگوں کو) پیدا کیا اسی طرح دوبارہ پیدا کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ وعدہ ہے۔ ہم ضرور ایسا کر کے رہیں گے۔


قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا جس سے تمام لوگوں کی موت واقع ہوجائے گی۔ اس کے بعد پھر صور پھونکا جائے گا تو تمام لوگ قبروں سے دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور اللہ کے دربار میں پیش ہوں گے، حساب وکتاب اور میزان قائم کیا جائے گا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ۔
(الزلزال: ۷-۷)
سو جو کوئی ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ بھی اسے دیکھ لے گا۔


اللہ کے حکم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے کثیر امت جنت میں داخل ہوگی۔ اہل ایمان کو جنت اور اہل کفار کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ قبر کے انعام اور عذاب، حوض کوثر، پل صراط اور جنت و دوزخ پر ایمان لانا بھی یوم آخرت پر ایمان لانے میں شامل ہیں، جن کا قرآن وحدیث میں ذکر فرمایا گیا ہے، اور ان چیزوں کا انکار کرنا کفر ہے۔
 
Top