تقدیر پر ایمان

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۗ إِنَّ ذَٰلِكَ فِي كِتَابٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ۔ (الحج: ۷۰)
کیا تم نہیں جانتے کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے، سب کچھ ایک کتاب میں(درج) ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے۔


اللہ تعالیٰ نے اپنے علم مشیت و ارادے سے کائنات کا ہر امر اور انسان کی اچھی یا بری تقدیر ان کے وجود سے قبل مقرر فرمادی تھی۔ اللہ کے علم کی نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ انتہا۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں جہل کا کوئی شائبہ نہیں کہ تجدید کی ضرورت پیش آئے اور نہ ہی اسے علم کے بعد سہو ونسیان لاحق ہوتا ہے۔

تقدیر کی خیر اور شر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ چنانچہ بندوں سے جو بھی اقوال وافعال صادر ہوتے ہیں یا جن کاموں کو وہ ترک کرتے ہیں وہ سب اللہ کے علم اور اس کی تقدیر میں لکھے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت سے ان کو پیدا کیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ۔ (الصفت:۹۰)
حالانکہ تم کو اور جو تم کرتے ہو سب کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے۔


  • خیر سے مراد نیک اعمال اور آسانی رزق ہے۔ اور یہ اللہ کے حکم اور اس کی تقدیر کی وجہ سے ہیں۔ خیر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہے۔
  • شر سے مراد مقتضیات یعنی فیصلوں کے تقاضے ہیں جو مصائب وتکالیف اور بد اعمال کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں اور وہ بھی تقدیر میں لکھے گئے ہیں۔ شر کو شیطان یا اپنے نفس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔
تقدیر کے مقتضیات میں بعض شر مثلاً مصائب وتکالیف بندے کی قدرت واختیار میں نہیں ہیں۔ یہ اللہ کے حکم اور ارادے سے بندے کی تقدیر میں لکھے گئے ہیں۔ اس کی دلیل دعائے قنوت کا یہ جملہ ہے :

و قنا شر ما قضیت۔
اے اللہ! مجھے اس چیز کے شر سے محفوظ رکھ جس کا تونے فیصلہ فرما دیا ہے۔


مقتضیات شر میں سے مصائب وتکالیف اللہ کے اختیار میں ہے جب کہ بد اعمالیاں اور گناہ انسان کے اختیار میں ہیں کہ چاہے انہیں کرے یا نہ کرے۔ اللہ نے اپنے علم کی بدولت ان کے صدور سے پہلے انسان کی تقدیر میں لکھ دئیے ہیں۔ اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔ لیکن بد اعمال کو اللہ کی طرف منسوب کرنا یا ان کے جواز پر تقدیر کا سہارا لینا غلط ہے۔ اس شر کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

و الشر لیس الیک۔ (صحیح مسلم:۲۰۱)
اے اللہ! تیری طرف شر(بد عمل منسوب) نہیں ہوسکتا۔


اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اوامر ونواہی کا مکلف ٹھرایا ہے۔ بندے کے اعمال اس کی قدرت واختیار سے انجام پاتے ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ بندوں کو نیکی پر جزا اور بدی پر سزا دیتا ہے اور وہ ظلم وزیادتی سے پاک ہے۔

ارشادباری تعالیٰ ہے :

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ (الروم:۴۱)
زمین وآسمان میں جو فساد ہے یہ سب لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے۔
 
Top