ذیشان خان

Administrator
علماء حق کی وفات اور ہم پر عائد ذمہ داریاں

✍: شیخ عبد السلام سلفیؔ حفظہ اللہ

(خطبۂ جمعہ: مسجد جامعہ منصورہ، ۲٦؍مارچ ۲۰۲۱ء)
━════﷽════━
الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين. أما بعد:

علماء کی موت مصیبت ہے:
جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کے قابل قدر ذمہ داران، عزت مآب علماء کرام، عزیز طلباء، اور دیگر محترم حاضرین جمعہ!
آج کا دن ہمارے اور جامعہ محمدیہ کے تمام منتسبین، جماعت اہل حدیث اور سلفیان عالم کے لیے صدمے اور مصیبت کا دن ہے، اس لیے کہ ہم سب کے مربی، ہم سب کے مشفق، جماعت اور جامعہ کی متفق علیہ اور معتبر شخصیت آج ہم سے جدا ہوگئی۔
آپ جانتے ہیں کہ علماء کی موت مصیبت ہے، جس طرح علماء کی زندگی غنیمت ہے ایسے ہی علماء کی موت مصیبت ہے۔ اور آپ کی شخصیت علماء حق کے یہاں معتبر اور متفق علیہ شخصیت ہے۔
واضح رہے کہ وہ اہل علم جو علماء کے ہاں معتبر ہوں وہ معتبر ہوتے ہیں، جو اہل علم عوام کے یہاں معتبر ہوں وہ معیار نہیں ہے، معیار یہ ہے کہ علماء علماء کے یہاں معتبر سمجے جائیں۔
❍ اہل علم کہتے ہیں کہ ’’علماء کو در حقیقت علماء ہی پہچانتے ہیں‘‘۔
لیکن افسوس! کہ ہمارے یہاں پیمانہ یہ بن گیا کہ آج علماء کے تعین اور ان کی قدر ومنزلت اور حیثیت عوام متعین کرتی ہے، جبکہ اصل یہ ہے کہ علماء کی حیثیت علماء متعین کرتے ہیں، کیونکہ ان کا علم، ان کا فضل، ان کی ثقاہت‘ اصول وضابطوں سے اگر کوئی جانتا ہے تو علماء جانتے ہیں۔ اہل علم ہی یہ جانتے ہیں علماء جب رخصت ہوتے ہیں تو وہ ایسی خلا دے کر کے جاتے ہیں جو کبھی بھرتا نہیں، جو خلا پر نہیں ہوتا، اور اہل علم کی نگاہیں بہت اچھی طرح اس بات پر ہوتی ہے کہ ایک بڑا عالم جب جاتا ہے تو وہ کتنا خلا چھوڑ کے جاتا ہے، اور وہ دیکھتے ہیں کہ اس کے پر ہونے کی شکل کیا ہے؟
اللہ تعالی جامعہ محمدیہ اور جماعت کو آپ کے جانے کا جو صدمہ اور جو نقصان پہونچا ہے اپنی رحمت خاص سے اسے دور فرمادئے اور ہم سب پر رحم فرمائے۔

نعمتوں کی قدرکریں:
میرے بھائیو! عام طور پر ہم اس وقت جاننےاور سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں‘ جب ہم کسی بڑی نعمت یا کسی بڑے عالم کی نعمت سے محروم کردئیے جاتے ہیں، اس وقت عام طور پر لوگ احساس کرتے ہیں، ایسا نہیں ہے کہ لوگ احساس نہیں کرتے، اور ان کی قدر ان کے موجودگی کی نعمت کو اللہ کا فضل ہونا نہیں مانتے، لیکن عام طور پر یہی صورتحال ہے کہ جب حادثہ بڑا ہوتا ہے اور بھرپائی کی کوئی شکل نظر نہیں آتی ہے‘ تب احساس ہوتا ہے اور اس وقت باتیں ہوتی ہیں۔
دکتور فضل الرحمن مدنیؔ رحمہ اللہ کا ہمارے بیچ سے جانا بہت بڑا صدمہ ہے، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، اور ان کے اہل خانہ، اہل وعیال کو صبر جمیل کی توفیق دے، اور ان کی مسلسل علالت کی اس مدت میں جنہوں نے بھی جو کوششیں ان کی شفایابی اور ان کی راحت وعافیت کے لئے کی ہیں‘ اللہ تعالی انہیں بہتر سے بہتر بدلہ عطا فرمائے اور جامعہ کو اور سارے منتسبین اور سارے اہل و عیال کو آپ کا نعم البدل عطا فرمائے، آپ نے جس عظمت و ثقاہت اور جس اعتبار کے ساتھ اپنی پوری زندگی کام کیا ہے‘ اس عمل کو جاری رکھنے کی شکل پر ہمیں حتی الامکان غور کرنے کی اور شکل بندی کی اللہ توفیق دے۔
✺ میرے بھائیو! میرے لیے آپ جیسے فضلاء اور دکاترہ اور معزز اہل علم کے بیچ میں میں بولنا بہت بھاری ہے، لیکن جامعہ کے صدر محترم شیخ ارشد مختار حفظہ اللہ کا یہ کہہ اصرار کہ آج آپ کی شخصیت سے جڑے ہوئے جامعہ کے جتنے بھی علماء اور ذمہ دار ہیں سب کافی متاثر ہیں، سو آج تھوڑی دیر کے لئے آپ خطبۂ جمعہ دے دیجئے، لیکن میں یہ بات اندر سے یہ کہتا ہوں کہ واللہ! میں آپ کے بیچ میں ایک ذمہ دار ضرور ہوں‘ لیکن آپ ہمارے سامنے ہماری نظروں میں، طالب علم کی نظروں میں بہت ساری شخصیتیں ایسی ہیں جو علم و فضل میں مجھ سے بڑی ہیں، لیکن نظام کی پابندی کرنا‘ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے، اسی نظام کے تحت میں آپ کے بیچ میں بحثیت خطیب جمعہ آج کھڑا ہوا ہوں۔

خیر و برکت علماء کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے:
اس موقع پر ہم سب کو اس سچائی پر جمے رہنے کی ضرورت ہے اور اسے اپنی عملی زندگی میں لے کر چلنے کی ضرورت ہےکہ علماء حق اس روئے زمین پر انبیاء کے وارث ہیں، علمائے حق اکابر ہیں، علماء حق کے ساتھ برکتیں ہیں.
⦿ پیارے نبیﷺ نے فرمایا کہ: ’’البَرَكةُ مَعْ أَكَابِرِکُمْ‘‘، خیر و برکت تمہارے بڑوں اور علماء کے ساتھ ہے۔ [صحیح ابن حبان: ۵۵۹]
چنانچہ جو علماء کے ساتھ جڑا رہے گا وہ خیر وبرکت میں رہے گا، جیسے اپنے اپنے دور کے انبیاء کے ساتھ جو لوگ جڑے، اپنے آپ کو ان سے وابستہ کیا، اور ان کی صحبتوں سے اپنے آپ کو سرفراز کیا‘ تو وہ ہر طرح کی خیروبرکت میں رہے، ایسے ہی ہر دور اور ہر زمانے کے لوگ جب خود کو علماء کے ساتھ وابستہ کریں گے، ان کا مقام اور کی عظمت پہچانیں گے، ان کا حق دیں گے تو وہ بھی خیر و برکت میں رہیں گے۔
آج ہم اپنے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں دیکھیں کہ ہمارا اور آپ کا علماء کے ساتھ کیسا تعامل ہے؟ علماء کے ساتھ ہمارا تعامل افسوسناک ہے، علماء کے ساتھ تعامل رونے کا ہے۔
علماء کے ساتھ حسنِ تعامل اور ان کی قدر ہمارے اکابر جانتے تھے، ہم پوچھیں تاریخ سے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق، کہ آپ اپنے استاذ ناصر السنۃ محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی کتنی قدر اور کتنی تعظیم کرتے تھے، آپ سوچ سکتے ہیں؟ ہم لوگ خالی سوچ سکتے ہیں یا کبھی بول سکتے ہیں، لیکن عام طور پر عملی زندگی میں یہ چیز نہیں دیکھتے کہ ایک ہمارا استاذ ہے، جس سے ہم نے علم اور تربیت حاصل کی ہے، کیا اس کے لیے ہم کبھی دعائیں بھی کرتے ہیں؟ عام طور پر پتہ نہیں، لیکن آپ دیکھئے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ روزآنہ اپنے استاذ کے حق دعا کرتے ہیں، آپ کے فرزند ارجمند پوچھتے ہیں کہ ابا جان یہ کون سی شخصیت ہیں کہ آپ ان کے حق میں روز دعا کرتے ہیں؟
میرے بھائیو! وہ سنت کے علمبردار تھے، وہ سنتوں کے شیدائی تھے، ہماری آپ کی نسبت بھی سنت و حدیث کے ساتھ اللہ تعالی نے بطور فضل جوڑ دی ہے، لیکن کیا ہم کبھی غور کرتے ہیں کہ ہم اپنے علماء کے لیے کتنی دعائیں کرتے ہیں؟ ان کا کتنا ادب اور تعظیم بجا لاتے ہیں؟ اور ان کے جانے کے بعد ہم کتنا ان کے مشن، ان کے اخلاق اور ان کے قدروں کو ان کی زندگی میں صرف علم کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ عمل کے اعتبار سے جو جاری تھیں اس کو کتنا آگے بڑھاتے ہیں؟ کتنا لے کر چلتے ہیں؟
باتیں کرنے والے بہت ہیں، لیکن باتوں اور علم کا اس وقت تک کوئی اعتبار نہیں ہے، جب تک کی باتوں اور علم کی روشنی میں ہم عمل نہ کرتے ہوں، آپ دیکھیے کہ ہماری نسبت سنت اور حدیث کے ساتھ ہے، یہ ہمارے لئے شرف ہے، اور رب العالمین کا یہ فضل ہےکہ ہماری نسبت اہل حدیثیت کے ساتھ ہے، ہم سلفیت کے ساتھ جڑے ہیں، اور ہم حقیقت میں اہل السنہ ہیں۔
یہ بات واضح رہے کہ ہندوستان میں ہمارے لئے اہل السنہ کی نسبت کافی نہیں ہوسکتی جب تک کہ ہم اپنے آپ کو سلفی اور اہل حدیث نہ کہیں۔ اور اس نسبت کا کچھ تقاضا بھی ہے، وہ یہ ہے کہ جیسے ہمارے سلف سنت و حدیث کے شیدائی تھے، وہ ایک ایک سنت اور اس کے رنگ میں چلنے کے لیے بے تاب رہا کرتے تھے، اور سنتوں پر زندگی گزرے اور سنتوں پر ہی موت آئے اس کے لئے ایک دوسرے سے دعا کی درخواست کرتے تھے، ویسے ہی ہم سے بھی مطلوب ہے کہ ہم بھی سنتوں کے رنگ میں چلنے والے بنیں۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے لیے کوئی بھائی دعا کر رہے تھے تو انہوں نے کہا میرے لئے اللہ تعالی سے دعا کرو کہ میں سنت پر ہی زندہ رہوں، اور سنت پر ہی میری موت ہو۔

دکتور رحمہ اللہ کی عظیم شخصیت اور ہماری ذمہ داری:
دکتور رحمہ اللہ جیسی بزرگ شخصیت، ہم سب کی علمی فقہی اور اخلاق کے بلند مقام کی معتبر شخصیت، جامعہ محمدیہ اور جماعت کی عظیم شخصیت بتقاضۂ الہی ہمارے بیچ میں نہیں رہی، لیکن وہ ہمارے بیچ علم و عمل کے ایک نمونہ تھے، ہمارا فرض ہے کہ علم کے ساتھ ہم بھی ایسے ہی اپنا اعتبار، اپنا مقام بنائیں اور اپنی کوششیں اور اپنا درد علم و سنت کی روشنی میں لے کر چلیں، اور جہاں خود دعا کریں وہیں اپنے بھائیوں سے بھی دعا کی درخواست کریں کہ ہماری زندگیوں میں جہاں سنت کا علم ہو، وہیں ساتھ ہی اس پر عمل بھی ہو، اور جب ہماری موت ہو تو اسی سنت پر ہو۔

معتبر علماء کی پہچان کا معیار:
دینی بھائیو! ہمارے یہاں کوئی عالم تبھی معتبر مانا جاتا ہے جب وہ علماء کے یہاں معتبر ہو، آپ دیکھے! کہ اہل علم اور جماعت وجامعات میں جہاں تک ہمارا تعلق پھیلا ہوا ہے وہاں دکتور کی شخصیت کتنی معتبر ہے؟
میرے بھائیو! اگر ہمارے یہاں کسی کا اعتبار عوامی ترجیحات اور شہرت وغیرہ کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے، اس کے علم وعمل کا اعتبار نہیں کیا جاتا، تو آپ یہ سمجھئے کہ جماعت بہت بڑے نقصان اور کھائی میں جارہی ہے، اور افسوس کہ عام طور پر یہی مسئلہ ہے۔

علماء حق کی اطاعت سب پر واجب ہے:
جس قوم میں علماء کے تابع عوام نہ ہو، اور جس جماعت میں علماء کے تابع سسٹم نہ ہو وہاں تباہی ہوگی، سسٹم علماء کے تابع ہونا چاہئے۔
⦿ علماء تفسیر نے اللہ کے اِس فرمان: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ } [النساء: ۵۹] کے تحت بہت کچھ لکھا ہے ۔
{أُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ} کے متعلق علماء کی تحریروں کا خلاصہ جو کچھ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ کہ اولوالامر سے مراد حکام اور علماء ہیں، لیکن حکام بھی حقیقت میں علماء کے تابع ہیں، جیسے اولوالامر: یعنی اہل علم کتاب وسنت کے تابع ہیں، ایسے ہی حکام علماء حق کے تابع ہیں۔
لہذا حقیقت میں اگر دیکھا جائے تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد علماء کی اطاعت ہی سب پر واجب ہے، حکام کے لئے بھی یہ واجب ہے کہ ان کا سسٹم علماء کی رہنمائی کے بغیر نہیں چلنا چاہیے، الغرض جو بھی سسٹم دین اور شریعت سے جڑا ہوا ہے وہ معتبر علماء کی رہنمائی وہدایت کے بغیر نہیں چلنا چاہیے، اگر چلنا چاہئے تو اھل علم کی رہنمائی میں ہی چلنا چاہیے۔

فتنوں سے نجات کے لئے علماء سے وابستگی ضروری ہے:
❍ امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ’’سمندر کی لہروں کی تعداد میں بھی اگر شبہات آئیں، یا کثرت کے ساتھ اگر شبہات آئیں، تو بھی وہ علماء کو متزلزل نہیں کرسکتے‘‘۔
اور آپ دیکھئے کہ کتنے شبہات آئے، اپنے ملک ہی میں دیکھئے کہ کتنے فتنے آئے؟ اور کتنے فتنے چل رہے ہیں، اور کتنے اللہ کے فضل سے چلے بھی گیے۔
غور کا مقام یہ ہے ان فتنوں کو سب سے پہلے پہچان کر نشاندہی کس نے کی؟ یقینا علماء نے کی، اور جو عوام تھی انہیں تو بعد میں سمجھ آیا، جو جذباتی قسم کے عام لوگ تھے اگرچہ وہ ہمارے مخلص نوجوان ہی کیوں نہ رہے ہوں‘ انہیں فتنے بہت بعد میں سمجھ آئے، انہوں نے علماء کی پروا نہیں کی تو فتنوں کی زد میں آئے، انہوں نے اپنے آپ کو، اپنی فیملیوں کو، اور اپنے سے جڑے سارے منتسبین کو مشکلات میں ڈالا۔
لیکن علماء نے فتنوں کو بر وقت پہچانا، خواہ وہ فتنے کسی بھی نام سے رہے ہوں، اب یہ تذکرے کا وقت نہیں ہے کہ تذکرہ کیا جائے، عرض کرنے کا مقصد ہے کہ ذرا غور کریں کہ علماء فتنوں اور شبہات میں نہیں پڑے تھے، شبہات میں تو وہ لوگ جا پڑے جو علماء سے آزاد تھے، جو جماعت کی رہنمائی سے آزاد تھے، اور یہ نہیں سمجھتے تھے کہ علماء ہی سے حقیقت میں جماعت ہوتی ہے اور جماعت سے وابستگی ہی ہمیں فتنوں سے بچاتی ہے، لیکن عام طور پر جو ہوتا ہے اور جو ہوا بہت کچھ نقصان اٹھایا گیا۔

اسلام مخالف سازشیں اور خوارج صفات لوگ:
یہ بات بھی ہمیں بہت سنجیدگی سے سمجھ لینا چاہئے کہ اسلام مخلاف بہت سارا دماغ اس بات پربھی کام کرتا ہے کہ کس طرح سے ایک طبقے کو شکار کیا جائے، اور کس طرح سے عوام کو اہل علم اور راسخین فی العلم سے دور کیا جائے، یہ بہت بڑی کوشش ہورہی ہے۔لیکن یہ خوارج صفات لوگ اس سازش کو نہیں سمجھتے، اور نہ ہی عوام سمجھتی ہے۔
آپ غور کریں تو یقین ہو جائے گا کہ ایسے ہی لوگ علماء کے خلاف باتیں کرتے ہیں، بالخصوص سوشل میڈیا پر یہ حضرات اتنی بیہودانہ باتیں کرتے ہیں کہ ان کا تذکرہ نہیں کیا جاسکتا اور ان کے دفاع میں دیکھئے کہ کتنے لوگ رہتے ہیں؟ دیکھا جاتا ہے کہ ان کے دفاع میں بھی لوگ بہت مختصر تعداد میں رہتے ہیں، یعنی دفاع پر بہت مختصر کوشش ہوتی ہے۔
علماء حق کے خلاف باتیں کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیں جو خوارج صفات ہوتے ہیں۔
❍ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ نے ذوالخویصرہ کی اس بات کہ’’اعدِل يا محمَّدُ فإنَّكَ لم تعدِلْ‘‘ پر لکھا ہے کہ جب آپ ﷺ سے اس طرح کی گستاخانہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آپ عدل کیجئے، آپ انصاف نہیں کرتے، تو لازماً علما کے تعلق سے یہ بات کہی جائے گی۔
اہل علم کے لئے اس میں بہت بڑی بصیرت ورہنمائی ہے کہ اگر پیارے نبی ﷺ کے بارے میں آپ کے سامنے یہ بات کہی جاسکتی ہے تو اہل علم کے بارے میں اس طرح کی بات کیونکر نہیں کہی جاسکتی؟
اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر علماء حق کے تعلق سے اس طرح کی کوئی بات کہی جائے تو اس کا بھی دفاع ہونا چاہئے۔

علماء سے سچی وگہری نسبت کامیابی کے لئے ضروری ہے:
میرے بھائیو! ہمیں سماج کے لوگوں میں اہل علم کا اعتبار و مقام قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے، اگر علماء حق کا مقام ہماری کوششوں سے قائم نہیں ہوگا‘ تو درحقیقت ہماری اسلام سے نسبت بہت ناقص اور ادھوری ہے۔
⦿ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’ليس منّا مَنْ لم يُجِلَّ كبيرَنا، ويرحمْ صغيرَنا ! ويَعْرِفْ لعالِمِنا حقَّهُ‘‘ آپ فرماتے وہ ہم میں سے نہیں جو اپنے بڑوں کا احترام و تعظیم نہ کرتا ہو، اور اپنے چھوٹوں پر -وہ جس اعتبار سے بھی چھوٹے ہوں- شفقت ورحمت کا برتأ نہ کرتا ہو، اور اپنے علماء کا حق اور مقام نہ جانتا ہو۔ [مکارم الاخلاق للطبرانی: ۱۴۷، صحیح الجامع: ۵۴۴۳]
⦿ اوراسی طرح آپ نے ایک جگہ اور فرمایا کہ: ’’إنَّ مِن إجلالِ اللهِ إكرامَ ذي الشَّيبةِ المُسلِمِ، وحاملِ القُرآنِ‘‘۔ [سنن ابی داود: ۴۸۴۳، وحسنہ الألبانی]
ہم میں جو بزرگ اورعمر دراز ہیں ان کی تعظیم کرنا ، اور حامل قرآن عالم کی تعظیم کرنادرحقیقت اللہ کی تعظیم ہے۔
دینی بھائیو! ہم غور کریں کہ کیا ہم میں چھوٹے بڑے لوگ اپنے کسی عالم کی، سماج کے کسی بزرگ کی، جماعت کے کسی بزرگ کی تعظیم اس نقطہ نظر سے کرتے ہیں کہ ان کی تعظیم ہم پر واجب ہے؟اور ان کی تعظیم در اصل اللہ کی تعظیم ہے؟ ان کے بغیر ہمیں امن نہیں ملے گا؟ ہم دن بدن فساد میں گھرتے چلے جائیں گے، ہمارے حالات ناقص ہوتے جائیں گے، اس لئے اس بات کی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہے۔
❍ سلف کہتے ہیں کہ: ’’علماء ہمارے بیچ میں -ہر زمانے اور ہر طبقے کے لیے- مثل سورج کے ہیں‘‘۔ یعنی جس طرح سورج سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح علماء سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے، علماء سے رہنمائی کے بغیر، ان سے گہری، سچی اور پکی نسبت کے بغیر ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس لئے کی یہ ورثۃ الانبیاء ہیں، یہ لوگ اللہ کی سنت کی بنیاد پر کبھی بھی انبیائی مشن اور اس کے کسی تقاضے کو چھوڑ نہیں سکتے۔

ایک کھوکھلا دعویٰ اور اس کی حقیقت:
اگر کسی کی طرف سے یہ دعوی کیا جاتا ہو کہ علماء فلاں کام نہیں کر رہے تھے تو ہم نے وہ کام اٹھایا، یہ مانتے ہوئے بھی کہ ہم علماء میں سے نہیں ہیں‘ تو کیا وہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کے نظام کے منکر نہیں ہوئے؟
اللہ کے نبیوں کی دعوت اور ان کی اپنی اپنی امتوں کے تعلق سے خیر خواہی کا عمل پوری نبوت کی زندگی میں جس طرح کسی قسم کے بدگمانی سے بلند ہے، ایسے ہی قیامت تک کے لئے امت کی خیر خواہی،اور فلاح و بہبود کے لئے علماء کے تقاضوں کی کوششوں میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہوسکتی، اگر ہو سکتی ہے تو آپ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے جنہیں اپنے نبیوں کا وارث بنایا ہے تو کیا وہ اس کے اہل نہیں ہیں کہ وہ ان ذمہ داریوں کو نبھائیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اہل علم ہی اہل ہیں، اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے ہر دور اور ہر قوم میں نبوت کا سلسلہ جاری رکھا تھا، اس نے جس طرح ہر زبان اور ہر قوم میں نبی بھیجے تھے، ایسے ہی اللہ تعالی ہر زمانے، ہر قوم، اور ہر زبان میں علماء کو بھی بھیجتا رہے گا، تاکہ وہ انبیاء کی وراثت، ان کی نبوت اور نور ہدایت کے سلسلےکو جاری اور عام کرسکیں، اور اس سلسلہ کو زندہ رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ یوں علماء کو پیدا فرماتا رہے گا۔

امت کوعلماء کا مقام ومرتبہ سمجھنے کی ضرورت:
امت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ علماء کون ہے؟ ہمارے لئے علماء کی اہمیت کیا ہے؟ علماء کا مقام کیا ہے؟ اور ساتھ ہی یہ بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ اگر علماءکا مقام ہمارے یہاں سے گھٹ گیا، ہم نے ان کی تعظیم و تکریم اور ان کا اجلال چھوڑ دیا تو دیکھیے اللہ تعالیٰ سزا کیسی دیتا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے علماء بیزار لوگوں کو فاسقوں، فاجروں اوردنیا داروں کے پیچھے لگا دیتا ہے، ہم لوگ اپنی زندگی کے شب وروز اور اس کے تجربات و عمل میں دیکھیں کہ لوگ دنیاوی حیثیت رکھنے والوں کے پیچھے کس طرح بھاگے دوڑے چلے جا رہے ہیں، گھٹنے ٹیکے چلے جا رہے ہیں، یہ ایک طرح سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے امت کے لئے سزا ہے ،کہ تم نے جن کا اصل حق تھا جب تم نے انہیں نہیں دیا‘ تو ہم نے تمہیں ایسے فاسق وفاجر دنیا داروں کے پیچھے لگا دیا۔
⦿ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا} [النساء: ۱۱۵]
میرے بھائیو! اس لئے ہم سب کی اس سلسلے میں کوشش ہونی چاہیے، یہ پہلو ہماری دعوتی زندگی میں بھی شامل رہنی چاہے، تاکہ علماء کے ساتھ عوام کا رشتہ مستحکم رہے، لہذا عوام کو علماء سے جوڑا جائے، جماعت سے جوڑا جائے، ایسے جامعات سے جوڑا جائے جہاں علماء اور وارثین انبیاء تیار کئے جاتے ہیں، اگر ان سے رشتہ کمزور ہوا تو بھلا نہیں ہوسکتا، اور کبھی یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کا بھلا ہو گیا تو ہمارے ساتھ بھلا ہو گیا، نہیں ہر گز نہیں! بلکہ جن سے دینی علم اور تربیت چھین لی گئی، جن سے علماء کا تعلق چھین لیا گیا، اگر چہ ان کا دنیا میں بڑے سے بڑا کنٹکٹ ہوگیا ‘ سمجھ لیجئے کہ وہ اللہ تعالی کے عذاب میں پڑ گئے، انہوں نے جو پسند کیا اللہ تعالیٰ نے وہ دے دیا، اور انہوں نے وہ چیز پسند کی جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔
اس لئے ہم سب کو اس کی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

دعائیہ کلمات:
ایک بار پھر ہم سب اس سوگواری کے ماحول میں اپنے دل سے دعا کریں، اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی دکتور محترم کی مغفرت فرمائے، اللہ تعالیٰ ان کی چھوٹی بڑی لغزشوں کو اپنی رحمت خاص سے مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور وہ جو علم و تربیت، فقہ وفتاوی کا مشن لے کر چلتے تھے‘ ہم میں جن کو بھی اللہ تعالیٰ نے جو بھی توفیق دی ہے اللہ کی توفیق مانگتے ہوئے کوشش کریں، اللہ تعالیٰ جب تک ہم زندہ رہیں گےتیرے تقوی پر رہیں، تیرے نبی کی سنت پر رہیں، نبی ﷺ کے مسلک اور صحابہ کے طریقے پر رہیں اور اے اللہ اسی پر ہماری موت ہو۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین
•┈┈•┈┈•⊰⊙⊱•┈┈•┈┈•
 
Top