کتاب وسنت کی اتباع واجب ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تمام بندوں پر اﷲ کے احکامات کی اطاعت اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی لازم ہے اسی طرح ہر اس قول وعمل کو ترک کرنا بھی ضروری ہے جو کتاب وسنت کے خلاف ہو یہی وہ اطاعت ہے جو لا الٰہ الا اﷲ کی شروط میں سے ہے اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر توحید کا تصور محال ہے نہ ہی اس وقت تک کامیابی حاصل ہوسکتی ہے جب تک کتاب اﷲ وسنت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو انسانوں کے اقوال وآراء پر مقدم نہ کرلیا جائے اس لیے کہ انسانوں کے اقوال میں غور وفکر کر کے ان میں سے صحیح کو قبول اور غلط کو ردّ کیا جاسکتا ہے جبکہ اﷲ و رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کو ہر حال میں قبول کرنا ہوگا اس طرح ائمہ میں سے کسی بھی امام کے قول کو صاحبان بصیرت رد بھی کرتے ہیں اور قبول بھی کرتے ہیں خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو وحی الٰہی کتاب وسنت کو اپنائے رکھتے ہیں اگرچہ کتنی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں بدبخت ہیں وہ لوگ جو ان دونوں کو چھوڑ کر انسانوں کی آراء کو اپناتے ہیں ۔

عبد اﷲ بن سہل رحمہ اﷲ فرماتے ہیں : ’’سنت کو مضبوطی سے تھامے رکھو مجھے یہ اندیشہ ہے کہ لوگوں پر ایسا وقت آجائے گا کہ جب کوئی شخص زندگی کے ہر معاملے میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت وپیروی کی بات کرے گا تو لوگ ایسے شخص کی مذمت کریں گے اس سے دور بھاگیں گے اس کی توہین کریں گے اس سے بیزاری کا اظہار کریں گے ‘‘۔

علامہ سلیمان بن عبداﷲ بن محمد بن عبدالوہاب رحمہم اﷲ کہتے ہیں :

کہ اﷲ سہل پر رحم فرمائے اس نے کتنی سچی اور سمجھداری کی بات کی ہے اب یہی کچھ ہو رہا ہے بلکہ اب تو صرف توحید کے درس خالص اﷲ کی عبادت کے درس اور اﷲ کے علاوہ دوسروں کی عبادت ترک کرنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کے حکم اور ہر چھوٹے بڑے معاملے میں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے فیصلے کو ماننے کی بات کرنے والوں پر کفر کے فتوے لگائے جاتے ہیں۔

(تیسیر العزیز الحمید: ۶۱)


جبکہ ہمیں اﷲ نے اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم قرآن میں۳۳ مقام پر دیا ہے اس لیے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے کہ یہ صراحتًا گمراہی ہے اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے جنگ کے مترادف ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے سورہ نساء میں قسم کھا کر فرمایا ہے کہ جب تک لوگ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کو ہر معاملے میں فیصلہ کرنے والا تسلیم نہ کرلیں اس وقت تک یہ مؤمن نہیں ہوسکتے ۔

فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (النساء: ۶۵)

’تیرے رب کی قسم یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے۔ جب تک آپ (صلی اﷲعلیہ وسلم) کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں اور پھر آپ کے فیصلہ سے اپنے دلوں میں تنگی محسوس نہ کریں اسے مکمل طور پر تسلیم کرلیں‘‘۔

اﷲ تعالیٰ نے انسانوں پر محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے علاوہ کسی شخص کی اطاعت فرض نہیں کی ۔

فرمان ربانی ہے :

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (آل عمران: ۱۳۲)

’’اﷲ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تاکہ تم پر رحم کیا جائے ‘‘۔


اس آیت میں اﷲ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ اس کی اطاعت کریں اور اس کے رسول کی یہ حکم وجوب کے لئے ہے یعنی اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت لوگوں پر واجب ہے دیگر بہت سی آیات بھی اس کی تائید میں موجود ہیں ۔ جب کہ یہ حکم اور امر وجوب کے لئے ہے تو ہر شخص جانتا ہے کہ واجب حکم کی خلاف ورزی گناہ ہے اﷲ و رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی معصیت ہے ۔

اﷲ کا فرمان ہے :

فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (النور: ۶۳)

’’جو لوگ اﷲ کے حکم کی مخالفت کر رہے ہیں انہیں اس بات سے ڈرنا چاہیے کہ انہیں کوئی مصیبت یا دردناک عذاب پہنچ جائے ‘‘۔


(مخالفت اس سے مراد رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت بھی ہوسکتی ہے کیونکہ آپ کی مخالفت اﷲ کی مخالفت ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت اﷲ کی اطاعت ہے)

اس آیت میں اﷲ نے اپنی مخالفت کرنے والوں کو ڈرایا ہے کہ انہیں فتنہ پہنچ سکتا ہے یا عذاب الیم امام احمد رحمہ اﷲ فرماتے ہیں ’’کیا تمہیں معلوم ہے کہ فتنہ کیا ہے ؟ فتنہ شرک ہے جب کوئی شخص اﷲ کے کسی فرمان سے اعراض کرے گا تو ہوسکتا ہے کہ اس کے دل میں (اﷲ کے احکام کے بارے میں) شک پیدا ہوجائے اور اس طرح وہ شخص ہلاکت میں پڑجائے ‘‘۔

اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے :

قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْهِ مَا حُمِّلَ وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ وَإِنْ تُطِيعُوهُ تَهْتَدُوا وَمَا عَلَى الرَّسُولِ إِلا الْبَلاغُ الْمُبِينُ (النور: ۵۴)


’(اے محمد صلی اﷲعلیہ وسلم ) کہہ دیجئے اﷲ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر یہ لوگ پھر جائیں تو اس پیغمبر پر وہی ذمہ داری ہے جو اس پر ڈالی گئی ہے اور تم پر وہی ہے جو تم پر ڈالی گئی ہے اگر تم اس کی اطاعت کروگے تو ہدایت پاؤگے اور رسول (صلی اﷲ علیہ وسلم) پر تو صرف واضح طور پر پہنچاناہے‘‘۔

اس آیت میں اﷲ نے اپنی اور اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور پھر فرمایا ہے کہ اگر اس رسول کی اطاعت کروگے تو ہدایت یافتہ کہلاؤگے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہدایت صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت سے ہی مل سکتی ہے کہ آیت میں جملہ شرطیہ مذکور ہے اور شرط کا جواب تب پایا جاتا ہے جب شرط پائی جائے لہٰذا ہدایت مشروط ہے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کے ساتھ اطاعت ہے تو ہدایت ہے ورنہ نہیں اسی لیے اﷲ تعالیٰ نے فلاح و کامیابی کا مدار اپنی اور اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت پر رکھا ہے۔

جیسا کہ ارشاد ہے :

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (احزاب: ۷۱)

’’جس نے اﷲ اور اس کے رسول کی اطاعت کی اس نے بہت بڑی کامیابی حاصل کرلی ‘‘

اور اﷲ نے اپنے اور اپنے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے نافرمان کو واضح اور کھلا گمراہ قرار دیا ہے فرمایا :

وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالا مُبِينًا (احزاب: ۳۶)

’’جس نے اﷲ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی نافرمانی کی وہ واضح طور پر گمراہ ہوا‘‘۔

ایک مقام پر اﷲ تعالیٰ ہمیں حکم دے رہا ہے کہ ہم اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے قول کو اپنا لیں اسے فی الفور قبول کرلیں :

وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا (الحشر:۷)

’’جو کچھ تمہیں رسول دے اسے لے لو اور جس سے منع کردے اس سے رک جاؤ‘‘۔


اسی طرح رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی اطاعت سے متعلق احادیث بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں جن میں سے بخاری مسلم کی مندرجہ ذیل روایتیں ہیں :

انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :

((من رغب عن سنتی فلیس منی))

’’جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں ہے‘‘(میرے ساتھ تعلق نہیں)

ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا :

((کل امتی یدخلون الجنة الا من ابی ،فقالوا یا رسول اﷲ من ابی ؟ قال من اطاعنی دخل الجنة ومن عصانی فقد ابی))


’میری ساری امت جنت میں داخل ہوجائے گی مگر جس نے انکار کیا (صحابہ رضی اﷲ عنہم اجمعین نے) کہا کہ انکار کون کرے گا ؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں گیا اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کردیا ۔‘‘
 
Top