ذیشان خان

Administrator
تم تسبیح سے رُک جاؤ اور امت محمدیہ کے لیے استغفار کرو

🌸 از قلم :
حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ

🌸 ناشر :
البلاغ اسلامک سینٹر
ا=========================
الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، اما بعد:

محترم قارئین! صحیح حدیث میں ہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”إِذَا دَخَلَ رَمَضَانُ فُتِّحَتْ أَبْوَابُ الجَنَّةِ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ جَهَنَّمَ، وَسُلْسِلَتِ الشَّيَاطِينُ“ ”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور (سرکش) شیاطین کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے“۔
(صحیح البخاری :3277 و صحیح مسلم :1079 و سنن النسائی :2110)
مذکورہ حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو اللہ تعالی اپنے بندوں کو کئی انعامات سے نوازتا ہے لیکن ایک دوسری حدیث میں ایک اور انعام کا ذکر ہے، جس کی تحقیق اِس تحریر میں پیش کی جا رہی ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

💓 محدث شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ الدیلمی رحمہ اللہ (المتوفی:509ھ) فرماتے ہیں:
”أخبرنا محمد بن الحسن الحافظ، أخبرنا عبد العزيز بن محمد بن علي بن يمامة، حدثنا إدريس بن سليمان الموصلى، حدثنا عبد الله بن أبي العلاء، حدثنا يونس، عن الزهري، عن علي بن الحسين، عن أبيه، عن جده، عن علي بن أبي طالب، قال : قال رسول اللہ ﷺ : ”إذا دخل شهر رمضان أمر الله حملة العرش أن يكفوا عن التسبيح، ويستغفروا لأمة محمد والمؤمنين“.

[ترجمہ] علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو اللہ تعالی عرش اٹھانے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ تم (میری) تسبیح سے رک جاؤ اور امت محمدیہ اور مؤمنین کے لیے بخشش طلب کرو“۔

[تخریج] الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس للحافظ بتحقیق الدکتور العربی الدائز الفریاطی :1/666-667، ح:293.

[حکم حدیث] اِس کی سند سخت ضعیف ہے۔

[سبب] اِس سند میں دو (2) راوی ایسے ہیں جن کا ترجمہ نہیں مل سکا:
(1) عبد اللہ بن ابی العلاء :
(2) ادریس بن سلیمان الموصلی :
ابن ابی العلاء کی بابت دکتور العربی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
” لم اقف علیہ“
”میں اِن کے ترجمے سے واقف نہیں ہو سکا“۔
(الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس للحافظ بتحقیق الدکتور العربی الدائز الفریاطی :667/1)

[تنبیہ] دکتور العربی حفظہ اللہ ”ادریس بن سلیمان الموصلی“ کو ”ادریس بن سلیم الموصلی“ مانتے ہوئے فرماتے ہیں:
”والظاہر ان فیہ سقطا بین ابن ثمامۃ والموصلی لبعد ما بین وفاتیہما“ ”ظاہر یہ ہے کہ سند میں ابن ثمامہ (المتوفی:483ھ) اور موصلی (المتوفی:278ھ) کے درمیان سقط ہے کیونکہ دونوں کی وفات میں دوری ہے“۔
(الغرائب الملتقطة من مسند الفردوس للحافظ بتحقیق الدکتور العربی الدائز الفریاطی :667/1)

راقم کہتا ہے کہ سند کا کچھ حصہ ساقط اُس وقت مانا جاتا جب سند میں ”ادریس بن سلیم الموصلی“ ہوتے لیکن یہاں تو ”ادریس بن سلیمان الموصلی“ ہیں جیساکہ سند میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے اور اِس کی شہادت آپ نے خود دی ہے، اِن الفاظ میں:
”کذا فی الاصل بخط ابن حجر : ادریس بن سلیمان الموصلی“ ”حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی لکھی ہوئی اصل میں اسی طرح ”ادریس بن سلیمان الموصلی“ ہے“۔
لہذا دریس بن سلیمان الموصلی کو ”ادریس بن سلیم الموصلی“ ماننے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔

نیز آپ حفظہ اللہ نے اپنے عمل کی تائید میں کوئی معقول اور مضبوط دلیل پیش نہیں کی ہے لہذا بغیر کسی معقول اور مضباط دلیل کے ”ادریس بن سلیمان الموصلی“ کو ”ادریس بن سلیم الموصلی“ ماننا صحیح نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔

🌸 خلاصۃ التحقیق :
زیر بحث روایت سخت ضعیف ہونے کی وجہ سے نا قابلِ احتجاج ہے۔ واللہ اعلم۔

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین.

حافظ اکبر علی اختر علی سلفی / عفا اللہ عنہ
صدر البلاغ اسلامک سنٹر
 
Top