شرک سے دشمنی اور برأت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :

من قال لا اله الا اللّٰہ وکفر بما یعبد من دون اللّٰہ حرامه ماله دمه وحسابه علی اللّٰہ [صحیح مسلم: ۲۳]

جس نے کہا کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں اور (عمل سے اس چیز کا) انکار کیا جس کی اللہ کے علاوہ عبادت کی جاتی تھی اس کا مال اور خون حرام ہے اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔


شرک اور اہل شرک سے نفرت وبغض اور دوری و برأت اختیار کرنا توحید کے تقاضوں اور حقوق و فرائض میں سے ہے جس کے بغیر توحید مکمل نہیں ہوتی۔

توحید کیلئے ضروری ہے کہ غیر اللہ، طاغوت، شرک اور اہل شرک سے برأت کی جائے۔ آدمی تب ہی اہل توحید کہلاتا ہے جب وہ مشرکین سے مکمل برأت کرتا ہے۔

اللہ تعالی نے اسی توحید خالص کو مسلمانوں پر فرض کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسی کی طرف دعوت دی ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

وَأَذَانٌ مِّنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ إِلَى النَّاسِ يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ أَنَّ اللَّهَ بَرِيءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۙ وَرَسُولُهُ ۚ [توبہ: ۳]

اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی طرف سے حج اکبر کے دن لوگوں کو صاف اعلان کر دو کہ اللہ اور اس کا رسول مشرکین سے بری ہیں۔


مشرکین سے برأت اور انکار کرنا توحید اور اسلام کے اصولوں میں سے ہے اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اپنی توحید ثابت کرنے کیلئے شرک اور اہل شرک سے برأت کرے لیکن افسوس ہے کہ مسلمانوں میں اس معاملے میں بہت لاعلمی پائی جاتی ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ [البقرہ: ۲۵۶]

جس نے طاغوت کا انکار کیا اور اللہ پر ایمان لایا پس اس نے مضبوط کڑے (سہارے) کو تھام لیا جو ٹوٹنے والا نہیں اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔


طاغوت ہر اس ذات اور چیز کو کہتے ہیں جس کو اللہ تعالٰی کے ساتھ شریک ٹھرایا جائے اور وہ اپنے شریک ٹھرائے جانے پر راضی ہو۔

شیخ عبدالرحمن بن حسن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

اس امت میں توحید کی مخالفین کی قسمیں ہیں جو اللہ تعالٰی کی ربوبیت والوہیت میں مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا مشرک ہیں جو غیراللہ کو پکار رہے ہیں اور عبادت کے مختلف طریقوں سے اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا وہ جاہل و لاعلم لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ شرک اللہ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اکثر عوام اس طرح کی ہے یا تو وہ جاہل ہیں یا اپنے اسلاف کی تقلید کر رہے ہیں اس لئے کہ دین سے ناوقفیت زیادہ ہوگئی ہے اور انبیاء کرام کا دین بھلا دیا گیا ہے۔

[فتح المجید : ۳۹۷]


ہر قسم کے شرک اور طاغوت سے برأت و انکار کرنا ہی توحید کی بنیاد ہے جسے مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا گیا ہے اور کلمہ لا اله الا اللّٰہ کا یہی معنی و مفہوم ہے کہ ہر شرک اور طاغوت کا انکار کیا جائے۔

امام محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

میرے بھائیو تمہیں اللہ کا واسطہ اپنے دین کی بنیاد تھام لو شروع سے آخر تک اور یہ بنیاد ہے لا اله الا اللّٰہ اس کا معنی و مطلب سمجھو اس سے محبت رکھو اس کے ماننے والوں سے محبت رکھو انہیں اپنا بھائی بناؤ اگرچہ وہ تم سے دور ہی کیوں نہ ہوں طاغوت کا انکار کرو اس سے نفرت کرو، طاغوت کے ماننے والوں سے نفرت کرو ان سے بھی نفرت کرو جو ان کی حمایت کرتے ہیں یا ان کو کافر نہیں سمجھتے یا یہ کہتے ہیں کہ ہمارا انکے کرتوتوں سے کیا واسطہ یا یہ کہتے ہیں کہ میری ذمہ داری نہیں کہ میں طاغوت کے پیروکاروں سے دشمنی کروں اگر کوئی ایسی بات کرتا ہے تو وہ اللہ کی بات کو جھٹلاتا ہے بلکہ اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے اس پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے اس پر فرض کر دیا ہے کہ وہ طاغوت کا انکار کرے اس سے اور اس کے ماننے والوں سے نفرت و بیزاری و برأت کا اعلان کرے اگرچہ وہ اس کے بھائی اور اولاد ہی کیوں نہ ہوں۔ لہذا ان باتوں کو مضبوطی سے تھام لو تاکہ تم اللہ کے پاس جاؤ تو مشرک بن کے نہ جاؤ، اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام پر موت دے اور ہمیں صالحین کے ساتھ یکجا کر دے۔

[مجموعۃ التوحید : ١-١٤١]


اللہ تعالٰی نے مشرکین سے اس قدر بیزاری کا اعلان کیا ہے کہ مسلمانوں کو مشرکین کیلئے دعائے مغفرت سے منع فرما دیا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ [التوبہ : ۱۱۳]

نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور اہل ایمان کیلئے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کیلئے دعائے مغفرت کریں چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ وہ جہنمی ہیں۔


اللہ تعالٰی نے مشرکین سے میل ملاپ اور دوستی سے منع فرمایا ہے کیونکہ توحید کا تقاضہ ہے کہ مشرکین سے مکمل دوری اختیار کی جائے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ وَلَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ [البقرہ : ۲۲۱]

مشرکہ عورتوں سے تب تک نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں، مومنہ لونڈی مشرکہ عورت سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔ مشرک مردوں سے تب تک نکاح نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں، مومن غلام مشرک مرد سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں پسند ہو۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

انابری من کل مسلم یقیم بین اظھرالمشرکین. [ابوداؤد: ٢٦٤٠]

میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکوں کے درمیان رہائش اختیار کرے۔


بیشک دین اسلام اور توحید، شرک اور اہل شرک سے دشمنی اور برأت سے عبارت ہے جس کا خلاصہ یہ بیان کیا گیا ہے :

الاستسلام للّٰہ بالتوحید، والانقیاد له بالطاعۃ، والبرأۃ من الشرک واھله۔

یعنی تن من دھن کے ساتھ اللہ کا ہو جانا بصورت توحید، اپنی نکیل اس کے ہاتھ میں دے دینا بصورت اطاعت اور ہر قسم کا ناطہ توڑ لینا شرک اور اھل شرک سے۔

امام محمد بن عبدالوہاب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

دین اسلام کی دو بنیادیں ہیں ایک اللّٰہ وحدہ لاشریک کی عبادت کاحکم دینا، لوگوں کو اس کی دعوت دینا جو لوگ توحید پر کاربند ہوں انہیں اپنا دوست اور ولی سمجھنا اور دوسرا جو لوگ اکیلے اللّٰہ کی عبادت کا انکار کریں اور اس کے ساتھ شرک کریں ان کی تکفیر کرنا۔


تمام انبیاء نے توحید کی بنیاد پر مشرکین سے برأت اور عداوت کو اختیار کیا اور اس کی دعوت دی کیونکہ عقیدہ توحید کا تقاضہ ہے کہ مشرکین سے بغض و عداوت کے ذریعے اس کا اثبات اور اظہار کیا جائے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ [الممتحنہ: ٤]

البتہ تحقیق تمہارے لئے ابراہیم اور ان کے ساتھیوں (کے طریقے) میں بہترین نمونہ ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا ہم تم سے اور ان سے جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو بری ہیں ہم نے تمہارا انکار کیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان اس وقت تک عداوت اور دشمنی ہے یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لے آؤ۔

شیخ اسحاق بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

شرک اور اہل شرک سے محض دل میں نفرت رکھنا اللہ کے ساتھ ایمان کو مکمل نہیں کرتا بلکہ دل میں جو نفرت اور بغض ہے اس کا دشمنی کی صورت میں اظہار کرنے سے ان سے برأت کا تقاضہ پورا ہوتا ہے۔ اس کے بعد سورۃ ممتحنہ کی مزکورہ بالا آیت کے الفاظ وبدا بیننا وبینکم العداوۃ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ مشرکین کی تکفیر ببانگ دہل کرنا اور عملاً ان سے لا تعلق رہنا اس آیت کا معنی اور مفہوم ہے۔

شیخ حمد بن عتیق رحمۃ اللہ علیہ اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں :

اس آیت مبارکہ میں شرک کرنے والے افراد سے اظہار برأت ان کے معبودوں سے پہلے ذکر کیا گیا ہے جس میں یہ نکتہ ہے کہ اہل شرک سے برأت ان کے اصنام سے برأت پر مقدم ہے۔ اہل شرک کی برأت سے خود بخود معبود کی برأت ہو جاتی ہے۔

[الدررسنیہ]

شیخ عبداللطیف بن عبدالرحمن رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

جو شخص اہل شرک سے عداوت نہیں رکھتا اس کا اہل توحید میں ہونے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

[الدرر سنیہ]


قرآن مجید شرک اور اہل شرک کی برأت سے بھرا پڑا ہے اور جگہ جگہ اہل شرک سے دشمنی اور عداوت کو بیان کرتا ہے۔

ارشاد باری تعالٰی ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هَٰذَا [التوبہ: ۲۸]

اے ایمان والو بیشک مشرک لوگ پلید ہیں اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔


ہمیں توحید اور شرک سے برأت کی دعوت کو اسی کھرے اسلوب اور خالص انداز میں پیش کرنا چاہیے جس طرح کا اسلوب قرآن نے بیان کیا اور انبیاء کرام نے اختیار کیا، جو شرک پر سیدھا وار کرتا ہے اور اس کی جڑ کاٹ دیتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بھی توحید کی دعوت کو اسی خالص انداز میں پیش کیا جس سے مشرکین بدکتے، نفرت کرتے اور خوف کھاتے تھے جس کو اللہ تعالٰی نے یوں بیان فرمایا ہے :

كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ [المدثر: ۵۰]

گویا وہ جنگلی گدھے ہیں اور شیر کو دیکھ کر بھاگ اٹھے ہیں۔


توحید کی خالص دعوت جو مشرکین سے برأت وعداوت پر مبنی ہوتی ہے۔ دین اسلام اور کلمہ توحید لا اله الا اللہ کی اصل دعوت ہے۔

شیخ محمد بن عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

توحید خالص تو یہی ہے یعنی کفار سے اظہار برأت کا اعلان کرنا۔ اب اگر کوئی جاہل کفار کی طرف سے نماز، روزے اور حج کی اجازت کو اس بات پر محمول سمجھے کہ وہ دین پر چل رہا ہے تو وہ سمجھا ہی نہیں ہے کہ عقیدے کا اظہار کسے کہتے ہیں۔ بھلا جو شخص شرک اور اہل شرک سے بغض اور دشمنی پالتا ہو اسے کفار اپنے شہروں میں کیسے چلتا پھرتا چھوڑیں گے وہ یا تو اسے مار دیں گے یا پھر اسے جلا وطن کر دیں گے۔ جب کبھی عقیدہ (توحید) کا اظہار ہوا اس کا یہ نتیجہ ضرور نکلا ہے۔

علامہ حمد بن عتیق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

اظہار دین کا مطلب ہے کفار کی تکفیر کی جائے۔ ان کے دین کو غلط اور معطون ٹھرایا جائے اور ان کی طرف کسی قسم کے میلان اور جھکاؤ کا تاثر نہ دیا جائے۔ اظہار دین کفار سے دشمنی رکھنے کا نام ہے محض نماز ادا کر کے سمجھ بیٹھنا کہ ہم نے اپنے دین کا اظہار کر لیا ہے کلمہ شہادت کی حقیقت نہ جاننے پر دلالت کرتا ہے۔

ہر اہل ایمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ توحید کا علم اور اس کے تقاضوں سے باخبر رہے تاکہ وہ شرک سے بچ سکے اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کر سکے۔ توحید ہی درحقیقت ایمان ہے اگر توحید قائم ہے تو ایمان قائم ہے لیکن اگر توحید میں شرک کی ملاوٹ ہے تو پھر کفر اور گمراہی ہے۔ بیشک توحید ہی اللہ تعالٰی کی وہ سب سے عظیم نعمت ہے کہ جس کی حفاظت ہر چیز سے بڑھ کر کی جانی چاہیے اور اس کی اہمیت کو سب سے زیادہ جاننا چاہیے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :


اوصانی خلیلی ان لاتشرک باللّٰہ شیئاوان قطعت اوحرقت [ابن ماجہ: ٤٠٣٤]

میرے انتہائی مخلص دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے مجھے نصیحت فرمائی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا خواہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے جائیں یا تجھے جلا دیا جائے۔


نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنی امت کو شرک سے سب سے زیادہ ڈرایا ہے کیونکہ یہ وہ بیماری ہے کہ جس میں آدمی کے شکار ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا :

اتقواھزاالشرک فانه اخفی من دبیب النمل [مسند الحمد: ٤-٤٠٣]
لوگو شرک سے ڈرو، اس لئے کہ شرک چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے۔
 
Top