ذیشان خان

Administrator
علماء سے سچی وگہری نسبت کامیابی کے لئے ضروری ہے
✍
: شیخ عبدالسلام سلفیؔ حفظہ اللہ
━════﷽════━​
میرے بھائیو! ہمیں سماج کے لوگوں میں اہل علم کا اعتبار و مقام قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، اگر علماء حق کا مقام ہماری کوششوں سے قائم نہیں ہوگا‘ تو درحقیقت ہماری اسلام سے نسبت بہت ناقص اور ادھوری ہے.
⦿ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ: ’’ليس منّا مَنْ لم يُجِلَّ كبيرَنا، ويرحمْ صغيرَنا! ويَعْرِفْ لعالِمِنا حقَّهُ‘‘، آپ فرماتے وہ ہم میں سے نہیں جو اپنے بڑوں کا احترام و تعظیم نہ کرتا ہو، اور اپنے چھوٹوں پر -وہ جس اعتبار سے بھی چھوٹے ہوں- شفقت ورحمت کا برتاؤ نہ کرتا ہو، اور اپنے علماء کا حق اور مقام نہ جانتا ہو. [مکارم الاخلاق للطبرانی: ۱٤۷، صحیح الجامع: ۵٤٤۳]
⦿ اوراسی طرح آپ ﷺنے ایک جگہ اور فرمایا کہ: ’’إنَّ مِن إجلالِ اللهِ إكرامَ ذي الشَّيبةِ المُسلِمِ، وحاملِ القُرآنِ‘‘. [سنن ابی داود: ٤۸٤۳، وحسنہ الألبانی] ہم میں جو بزرگ اورعمر دراز ہیں ان کی تعظیم کرنا، اور حامل قرآن عالم کی تعظیم کرنا درحقیقت اللہ کی تعظیم ہے.
دینی بھائیو! ہم غور کریں کہ کیا ہم میں چھوٹے بڑے لوگ اپنے کسی عالم کی، سماج کے کسی بزرگ کی، جماعت کے کسی بزرگ کی تعظیم اس نقطہ نظر سے کرتے ہیں کہ ان کی تعظیم ہم پر واجب ہے؟ اور ان کی تعظیم در اصل اللہ کی تعظیم ہے؟ ان کے بغیر ہمیں امن نہیں ملے گا؟ ہم دن بدن فساد میں گھرتے چلے جائیں گے، ہمارے حالات ناقص ہوتے جائیں گے، اس لئے اس بات کی ہمیں فکر کرنے کی ضرورت ہے.
سلف کہتے ہیں کہ: ’’علماء ہمارے بیچ میں -ہر زمانے اور ہر طبقے کے لیے- مثل سورج کے ہیں‘‘. یعنی جس طرح سورج سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اسی طرح علماء سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے.
علماء سے رہنمائی کے بغیر، ان سے گہری، سچی اور پکی نسبت کے بغیر ہم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، اس لئے کی یہ ورثۃ الانبیاء ہیں، یہ لوگ اللہ کی سنت کی بنیاد پر کبھی بھی انبیائی مشن اور اس کے کسی تقاضے کو چھوڑ نہیں سکتے.
[صوبائی جمعیت اہل حدیث ممبئی]
•┈┈•┈┈•⊰⊙⊱•┈┈•┈┈


 
Top