ایمان باللہ توحید کی شروط

بسم اللہ الرحمن الرحیم

توحید سے مراد یہ ہے کہ اللہ اپنی ربوبیت، الوہیت اور اسماء وصفات اور افعال میں اکیلا اور خاص ہے۔ توحید کی سب اقسام کلمہ لا اله الا اللہ میں موجود ہیں۔ توحید کو ماننے اور کلمہ لا اله الا اللہ کے اقرار سے پہلے اس کی کچھ شروط کا جاننا اور عمل کرنا لازم ہے۔ ان شروط توحید کے نہ ہونے سے کلمہ کا اقرار بھی غیر مقبول اور بے فائدہ ہے۔

شروط سے مراد عمل سے باہر وہ قیود ہیں جن کا ہونا عمل سے پہلے ضروری ہے۔ عمل کی صحت اور قبولیت کا دارومدار ان شرائط پر ہوتا ہے۔ توحید کی شروط سے مراد توحید اور کلمہ کے اقرار سے پہلے قلب اور ارادے کا فعل اور آمادگی ہے۔ توحید سے پہلے ان شرائط کے پیشگی ہونے سے توحید اور اس کا اقرار قبول ہوگا۔

توحید اور کلمہ لا اله الا اللہ کی شروط قرآن وحدیث میں کسی ایک جگہ اکھٹی بیان نہیں ہوئیں بلکہ ان کا ذکر متفرق جگہوں پر آیا ہے۔ جس طرح فقہا، ائمہ کرام نے نماز، روزہ اور دیگر اعمال کی شروط جو قرآن وحدیث میں متفرق جگہوں پر آئی ہیں ان کو اکٹھا کرکے ایک باب میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح عقیدے کے آئمہ کرام نے توحید کی شروط جو قرآن وحدیث میں متفرق جگہوں پر آئی ہیں ان کو توحید کے باب میں توحید کی سات شروط کے طور پر ذکر کیا ہے۔ جو درج ذیل ہیں :
  1. توحید کا علم
  2. تسلیم
  3. یقین
  4. اخلاص
  5. صدق
  6. محبت
  7. انقیاد
جس طرح نماز کی شروط میں وضو اور قبلہ رخ ہونا ہے جن کے بغیر نماز قبول نہیں ہوگی، اسی طرح توحید کی شروط نہ ہونے سے توحید بھی قبول نہ ہوگی۔ اس لئے ہر مسلمان پر ضروری ہے کہ وہ کلمہ شہادت سے پہلے بلکہ کلمہ شہادت کے بعد بھی اپنی توحید کو معتبر بنانے کے لئے ان شرائط کو پورا کرتا رہے۔

وہ کلمہ اور توحید کا معنی و مفہوم جانے، اس کلمہ پر کامل یقین رکھے، ایسا اخلاص اختیار کرے جس میں ریا وشرک کا کوئی شائبہ نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے ساتھ سچائی اور وفاداری کرے، منافقت سے کام نہ لے، اللہ کی توحید سے ایسی محبت ہوکہ اسلام کے کسی بھی رکن سے بغض وعناد باقی نہ رہے، اللہ اور اس کے رسول صلی اللی علیہ وسلم کے احکام کو بغیر کسی حیلے اور حجت کے تسلیم کرے، اس کلمہ کے تمام تقاضوں کو پورا کرے۔ اگر ان شروط میں سے ایک شرط بھی مفقود ہو تو کلمہ معتبر نہ ہوگا۔

شیخ عبدالرحمٰن بن حسن رحمۃ اللہ علیہ "کتاب التوحید" کی شرح میں فرماتے ہیں :

علم، یقین اور صدق پر مبنی شہادت ہی قابل قبول ہوتی ہے اور وہ شہادت جو لاعلمی اور شک پر مبنی ہو وہ نہ تو معتبر ہوتی ہے اور نہ فائدہ مند۔ پس جس شہادت کی بنیاد جہالت، لاعلمی اور شک پر ہو تو ایسا شخص اپنی شہادت میں جھوٹا سمجھاجائے گا۔ نیز کلمہ طیبہ کا ایسا اقرار کہ جس سے نہ تو اس کے مفہوم ومعنی کا علم ہو نہ یقین ہو نہ اس کے تقاضوں کے مطابق عمل ہو نہ شرک سے بیزاری ہو نہ دل اور زبان میں ہم آہنگی ہو اور نہ دل اور اعضاء کے کردار میں یگانگت ہو تو ایسی شہادت بالاجماع غیر نافع اور غیر مفید ہے۔

(ہدایۃ المستفید : ۱-۱۹۱)

ایمان باللہ توحید کی پہلی شرط "علم"

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ ۔

(محمد: ۱۹)

پس جان لو (اس بات کی حقیقت) کہ نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ تعالیٰ۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے اس سے استدلال کرتے ہوئے صحیح بخاری کی"کتاب العلم" میں باب باندھا ہے :

العلم قبل القول والعمل'لقول اللّٰہ تعالی؛ فَاعْلَمْ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ 'فبدأبالعلم۔

اس بات کا بیان کہ علم وفہم کا مرتبہ قول اور عمل سے پہلے آتاہے، جس پر دلیل ہے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان؛ پس جان لو (اس بات کی حقیقت) کہ نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ تعالیٰ، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بات علم سے شروع کی۔


اللہ تعالیٰ نے کلمہ کے اقرار کے ساتھ اس کا علم ہونا بھی فرض کیا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

إِلَّا مَن شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ ۔

(الزخرف: ۸۲)

سوائے ان کے جو حق (لا الٰه الا اللہ) کی شہادت دیں اس حال میں کہ وہ علم رکھیں۔

عن عثمان قال قال رسول اللّٰہ من مات وھو یعلم انه لا اله الا اللّٰہ دخل الجنة۔

(صحیح مسلم: ۲۶)

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مرا اس حال میں کہ وہ اس بات (کی حقیقت) کو جانتا ہو کہ نہیں کوئی عبادت کے لائق مگر اللہ تعالیٰ وہ جنت میں داخل ہوگا۔

لا اله الا اللہ کے علم سے مراد یہ ہے کہ آدمی جانتا ہو کہ کلمہ کے پہلے جز "لا اله" میں غیر اللہ کی کونسی صفات اور افعال سے نفی وانکار مقصود ہے۔ اور "الا اللہ" میں اللہ کی کونسی صفات اور افعال کا اثبات و اقرار مقصود ہے۔ چنانچہ اس سے مراد خدائی افعال بھی ہیں۔

مثلاً خلق، پیدا کرنا، رازق، پالنا، کھلانا، مالک، حاکم و قانون ساز، تصرف الامور، کائنات اور زمین کے معاملات چلانا، سبزے کو اگانا، بارشیں برسانا، موت و تنگی دینا، ہر چیز پر قدرت و علم رکھنا وغیرہ۔

اسی طرح افعال عبادت کا علم بھی مراد ہے۔ مثلاً پوجنا، سجدہ و تعظیم کرنا، ذلت وانکساری، دعا وفریاد، حاکمیت و قانون سازی ماننا اور مطلق اطاعت و غیرہ ان چیزوں کے متعلق اللہ کے علاوہ ہر کسی سے انکار کرنے کا علم ہو اور ان چیزوں کا اللہ کے لئے خاص ہونے کا علم ہو۔ ان سب چیزوں کا علم ہونا کلمہ کی پہلی شرط ہے۔

ایمان باللہ توحید کی دوسری شرط "تسلیم"

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَّجْنُونٍ ۔

(الصفت: ۳۶)

جب ان سے"لا اله الا اللہ" کو تسلیم کرنے کو کہا جاتا ہے تو وہ تکبر میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کیا ہم ایک شاعر مجنون کی خاطر اپنے معبودوں کو چھوڑ دیں
۔

اس سے محض مطلق کلمہ کا اقرار مراد نہیں ہے بلکہ کلمہ توحید اور اس کے تمام احکام کو دلی و باطنی، رضا و آمادگی کے ساتھ تسلیم و قبول کرلینا، اپنی مرضی اور خواہش وعصبیت سے دستبردار ہوجانا اور توحید اور دین کے کسی بھی حکم و پابندی کے خلاف دل میں کراہت پیدا نہ ہونے دینا مراد ہے۔

تسلیم کو ایمان کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ الغرض ایمان و اعتقاد پر قلبی آمادگی دکھانا، اللہ کی الوہیت اور اس کے احکام و قوانین کے قبول کرنے اور تابع فرمان ہوجانے کے لئے تیار ہونا اس طرح مطلوب ہے کہ اس کے سوا ہر قسم کے آباؤ طواغیت کی بات مان لینے کا دل میں خیال بھی پیدا نہ ہو۔

ایمان باللہ توحید کی تیسری شرط "یقین"

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا ۔

(الحجرات: ۱۵)

حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا۔


اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اللہ و رسول پر ایمان کو اس بات سے مشروط کیا ہے کہ وہ شک وشبہ سے خالی یعنی یقین کامل پر مشتمل ہو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

من لقیت من وراء ھذا الخائط یشھد ان لا الٰه الا اللّٰہ مستیقنابھا قلبه فبشرہ بالجنة۔

(صحیح مسلم: ۱-۵۹)

اس دیوار سے پرے جو آدمی بھی تمہیں ایسا ملے جو اپنے دل کے پورے یقین کے ساتھ اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی الٰہ نہیں تو ایسے آدمی کو جنت کی خو شخبری سنا دو۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

اشھد ان لا اله الا اللّٰہ وانی رسول اللّٰہ، لایلقی اللّٰہ بھما عبد غیر شاک فیھما الا دخل الجنة۔

(صحیح مسلم: ۱-۵۶)

میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جو بندہ ان دونوں شہادتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے جاملے گا۔ بشرطیکہ وہ ان دونوں باتوں کی حقیقت میں کوئی شک نہ رکھتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

کلمہ توحید کا صرف علم اور معلومات رکھنا کافی نہیں بلکہ اس کو ایک اٹل اور یقینی حقیقت سمجھتے ہوئے دل و دماغ میں مضبوطی اور گہرائی سے اس طرح جگہ دینا بھی ضروری ہے کہ اس کے متعلق ظن گمان اور کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے۔

اعتقاد میں یقین کے نہ ہونے سے اعضاء و جوارح سے شک وشبہ کا اظہار اور اظہار وفاداری کا غیراللہ کی طرف میلان ہوجانا یقینی امر ہے۔ اسی کامل وصحیح یقین کے نہ ہونے کی وجہ سے کئی لوگوں کو دیکھا گیا کہ وہ کفر شک میں مبتلا ہوتے ہیں اور اس گمان میں رہتے ہیں کہ شاید حق یہ ہو یا شاید حق وہ ہو۔

اللہ کی خالص عبادت بھی قبول ہے اور غیراللہ کے وسیلہ سے کی جانے والی عبادت بھی قبول ہے اور کچھ لوگ تو رواداری کے دھوکہ میں اس حد تک کفر شک میں چلے جاتے ہیں کہ مسجد کا راستہ بھی خدا کو جاتا ہے اور مزار، مندر، گرجا اور گوردوارہ بھی خدا کی طرف ہی لے جاتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔

قرآن وحدیث اور دینی کتب کا مطالعہ اور کائنات میں غور وفکر یقین کی مضبوطی اور شکوک وشبہات کے اذالہ کے لئے اہم ہے۔

ایمان باللہ توحید کی چوتھی شرط "اخلاص"

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ ۔

(البینۃ: ۵)

اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اس کے لئے خالص کرکے بالکل یکسو ہوکر۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اسعد الناس بشفاعتی من قال لا اله الا اللّٰہ خالصا من قلبه أو نفسه۔

(صحیح بخاری: ۱۹۳-۱)

میری شفاعت کا حقدار ترین شخص وہ ہے جو خلوص دل یا (فرمایا کہ) خلوص نفس کے ساتھ یہ شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔

اخلاص نیت ویسے تو ہر عمل کی مقبولیت کے لئے شرط ہے لیکن اس کی اہمیت کلمہ توحید کے اقرار وعمل میں سب سے بڑھ کر ہے اس شرط کا مطلب یہ ہے کہ توحید اور اسلام کا اقرار کسی بے توجہی یا لاابالی پن کے ساتھ نہ کیا جائے نہ ہی اسے معاشرے و ماحول کی دیکھا دیکھی آبائی رسم، معاشرتی رواج اور قومی روایت سمجھ کر ادا کیا جائے، نہ ہی کلمہ گو ہونے سے مقصد کسی کو خوش یا متاثر کرنا ہو اور نہ ہی اس سے کوئی دنیاوی مفاد اور غرض مطلوب ہو بلکہ یہ سنجیدگی کے ساتھ خالص دل کی پکار ہو اور اس سے مقصد صرف اور صرف رضائے الٰہی اور جنت کا حصول اور جہنم سے نجات ہو۔ چنانچہ اگر اس کلمہ توحید کے اقرار میں دھوکا، منافقت اور ریاکاری وغیرہ ہوئی تو یہ کلمہ اللہ کے ہاں قبول نہیں۔

ایمان باللہ توحید کی پانچویں شرط "صدق"

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

أَحَسِبَ النَّاسُ أَن يُتْرَكُوا أَن يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ صَدَقُوا وَلَيَعْلَمَنَّ الْكَاذِبِينَ ۔

(العنکبوت: ۱-۳)

کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا۔ حالانکہ ہم سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جوان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون ہیں۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مامن احد یشھد ان لا اله الا اللّٰہ وان محمد عبدہ و رسوله صدقا من قلبه الاحرمه اللہ علی النار۔

(صحیح بخاری: ۱-۲۲۶)

جو آدمی بھی صدق دل سے یہ شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔

ضروری ہے کہ آدمی کلمہ توحید کو قلب وعمل کی سچائی اور وفاداری کی آمادگی سے مانے اور کسی منافقانہ عمل کی بجائے پوری دیانت داری اور ثابت قدمی کے ساتھ ممکنہ نتائج کے علی الرغم اس دعوت کو قبول کرے۔ صدق و وفاداری دراصل ایک طرح کا خلف وفاداری اور استقامت وثابت قدمی ہے کہ لا الٰه الا اللہ کی صورت میں جس حقیقت کو جانا اور قبول کیا ہے۔

اس کو سچ کر دکھانے پر آمادگی اور دل جمعی رکھنا۔اس شرط کے پورا کرنے سے آگے چل کر لا الٰه الا اللہ کا اہم ترین تقاضا الولاء والبرء (محبت و دشمنی) پورا کرنا ممکن ہوتا ہے۔ صدق و وفا نہ ہو تو آدمی خواہ لاکھ قسمیں کھا کر اپنا مومن ہونا ظاہر کرے وہ پھر بھی منافق اور جھوٹا شمار ہوگا۔

ایمان باللہ توحید کی چھٹی شرط "محبت"

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَائِمٍ

(المائدہ: ۵۴)

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے تو اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے۔ جو اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ

(متفق علیه)

تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔

کلمہ توحید کی چھٹی شرط یہ ہے کہ کلمہ میں جو حقیقت بیان ہوئی ہے اس سے آدمی کے دل میں اللہ ورسول سے والہانہ محبت والفت اور شدید قسم کی وابستگی پیدا ہو، وہ اللہ ورسول کے مقابلے میں ہر چیز کی محبت کی قربانی پیش کردے اور اس کلمہ سے وابستہ رہنا اور اس کے احکام پر عمل کرنا اسے اپنے دنیاوی مفادات، خواہشات نفسانی، نعمتوں اور ہر قسم کی راحتوں سے بڑھ کر عزیز ہو۔ اس شرط کی بنیاد پر بندگان خدا سے محبت و وابستگی اور دوستی اور بندگان کفر سے نفرت و کراہت اور دشمنی پیدا ہوتی ہے۔

ایمان باللہ توحید کی ساتویں شرط "انقیاد"

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَمَن يُسْلِمْ وَجْهَهُ إِلَى اللَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ

(لقمان: ۲۲)

جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردے اور عملاً وہ نیک ہو اس نے فی الواقع ایک مضبوط کڑا تھام لیا۔

نیز ارشاد فرمایا :
فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

(النساء: ۶۵)

نہیں (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے رب کی قسم! یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات میں تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سرتسلیم خم کر دیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

لا یؤمن احدکم حتی یکون ھواہ تبعالماجئت به۔

(بغوی فی شرح السنہ:۲۱۳ ، ۲۱۲-۱)

تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے من کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کرے۔

دل کا اللہ کی الوہیت اور اس کے احکام و قوانین پر قلبی و باطنی طور پر تابع فرمان ہونے کے لئے تیار ہونا کلمہ کی قبولیت کے لئے شرط ہے۔ انقیاد واطاعت کو اسلام کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ یعنی صرف اسلام کے احکام وشریعت کو اطاعت و اتباع کے لائق سمجھنا اور اس کے علاوہ غیراللہ کے احکام وقوانین کا دل میں انکار ہونا۔

جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ کلمہ توحید کا اقرار اور اسلام کے احکام وقوانین اور شریعت کی پیروی کے بغیر بھی قبول ہوسکتا ہے تو ان کا کلمہ اللہ کے ہاں قبول نہیں اور ان کی ابھی کلمہ توحید کی یہ ساتویں شرط پوری کرنا باقی ہے۔
 
Top