ذیشان خان

Administrator
حج وعمرہ میں عورتوں کا قدم ڈھانکنا

مقبول احمدسلفی
اسلامک دعوۃ سنٹر، شمالی طائف(سعودی عرب)
عورت کاجسم مکمل ستر میں داخل ہے اس لئے عورت سر سے لیکر پاؤں تک مکمل جسم کو اجنبی مردوں سے چھپائے گی خواہ حج وعمرہ ہو یا سفر ہو یا کوئی اور جگہ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے : المرأةُ عورةٌ فإذا خرجتِ استشرفَها الشَّيطانُ(صحيح الترمذي:1173)
ترجمہ: عورت (سراپا) پردہ ہے، جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کو تاکتا ہے۔
احرام کی حالت میں رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو نقاب لگانے اور دستانے استعمال کرنے سے منع کیا ہے جیساکہ فرمان رسول ﷺ ہے :
ولا تَنْتَقِبْ المرأةُ المُحْرِمَةُ ، ولا تَلْبَسْ القُفَّازَينِ .(صحيح البخاري:1838)
ترجمہ: ا حرام کی حالت میں عورتیں نقاب نہ پہنیں اور دستانے بھی نہ استعمال کریں۔
اس حدیث کی روشنی میں عورت حج وعمرہ میں احرام کی حالت میں نقاب اور دستانہ استعمال نہیں کرے گی مگر احرام کی حالت میں بھی اجنبی مردوں سے چہرہ اور ہاتھ کا پردہ کرنا ہے، یہ حکم اپنی جگہ باقی ہے صرف لباس کی شکل یعنی نقاب اور دستانہ منع ہے ، اس لئے نقاب و دستانہ کی جگہ اوڑھنی استعمال کرے گی اور اس سے اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا پردہ کرے گی ۔
عورتوں کے پیر ڈھکنے کی دلیل نبی ﷺ کا یہ فرمان ہے :
مَن جرَّ ثوبَهُ خيلاءَ لم ينظُرِ اللَّهُ إليهِ يومَ القيامةِ ، فقالَت أمُّ سَلمةَ : فَكَيفَ يصنَعُ النِّساءُ بذيولِهِنَّ ؟ قالَ : يُرخينَ شبرًا ، فقالت : إذًا تنكشفَ أقدامُهُنَّ ، قالَ : فيُرخينَهُ ذراعًا ، لا يزِدنَ علَيهِ(صحيح الترمذي:1731)
ترجمہ: جو شخص تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نہیں دیکھے گا، ام سلمہ نے کہا: عورتیں اپنے دامنوں کاکیاکریں؟ ' آپ نے فرمایا:ایک بالشت لٹکالیں، انہوں نے کہا: تب توان کے قدم کھل جائیں گے، آپ نے فرمایا:ایک ہاتھ لٹکائیں اور اس سے زیادہ نہ لٹکائیں۔
ابن حزمؒ نے ذکر کیا ہے :
عن طائفةٍ من الصحابةِ أنَّ قدمَ المرأةِ عورةٌ(الإعراب عن الحيرة والالتباس:2/854)
ترجمہ: صحابہ کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ عورت کا قدم پردہ ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہوا کہ عورت جہاں عام حالتوں میں پیر ڈھکے گی اسی طرح حج وعمرہ میں بھی ڈھکے گی ۔
 
Top