ذیشان خان

Administrator
بوڑھے آدمی کا روزہ

تحریر: شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظه الله

اس بات پر اجماع ہے کہ بوڑھا آدمی، جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ روزہ نہ رکھے، بلکہ ہر روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ دیکھیں : [الاجماع لابن المنذر : 129]
❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”وہ بوڑھا مرد اور بوڑھی عورت جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں، وہ ہر روزے کے بدلے میں ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔“ [صحيح بخاري : 4505]

✿ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت کریمہ :
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ [2-البقرة:184]
پڑھی اور فرمایا : ”بوڑھا شخص جو روزہ رکھنے کی استطاعت و طاقت نہ رکھتا ہو، روزہ نہ رکھے، بلکہ روزانہ ایک مسکین کو آدھا صاع گندم دے دے۔“ [سنن الدارقطني : 207/2، ح : 2361، وسندۂ حسن]

❀ ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”ایک مد (تقریباً آدھا کلو) دے گا۔“ [سنن ادارقطني : 204/6، ح : 2349، وقال : اسناد صحيح، وهو كما قال]

❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ جب وہ ایک سال روزہ رکھنے سے عاجز آ گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے ایک ٹب میں ثرید تیار کی، تیس مساکین کو خوب سیر کر کے کھلا دی۔ [سنن ادارقطني : 206/2، ح : 2365، وسندۂ صحيح]
 
Top