سوال: روزے کی نیت کی دعا
بِصَوْمِ غَدٍ نَوَیْتُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ کیا یہ حدیث سے ثابت ہے؟

پہلی بات کہ اس بات پر اتفاق ہے کہ ان الفاظ کا ثبوت حدیث سے ثابت نہیں
دوسری بات علماء احناف بھی اس بات کو مانتے ہیں کہ اس کا پڑھنا ضروری نہیں ہے کیونکہ نیت دل کے ارادہ کا نام ہے ۔
اور صحیح بات بھی یہی ہے کہ نہ یہ حدیث ہے اور نہ ہی زبان سے بولنا نیت کہلاتا ہے۔
اسی لئے آپ دیکھیں گے اگر کسی کا ہاو بھاو اچھا نہ ہو تو لوگ اندازہ لگا کر کہتے ہیں اس کی نیت صحیح نہیں لگ رہی ہے ۔
اور اگر وہ بول دے زبان سے تو وہ نیت رہ ہی نہیں جائیگی ۔
لھذا اگر کسی کے دل میں ہے کہ وہ سحری کرے گا اور روزہ رکھے گا یہی نیت ہے اور اچھی نیت کا ثواب اسی وقت سے ملنا شروع ہو جاتا ہے ۔
اس لئے اس طرح کے الفاظ بنا کر لوگوں کو مشقت اور تشویش میں ڈالنا اور نبی صلی الله علیہ وسلم سے آگے بڑھ کر بدعت و گمراہی کو ایجاد کرنا، یہ بہت بڑی جرات ہے۔
آپ کہیں گے حرج کیا ہے ؟ حرج تو بہت ہے، اور سب سے بڑا حرج یہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، صحابہ سے ثابت نہیں اگر یہ اچھا ہوتا تو وہ سب پہلے ضرور زبان سے نیت کرتے۔
صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top