ذیشان خان

Administrator
زنا، لواطت اور دوسرے گناہوں سے توبہ کرنے کا طریقہ

مدرس: شیخ سلیمان بن سلیم اللہ الرحیلی حفظہ اللہ
(مدرس جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ، ومسجد نبوی شریف، وامام مسجد قُبَا)

اردو قالب: فاروق عبد اللہ نراین پوری

♦ اگر کسی ایسے گناہ سے توبہ کر رہا ہے جس کا تعلق حقوق اللہ سے ہے تو اس کی تین شرطیں ہیں:
1 - گناہ پر نادم وشرمندہ ہو۔
2 - گناہ سے باز آ جائے۔
3 - مستقبل میں اس گناہ کے نہ کرنے کا عزم مصمم ہو۔

♦اور اگر گناہ کا تعلق لوگوں کے حقوق سے ہو تو علما فرماتے ہیں کہ مذکورہ تینوں شروط کے ساتھ اس میں ایک چوتھی شرط ہے۔ وہ یہ کہ صاحب حق کو اس کا حق لوٹا دیا جائے۔ یا ان سے معافی طلب کر لی جائے۔

🔷 اس شرط کی بعض تفصیلات درج ذیل ہیں:

🔵 اگر اس حق کا تعلق مال سے ہو اور اس کے مالک کو جانتا بھی ہو تو اسے اس کے مالک تک پہنچانا ضروری ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اسے خبر کی جائے کہ مثلا میں نے آپ کا یہ مال چرایا تھا، یا یہ آپ کا مال ہے۔ بلکہ اگر لفافے میں رکھ کر اس کی گاڑی وغیرہ میں چھوڑ دے اور اس پر لکھ دے کہ یہ آپ کے لئے ہے تو کافی ہے۔ اپنا نام ظاہر کرنا ضروری نہیں۔

🔵 اور اگر اس کے مالک کو جانتا نہ ہو، یا وہ چلا گیا ہو اور اس تک وہ مال پہنچانا ممکن نہ لگ رہا ہو تو اس کی طرف سے صدقہ کر دے، یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ جب بھی اس سے ملاقات ہوگی اسے اس کا مال واپس کر دوں گا۔

اور اگر گناہ کا تعلق عزت و آبرو سے ہو مثلا: کسی کی غیبت کی ہو یا کسی کو گالی دی ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: جس کی عزت و آبرو پر حملہ کیا گیا ہے وہ جانتا ہو کہ میں نے اس کی غیبت کی ہے یا اسے گالی دی ہے تو ایسی صورت میں اس سے معافی طلب کرنا ضروری ہے۔

دوسری صورت: اسے پتہ نہ ہو کہ میں نے اس کی غیبت کی ہے یا اسے گالی دی ہے تو راجح یہ لگ رہا ہے -واللہ اعلم- کہ اسے بتانا ضروری نہیں، بلکہ اس کے حق میں نیک دعائیں کرے اور جن کے سامنے غیبت کی ہے یا گالی دی ہے ان کے سامنے اس کا ذکر خیر کرے۔ کیونکہ اگر اسے بتایا بھی تو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، مزید دشمنی بڑھےگی، اور اصل مقصد ہی فوت ہو جائےگا۔ صرف ایک صورت میں بتانا مناسب ہوگا، وہ یہ کہ اگر اچھی طرح جانتا ہو کہ وہ عقل مند اور انتہائی با اخلاق ونرم مزاج شخص ہے اور بتانے سے کسی عداوت کا خوف نہیں تو بتائے اور اس سے معافی طلب کرے، ورنہ نہ بتانا ہی بہتر ہے۔

♥ اگر اس طرح کوئی صدق دل سے توبہ کرے تو ان شاء اللہ اللہ تعالی اسے معاف کر دےگا، اور جس کے ساتھ اس نے زیادتی کی ہے اسے اللہ تعالی راضی کر دےگا۔

اور اگر گناہ کا تعلق زنا یا لواطت سے ہے تو خود بھی توبہ کرے، اور جس کے ساتھ یہ بد فعلی کی ہے اسے بھی توبہ کرنے کے لئے کہے، کیونکہ یہ مشترک گناہ ہے۔


کیا جس کے ساتھ زنا یا لواطت کیا ہے اس سے معافی بھی طلب کرےگا؟

جواب: اگر اسے زنا یا لواطت پر مجبور نہیں کیا ہے، یا اس کے ساتھ یہ بدفعلی اسے دھوکے میں رکھ کر نہیں کیا ہے تو ایسی صورت میں اس سے معافی طلب کرنے کی ضرورت نہیں، صرف توبہ کرنے کے لئے کہنا ہے۔

اور اگر اس کے ساتھ زبردستی کی ہے، یا اسے دھوکہ میں رکھ کر یہ بد فعلی کی ہے توتوبہ کے ساتھ ساتھ اس سے معافی طلب کرنا ضروری ہے۔

زنا کے ساتھ ایک اور حق جڑا ہوا ہے، وہ ہے اس خاتون کے ولی امر یا شوہر کا حق۔

سوال: کیا اس کے شوہر یا ولی امر سے بھی معافی طلب کرےگا؟

جواب: نہیں۔ سوائے ایک صورت کے، وہ یہ کہ اسے یقین ہو کہ اس زنا سے کوئی بچہ ہونے والا ہے تو ایسی صورت میں خبر کرے۔ اس کے علاوہ کسی صورت میں خبر کرنے کی ضرورت نہیں۔

 
Top