ذیشان خان

Administrator
کبار علما کا بعض ضعیف احادیث سے استدلال کرنے کی وجہ

✍⁩فاروق عبداللہ نراین پوری

بہت سارے لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب فلاں حدیث ضعیف ہے تو کبار علما اس سے استدلال کیوں کرتے ہیں۔ کیا انھیں اس کے ضعف کا علم نہیں تھا؟
اس کے متعدد اسباب ہو سکتے ہیں۔ مثلا: اس ضعیف حدیث کے علاوہ مسئلہ کی اور دلیلیں موجود ہوں، اور اس ضعیف حدیث سے صرف استئناس کیا ہو، اس پر اعتماد نہیں۔ نیز یہ بھی عین ممکن ہے انھیں اس کے ضعف کا علم نہ رہا ہو۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ’النکت‘(۱/۴۴۶) میں فرماتے ہیں:
إن بعض من صنف الأبواب قد أخرج فيها الأحاديث الضعيفة بل والباطلة إما لذهول عن ضعفها وإما لقلة معرفة بالنقد(بعض وہ محدثین جنھوں نے ابواب پر احادیث کی ترتیب دی ہے ان میں انھوں نے ضعیف بلکہ باطل احادیث کی بھی تخریج کی ہے، ایسا یا تو اس کے ضعف کے تعلق سے غفلت کی بنا پر ہوا ہے یا نقد حدیث کے تعلق سے قلت معرفت کی بنا پر)
کسی خاص حدیث میں اگر کوئی پوشیدہ علت ہو تو بسا اوقات وہ علت کسی بڑے سے بڑے ماہر فن پر بھی مخفی ہو سکتی ہے۔ اس سے ان کی علمی شان پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ اس کی ایک مثال امام مسلم رحمہ اللہ کے درج ذیل قصہ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
ایک دن امام مسلم امام بخاری کے پاس تشریف لائے اور ان کی پیشانی پر بوسہ دینے کے بعد فرمایا:’’اے استادوں کے استاد، محدثین کے سردار اور علل حدیث کے ڈاکٹر! آپ مجھے اپنی قدم بوسی کی اجازت مرحمت فرمائیں‘‘، پھر آپ نے ان سے ’کفارۃ المجلس والی حدیث‘ کی علت کے متعلق سوال کیا، کیونکہ بظاہر انھیں اس کی سند میں کوئی علت نظر نہیں آرہی تھی۔ جب امام بخاری نے انھیں اس کی علت سے آگاہ کیا، تو امام مسلم یوں گویا ہوئے: ’’کوئی حاسد ہی آپ سے بغض رکھ سکتا ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ پوری دنیا میں آپ جیسا کوئی دوسرا نہیں ہے۔‘‘ [تاریخ بغداد:۲۰/۱۶۷، تہذیب الاسماء واللغات:۱/۷۰، سير اعلام النبلاء:۱۲/۴۳۶، تاریخ الاسلام:۶/۱۴۰]
اس لیے عین ممکن ہے کہ اس حدیث سے احتجاج کے وقت انھیں اس کے ضعف کا علم نہ رہا ہو۔ اسی وجہ سے اپنے موقف سے رجوع کرنے کے واقعات بھی ان سے بہ کثرت مروی ہیں۔
اس کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:
علامہ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے افطاری کی دعا ’اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت‘والی حدیث کے بارے میں مشکاۃ المصابیح کی تحقیق اول (۱/۶۲۱، ح۱۹۹۴) میں کہا تھا:
له شواهد يقوى بها (شواہد کے ذریعہ اس کی تقویت ہو جاتی ہے)
لیکن جب انھیں تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ اس کا کوئی ایسا شاہد موجود نہیں جس سے اس حدیث کی تقویت ممکن ہو تو خود انھوں نے اپنی غلطی کا علی الاعلان اعتراف کیا اور حق کی طرف رجوع کرنے میں کوئی دیری نہیں کی۔ چنانچہ بعد میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا:
ثم تبين لي أن الشواهد المشار إليها –وهي من حديث ابن عباس وأنس- فيها ضعف شديد، فلا يصلح الاعتبار بها، على أن الحديث –مع إرساله- فإن مُرْسِلَه غير معروف[دیکھیں: ھدایۃ الرواۃ میں شیخ کی تخریج:۲/۳۲۳، حدیث نمبر۱۹۳۵]پھر مجھے پتہ چلا کہ ابن عباس اور انس کی جن احادیث کی طرف بطور شواہد اشارہ کیا جاتا ہے ان میں سخت ضعف ہے اور وہ قابل اعتبار نہیں۔ نیز مرسل ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں ارسال کرنے والا بھی غیر معروف ہے۔
جن احادیث میں مخفی علتیں ہوتی ہیں ان کا دراسہ آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لیے علوم حدیث میں مہارت اور طویل تجربہ کے ساتھ ساتھ کافی وقت بھی لگتا ہے۔ اس لیے عموما اکثر علما بذات خود احادیث کا دراسہ نہیں کرتے، دوسرے علما کی تخریجات پر ہی عموما ان کا اعتماد ہوتا ہے، خصوصا اگر علم حدیث کے وہ متخصص نہ ہوں۔
بعض طلبہ تمام علما کو علم حدیث کا متخصص سمجھتے ہیں جو کہ صحیح نہیں۔ ہر ایک کا میدان الگ الگ ہے۔ کسی کا میدان فقہ ہے تو کسی کا حدیث، کسی کا لغت ہے تو کسی کا عقیدہ۔ موجودہ دور میں علامہ البانی جس طرح احادیث کے دراسہ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر چکے تھے، اور ان کی پوشیدہ اور دقیق علتوں کا علم رکھتے تھے علامہ ابن باز اور علامہ ابن عثیمین اگرچہ اپنے وقت کے امام تھے لیکن علوم حدیث کے باب میں انھیں یہ درجہ حاصل نہیں تھا، جس کا اعتراف وہ خود بھی کرتے تھے۔ وقس علی ہذا۔
لہذا کوئی بڑا عالم کبھی کسی ضعیف حدیث سے استدلال کر بیٹھے تو اس پر تعجب کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔ اور نہ ان کے استدلال کو اس حدیث کی صحت کی دلیل بنانا چاہیے گرچہ وہ علوم حدیث کے ہی متخصص کیوں نہ ہوں۔ بہت سارے کبار محدثین کی کتابوں میں آپ کو بہت ساری ایسی ضعیف احادیث مل سکتی ہیں جن سے استدلال درست نہیں۔ اس سے اگر کوئی یہ استدلال کرے کہ یہ احادیث صحیح ہیں تو یہ طریقہ استدلال درست نہیں۔
علوم حدیث میں خطیب بغدادی رحمہ اللہ کی خدمات سے کون واقف نہ ہوگا۔ لیکن ان کی خاص موضوعات پر لکھی گئی کتب میں بے شمار ضعیف احادیث موجود ہیں۔ بطور مثال آپ ان کی البخلاء، اقتضاء العلم العمل، الفقیہ والمتفقہ، الرحلۃ فی طلب الحدیث، وغیرہ کتابیں دیکھ سکتے ہیں۔
کوئی کہہ سکتا ہے جب خطیب بغدادی رحمہ اللہ علم حدیث کے اتنے جلیل القدر امام ہیں تو ان کی کتب میں اس طرح کی واہی اور منکر روایات کیوں؟
شیخ البانی رحمہ اللہ نے ’اقتضاء العلم العمل‘کی تحقیق میں اس کے مقدمہ (ص۴) میں اس سوال کا معقول جواب دیا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أن القاعدة عند علماء الحديث أن المحدث إذا ساق الحديث بسنده، فقد برئت عهدته منه، ولا مسئولية عليه في روايته، ما دام أنه قد قرن معه الوسيلة التي تمكن العالم من معرفة ما إذا كان الحديث صحيحًا أو غير صحيح، ألا وهي الإسناد۔
نعم، كان الأولى بهم أن يتبعوا كل حديث ببيان درجته من الصحة أو الضعف، ولكن الواقع يشهد أن ذلك غير ممكن بالنسبة لكل واحد منهم وفي جميع أحاديثه على كثرتها، لأسباب كثيرة لا مجال لذكرها الآن، ولكن أذكر منها أهمها، وهي أن كثيرًا من الأحاديث لا تظهر صحتها أو ضعفها إلا بجمع الطرق والأسانيد، فإن ذلك مما يساعد على معرفة علل الحديث، وما يصح من الأحاديث لغيره، ولو أن المحدثين كلهم انصرفوا إلى التحقيق وتمييز الصحيح من الضعيف لما استطاعوا –والله أعلم- أن يحفظوا لنا هذه الثروة الضخمة من الحديث والأسانيد, ولذلك انصبت همة جمهورهم على مجرد الرواية إلا فيما شاء الله, وانصرف سائرهم إلى النقد والتحقيق، مع الحفظ والرواية وقليل ما هم(علمائے حدیث کے نزدیک قاعدہ یہ ہے کہ جب کسی محدث نے اپنی سند سے حدیث روایت کر دی تو وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہو گئے۔ جب انھوں نے ایسے وسیلہ کا بندوبست کر دیا جس کے ذریعہ علما صحیح اور غیر صحیح کی معرفت کر سکتے ہیں تو ان پر مزید کوئی ذمہ داری باقی نہیں رہتی اور وہ وسیلہ ہے اسناد کے ساتھ اسے روایت کر دینا۔
ہاں، بہتر تو یہی تھا کہ ہر حدیث کے بعد وہ ان کی صحت اور ضعف کی بھی نشاندہی کر دیتے، لیکن حقیقت حال اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ کثرت احادیث کی بنا پر ہر ایک کے لیے ہر ہر حدیث پر حکم لگانا ممکن نہ تھا ، اس کے بہت سارے اسباب ہیں جن کا ذکر کرنا یہاں ممکن نہیں۔ ان میں سے سب سے اہم سبب یہاں ذکر کر رہا ہوں، وہ یہ کہ بہت ساری احادیث ایسی ہیں کہ تمام طرق اور اسانید کو جمع کیے بغیر ان کی صحت و ضعف اور علتوں کا پتہ نہیں چل پاتا۔ اگر تمام محدثین ان کی تحقیق اور ان میں سے صحیح اور ضعیف کے درمیان تمییز کرنے کی طرف متوجہ ہو جاتے تو -واللہ اعلم – احادیث واسانید کا جو یہ ضخیم سرمایہ جو انھوں نے ہمارے لیے محفوظ کیا ہے، نہ کر پاتے۔ اسی لیے اکثر محدثین کی توجہ صرف روایت حدیث پر مرکوز رہی، اور بہت ہی کم لوگوں نے احادیث کو یاد کرنے اور ان کی روایت کرنے کے ساتھ ساتھ نقد وتحقیق کا بیڑا اٹھایا ۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے جس حقیقت کی طرف ہماری توجہ مبذول کرائی ہے اگر اسے ہم سمجھ لیں تو بہت حد تک ان شاء اللہ یہ اشکال دور ہو جائےگا۔ اور ان ضعیف احادیث سے استدلال کی وجہ سے ہم انھیں ملامت کرنا چھوڑ دیں گے۔ نیز ان کے استدلال کو ان احادیث کی صحت کی دلیل بنانے سے بھی پرہیز کریں گے۔ افسوس کہ آج کل بعض حضرات کسی عالم کے کسی ضعیف حدیث سے استدلال کو اس حدیث کی صحت کی دلیل سمجھنے لگتے ہیں جو کہ صحیح طریقہ کار نہیں۔ اگر ہمارے لیے یہ واضح ہو جائے کہ فلاں حدیث کی کوئی صحیح سند نہیں، یا اس کا متن منکر ہے تو محض کسی عالم کے استدلال کو اس کی صحت کی دلیل بنانا اور اسے قابل عمل سمجھنا صحیح نہیں۔ ہمارے لیے حجت رب کی کتاب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت شدہ سنت ہے۔ اگر وہ آپ سے ثابت نہ ہو تو محض کسی عالم کا اس سے استدلال کر لینا اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔
اللہ تعالی ہمیں حق کی اتباع کی توفیق عطا فرمائے۔
 
Top