ذیشان خان

Administrator
شہر قرآن کا تقاضہ

ڈاکٹر امان اللہ محمد اسماعیل مدنی۔

* ماہ رمضان کو ماہ قرآن کہا جاتا ہے؛ کیونکہ اسی ماہ رمضان میں قرآن کریم کا نزول ہوا۔
* قرآن کریم کا نزول دو مرتبہ ہوا:
1۔ مکمل قرآن لوح محفوظ میں نازل ہوا۔
2۔ وقتا فوقتا ضرورت کے تحت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر 23 سالہ زندگی میں نازل ہے۔
* قرآن کریم کا دونوں نزول ماہ رمضان ہی میں ہوا۔
* قرآن کریم کے نزول کا آغاز شب قدر میں ہوا۔
* قرآن کریم کا ماہ رمضان سے گہرا ربط و تعلق ہے۔
* ماہ رمضان ہی میں جبریل امین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن کا مدارسہ کرتے، جس کا دو طریقہ ہوتا:
1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے اور جبریل علیہ السلام سنتے۔
2۔ جبریل علیہ السلام قرآن پڑھتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنتے۔
* جب ماہ رمضان کا قرآن کریم سے گہرا ربط و تعلق ہے، تو اس مبارک مہینے میں ہمارے اوپر قرآن کے متعدد تقاضے ہیں:
۔ جو لوگ قرآن پڑھنا نہیں جانتے ہیں وہ اس ماہ میں قرآن کریم پڑھنا سیکھے، اور اللہ کے فرمان کے مطابق یہ کان بہت ہی آسان ہے۔
۔ اس مہینے میں کثرت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کی جائے۔
۔ قرآن فہمی کی کوشش کی جائے، جس کیلیے قرآن ترجمہ کیساتھ پڑھنا ضروری ہے۔
۔ قرآن کریم کے مطابق عقیدہ بنایا جائے۔
۔ قرآن کریم کے مطابق عمل کیا جائے۔
۔ قرآن کریم کی نشر و اشاعت کی جائے۔
* اللہ تعالی ہمیں اہل قرآن میں سے بنا دے۔ آمین ۔
 
Top