معبود کس کو کہتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ محمد بن عبدالوہاب رحمہ اﷲ فرماتے ہیں:

الٰہ ہمارے زمانے میں اب سید، شیخ وغیرہ کو کہا جاتا ہے جنہیں لوگ پُر اسرار بندے کہتے ہیں اور ان کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ نفع و نقصان کے اختیارات کے مالک ہیں جس نے بھی اس طرح کا عقیدہ کسی نبی یا غیر نبی کے بارے میں رکھا تو اسے الٰہ بنالیا۔ اس لیے کہ بنی اسرائیل نے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی ماں مریم علیہا السلام کو الٰہ قرار دیا تھا ۔

وَإِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ إِنْ كُنْتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ إِنَّكَ أَنْتَ عَلامُ الْغُيُوبِ (المائدہ:۱۱۶)

’’جب کہے گا اﷲ اے عیسیٰ ابن مریم کیا تم نے لوگوں سے کہا تھاکہ مجھے اور میری ماں کو اﷲ کے علاوہ الٰہ بناؤ؟عیسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے تو پاک ہے میرے لئے جائز نہیں کہ میں وہ بات کروں جس کا مجھے حق نہیں اگر میں نے کہا ہوتا تو تو جانتا ہے جو میرے دل میں ہے میں نہیں جانتا جو تیرے دل میں ہے تو غیب کو جانتا ہے‘‘۔

(مجموعۃ الرسائل والمسائل: ۴/۳۸)

شیخ عبداﷲ بن عبدالرحمن ابو بطین رحمہ اﷲ کہتے ہیں:

جب انسان جان لے اور سمجھ لے کہ الٰہ کا معنی معبود ہے اور عبادت کی حقیقت بھی سمجھ جائے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ عبادات میں سے کوئی بھی عبادت اﷲ کے علاوہ کسی اور کے لئے کرنا اس کو الٰہ بنانا ہے اگرچہ اسے معبود یا الٰہ کا نام نہ بھی دے بلکہ اسے وسیلہ کہے سفارش کہے یا التجا کا نام دے مشرک مشرک ہی ہوتا ہے چاہے وہ تسلیم کرے یا نہ کرے جیسا کہ سود خور سود خور ہی ہوتا ہے چاہے وہ مانے یا نہ مانے اور اپنے اس فعل کو سود نہ کہے اسی طرح شراب پینے والا شرابی ہی ہے چاہے وہ خود کو شرابی مانے یا نہ۔

(عقیدۃ الموحدین: رسالۃ الانتصار الحزب الموحدین: ۱۸)
 
Top