ذیشان خان

Administrator
اسلام کی ایک تعبیر یا دو تعبیر؟

ابو احمد کلیم الدین یوسف
جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ

اسلام کی ایک تعبیر وہ ہے: جس میں رب العالمین عرش پر مستوی ہے، اپنی تمام مخلوقات سے جدا ہے، وہ بہترین صفات سے متصف بھی ہے لیکن اس جیسا کوئی نہیں، اس رب نے اپنے رسول کو تمام انس وجن کیلئے کامل نمونہ بنا کر بھیجا ہے، اور اس آخری شریعت کے ذریعہ پچھلی تمام شریعتوں کو منسوخ قرار دیا، یعنی کسی کا کوئی بھی عمل صرف اور صرف اسلامی شریعت کے مطابق ہی قبول ہوگا، قیامت کی بہت سی کبری اور صغری نشانیاں ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور قیامت کیلئے تیاری کریں، جس میں امام مہدی کا ظہور جسمانی بھی ہے اور عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کا نزول جسمانی بھی ہے، دجال بھی آئے گا اور اس میں وہ تمام صفات ہوں گی جس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے وغیرہ وغیرہ.
یہ خالص کتاب وسنت کی تعبیر ہے.
اسلام کی دوسری تعبیر انہوں نے کی ہے جو خالص وحدت الوجود کے قائل تھے، جن کے نزدیک رب کی صفات انسانوں کی صفات کے جیسی تھی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کامل نمونہ نہیں مانتے تھے، ان کے خیال میں اسلامی شریعت کے بعض اجزاء عصر حاضر کیلئے مناسب نہیں تھے، بقول ان کے نصاری کی شریعت کے بعض احکام پر عمل کرنا درست تھا، امام مہدی، عیسی علیہ الصلاۃ والسلام وغیرہ کا ظہور انہیں ایک خیال لگتا تھا، بہت سی قیامت کی نشانیوں کو وہ حقیقی نہیں مانتے تھے، وہ کہتے تھے شاتم رسول کی کوئی سزا نہیں تھی، نیز ان کا دعوی تھا کہ نبی اکرم ﷺ کے بعد سے آج تک کسی نے نبوت کا دعوی نہیں کیا تھا، حتی کہ مرزا غلام قادیانی نے بھی نہیں کیا تھا، یعنی اس تعلق سے جو احادیث ہیں وہ سب کی سب لا یعنی ٹھہریں، اور یہ بھی دعوی کرتے تھے کہ ان کی تنظیم میں وہ تمام صفات موجود ہیں جو صحابہ کرام میں تھیں، اور بھی بہت سے اسلامی احکام کی الگ تعبیرات ہیں ان کے نزدیک.
نیز وہ ان تمام افکار کی طرف لوگوں کو دعوت بھی دے تھے.
اب ایسے شخص کا انتقال ہو چکا ہے انا للہ وانا الیہ راجعون، ان کا نام مولونا وحید الدین خان تھا.
یہ انہیں کی اسلامی تعبیر ہے.
قارئین کرام: اب آپ بتائیں کہ ہمیں اپنے رب، خاتم النبیین، دین اسلام، اور اس کے ثوابت مسلمات کے تئیں غیرت مند ہونا چاہئے؟
یا پھر
انسانیت نوازی، اور لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرنے آڑ میں اسلام کی دوسری تعبیر کرنے والے کو کلین چٹ دے دینا چاہئے؟
اور ان کی شان میں قصیدہ پڑھنا چاہئے؟
اگر ہم اہل حدیثوں کی نگاہ میں اتنے خطرناک عقائد کے حامل، بلکہ دوسری شریعت کے بعض اجزاء کو اسلام کے مقابلے قابل انطباق قرار دینے والے مجدد، مفکر اور دین اسلام کی خدمت کرنے والے ہیں اور ان کی کتابوں کا مطالعہ مفید بھی ہے تو پھر بشر المریسی وغیرہ کی کیا غلطی تھی کے آج تک اس پر لعن طعن کیا جا رہا ہے؟؟
بشر المریسی تو بڑا فقیہ تھا، اس نے خوارج اور روافض کے رد پر تالیف کی تھی.
نیز کبار علماء دیوبند تو کم از کم اسلام کی اس دوسری تعبیر والے سے اچھے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل نمونہ، اور دوسری شریعت کو اسلام کے مقابلے منسوخ مانتے ہیں اور علامات قیامت کے بھی قائل ہیں، پھر ہم ان سے نالاں کیوں رہتے ہیں؟؟؟
جب مرنے کے بعد غلطیوں کو نظر انداز کرکے خوبیوں کو اپنانا ہی ہم اہل حدیثوں کا طرہ امتیاز بن گیا ہے تو پھر اکثر ائمہ معتزلہ کی خوبیوں کو اپنانا چاہیے بلکہ ہم اہل حدیثوں کو ان کی خوبیوں سے لوگوں کو متعارف بھی کروانا چاہئے، کیوں کہ کبار معتزلہ نے فلاسفہ اور ملاحدہ پر کافی رد کیا ہے.
نیز اشاعرہ اور ماتریہ کے علماء سے بھی اہل حدیث عوام کو متعارف کروانا چاہئے کیونکہ کہ انہوں نے معتزلہ پر کافی رد کیا ہے.
معزز قارئین: مطلب اب ہم اہل حدیث لکل ساقط لاقط کے مصداق بن کر رہ گئے ہیں، خالص عقیدہ ومنہج جو ہماری پہچان تھی اب ہم نے اس سے بایں طور سمجھوتہ کرلیا ہے کہ ہر مکتبہ فکر کے مجدد اور مفکر کی تعریف میں رطب اللسان رہیں گے، چاہے وہ مجدد اور مفکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کامل نمونہ نہ مانے، چاہے وہ علامات قیامت کے تعلق سے بیشتر احادیث کا منکر ہو، چاہے وہ اسلامی شریعت کو ہر زمان ومکان کیلئے کافی اور مکمل نہ سمجھے، چاہے وہ نصاری کی شریعت کو اسلام کے مقابلے بہتر سمجھے!!!!
اگر یہ اہل حدیثیت تو پھر ایسی اہل حدیثیت سے توبہ، ہمیں تو وہی اہل حدیثیت پیاری ہے جس پر امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام بخاری اور دیگر ائمہ سلف رحمہم اللہ قائم تھے...
نوٹ: اگر کوئی داعی الی البدعہ ہو اور ان کی موت ہو چکی ہو، اس کے باوجود ان کے باطل عقائد سے لوگوں کو تنبیہ کرنا اور اس دور رہنے کی تلقین کرنا منہج سلف ہے، کوئی یہ نہ کہے کسی کے مرنے کے بعد ان کی غلطیوں کا ذکر نہیں کیا جانا چاہئے.
نیز بعض اہل حدیث علماء ان کے بعض پہلو کو اجاگر کرکے ان کی شان میں تعریفی کلمات بھی کہہ رہے ہیں جوکہ عوام الناس کیلئے بہت ہی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، اس لئے بھی قلم کو مہمیز لگانی پڑی.
 
السلام علیکم جناب ذیشان خان صاحب ! مجھے آپ کے مؤقف سے مکمل طور پر اتفاق ہے ۔۔۔۔ میں کافی عرصے سے علاہ وحید الدین کا ارسالہ پڑھ رہا ہوں ،آپ نے جن چیزوں کی توف توجہ دلائی ہے ،وہ بالکل ان کے ؒتریچر میں موجود ہین :
 
وہ صاحب دانسہ یا نادانستہ طور پر داعی الی البدعہ تھے ۔اور بیشمار احادٰثِ صحیحہ کے منکر بھی ۔اہلِ حدیث علماء کو چاہیے کہ وہ ان کے پورے لٹریچر کا ایک تفصیلی تحقیقی جائزہ لے کر اسے کتابی صورت مین مرتب کر کے عوام کے سامنے رکھیں تاکہ جو لوگ وحید الدین خان صاحب کے لٹریچر سے بہت متاثر ہوئے ہیں ،ان کی بھی اصلاح ہو جائے اور دعوۃ الی الحق کا تقاضا بھی پورا ہو ۔جزاک الله
 
Top