ذیشان خان

Administrator
حج سے متعلق ایک بھائی کے چندسوال اوران کے جواب

شیخ صاحب حج سے متعلق کچھ سوالات ہیں امید کرتا ہوں کہ جواب ارسال فرمائیں گے ۔
(1)حاجی کے لئے اس کی بیوی کب یعنی کس تاریخ سے حلال ہوگی اور کس تاریخ سے اس کے لئے حرام ہوجائے گی ؟
(2) حالت احرام میں پیر کهلا ہوا ہونا ضروری ہے یا نہیں؟
(3) منی و عرفات میں ظہر و عصر کی نماز ایک ساتھ پڑهنا ہے یا الگ الگ؟
(4) زم زم میں دوسرا پانی ملا سکتے ہیں یا نہیں ؟
(5) ایام حج میں کن کن صورتوں میں دم لازم آتاہے؟
سائل : اظہرالاسلام
الجواب بعون اللہ الوھاب
پہلے سوال کا جواب : سوال میں پہلے حرمت اور پھر حلت کا ذکر ہونا چاہئے ۔مجملا یہ سمجھیں کہ جب تک حاجی حالت احرام میں ہوتا ہے بیوی سے جماع ممنوع ہوتا ہے ۔اوراس کی تفصیل یہ ہے کہ جب حاجی حج کی نیت کرلے یوم الترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ سے تو اس وقت سے بیوی سے جماع ممنوع ہے ،یہ ممانعت دس ذی الحجہ تک ہے ،اس شرط کے ساتھ کہ یوم النحر کوحاجی نے اس دن کے مناسک میں سے تین کام کرلیاہو مثلا اس نے کنکری مار لی ، بال منڈوالیا اور طواف افاضہ کرلیا تو بیوی اس وقت حلال ہوجائے گی۔
دوسرے سوال کا جواب : حالت احرام میں چپل کا استعمال کرنا چاہئے جس سے قدم کا اوپر ی حصہ، ٹخنہ اور ایڑی کھلے ہوں کیونکہ نبی ﷺ نے احرام میں چپل پہننے کا حکم دیا ہے۔پیر میں تکلیف ہو یا جوتا پہننے کی مجبوری ہو تو ٹخنے سے نیچے تک والاجوتا پہن سکتے ہیں ۔
تیسرے سوال کا جواب : منی کی نمازیں خواہ آٹھ تاریخ کی ہو یا ایام تشریق کی اپنے اپنے وقت پر قصر کے ساتھ پڑھنی ہیں ، نمازیں جمع نہیں کرنی ہیں اور عرفات کی ظہروعصر کی نماز،ظہر کے وقت میں جمع وقصر کے ساتھ پڑھی جائے گی۔ اسی طرح منی سے لوٹ کر مزدلفہ میں عشاء کے وقت مغرب وعشاء کی نماز ایک ساتھ قصر سے پڑھی جائے گی ۔
چوتھے سوال کا جواب : زمزم کے اندر شفا ہے ،اس کو خالص پیاجائے تو بہتر ہے لیکن کہیں زمزم کی قلت ہوتی ہے اور افراد کی کثرت ،اس وجہ سے زمزم میں دوسرا پانی ملانے کی ضرورت پڑجاتی ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ان شاء اللہ زمزم کی برکت اور شفا نصیب ہوگا ۔
پانچویں سوال کاجواب : حج کے سات واجبات ہیں ، ان میں سے کسی کو چھوڑنے پر دم دینا پڑتا ہے ، وہ سات واجبات یہ ہیں۔
(1) میقات سے احرام باندھنا
(2) سورج غروب ہونے تک عرفہ میں ٹھہرنا
(3) عید کی رات مزدلفہ میں گذارنا
(4) ایام تشریق کی راتیں منی میں بسر کرنا
(5) جمرات کو کنکری مارنا
(6) بال منڈوانا یا کٹوانا
(7) طواف وداع کرنا(حیض و نفاس والی عورت کے لئے نہیں ہے )۔
واجبات کے علاوہ نو محظورات (ممنوعات) احرام ہیں ،ان کے ارتکاب پر بھی دم ہے جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)بال کاٹنا(2)ناخن کاٹنا(3)مردکو سلاہواکپڑا پہننا(4)خوشبولگانا(5)مردکاسرڈھانپنا(6)عقدنکاح کرنا(7)بیوی کو شہوت سے چمٹنا(8) جماع کرنا(9)شکار کرنا۔
جوشخص لاعلمی میں ممنوعات احرام میں سےکسی کا ارتکاب کرلے تو اس پر کچھ بھی نہیں ہے لیکن اگر جان بوجھ کر ارتکاب کیا توفدیہ دینا ہوگا(گرایک سے لیکر پانچ تک میں سے کسی کا ارتکاب کیاہو)۔فدیہ میں یاتو تین روزہ یا ایک ذبیحہ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا۔ شکار کرنے کی صورت میں اسی کے مثل جانور ذبح کرناہوگا۔عقدنکاح سے حج باطل ہوجاتاہے۔اگر تحلل اول سے پہلے جماع کرلے توعورت ومرد دونوں کا حج باطل ہوجائے گا اور اگر تحلل اول کے بعد طواف افاضہ سے پہلے جماع کرے تو حج صحیح ہوگامگر اس کا احرام ختم ہوجائے گا وہ حدود حرم سے باہر جاکر پھر سے احرام باندھے تاکہ طواف افاضہ کرسکے اور فدیہ میں ایک بکری ذبح کرے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمدسلفی
 
Top