ذیشان خان

Administrator
"لیلۃ القدر اور سلف صالحین کا اہتمام"

حافظ محمد طاهر

سلف صالحین رمضان کے آخری عشرے کی راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں خصوصی عبادت کا اہتمام فرماتے، بطورِ خاص پاکیزگی و طہارت اختیار کرتے اور عمدہ لباس زیب تن کرتے تاکہ عبادت و ریاضت میں و چستی و نشاط حاصل ہو سکے.

⇚ امام ابن جریر الطبری رحمہ اللہ (م: 310ھ) فرماتے ہیں :

كَانُوْا يَسْتَحِبُّونَ أَنْ يَغْتَسِلُوْا كُلَ لَيْلَةٍ مِنْ لَيَالِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ.

"سلف صالحین، آخری عشرے کی ہر رات کو غسل کرنا پسند کرتے تھے."

(تفسير طبري كما نقل عنه ابن رجب في لطائف المعارف، ص : 189)

⇚حماد بن سلمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :

كَانَ ثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ يَغْتَسِلانِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ وَيَتَطَيَّبَانِ وَيُحِبَّانِ أَنْ يُطَيِّبَا الْمَسْجِدَ بِالنُّضُوحِ اللَّيْلَةَ الَّتِي يُرْجَى فِيهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ.

"ثابت البنانی التابعی اور حمید الطویل التابعی رحمہما اللہ ، لیلۃ القدر کی متوقع رات میں غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور اس رات مسجد کو بھی خوشبو سے معطر کرنا پسند کرتے تھے."

(الطبقات الكبرى لابن سعد ط العلمية : 174/7، وسنده صحيح)

⇚حماد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

كَانَ لأَيُّوبَ بُرْدٌ أَحْمَرُ فَكَانَ يَلْبَسُهُ إِذَا أَحْرَمَ .........وَكَانَ إِذَا كَانَ لَيْلَةَ ثَلاثٍ وَعِشْرِينَ وَأَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ مِنْ رَمَضَانَ لَبِسَهُ.

"امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ کے پاس سرخ چادر تھی جسے احرام وغیرہ میں اوڑھتے اور جب رمضان کی تئیسویں اور چوبیسویں رات ہوتی تو اسے پہنتے."

(الطبقات الكبرى لابن سعد ط العلمية : 186/7، وسنده صحيح)

⇚عوام بن حوشب، امام ابراهيم النخعی التابعی رحمہ اللہ کے متعلق بیان کرتے ہیں :

كَانَ يَخْتِمُ الْقُرْآنَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ، فَإِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ خَتَمَ فِي لَيْلَتَيْنِ، وَاغْتَسَلَ كُلَّ لَيْلَةٍ.

"(ابراهيم النخعي رحمہ اللہ) رمضان کے ہر تین دن میں قرآن ختم کرتے اور جب آخری عشرہ آتا تو ہر دو دن میں ختم کرتے اور ہر رات غسل کرتے."

(مصنف عبد الرزاق الصنعاني : 254/4 ورجاله ثقات غير أن في سنده مدلسين وقد عنعنا)

⇚ عبداللہ بن شریک العامری کہتے ہیں کہ میں نے زر بن حبیش رحمہ اللہ سے سنا کہ :

إِذَا كَانَتْ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَاغْسِلُوا .

"جب رمضان کی ستائیسویں رات ہو تو غسل کریں."

(مصنف ابن أبي شيبة : 252/2، مصنف عبد الرزاق الصنعاني : 253/4، ورجاله ثقات غير أن الثوري مدلس وقد عنعن)

⇚ ثابت البنانی تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :

أَنَّ تَمِيمًا الدَّارِيَّ كَانَتْ لَهُ حُلَّةٌ قَدِ ابْتَاعَهَا بِأَلْفِ دِرْهَمٍ، كَانَ يَلْبِسُهَا فِي اللَّيْلَةِ الَّتِي يُرْجَى فِيهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ.

"سیدنا تمیم الداری رضی اللہ عنہ کا ایک خاص لباس تھا جسے انہوں نے ہزار درہم میں خریدا تھا، وہ اسے صرف اس رات پہنتے جس میں لیلۃ القدر کی امید ہوتی."

(الجزء المتمم للطبقات الكبرى لابن سعد - متمم الصحابة : ص 723، سنده صحيح إلي ثابت البناني)

⇚ حافظ ابن رجب رحمہ اللہ (م : 795ھ) فرماتے ہیں :

يُسْتَحَبُّ فِي الَّليَالِي الَّتِي تُرْجٰى فِيْهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ التَّنَظُّفُ وَالتَّزَيُّنُ وَالتَّطَيُّبُ بِالْغُسْلِ وَالطِّيْبِ وَالِّلبَاسُ الْحَسَنُ.

"جن راتوں میں لیلۃ القدر کی امید ہوتی ہے ان میں پاکیزگی و زینت اختیار کرنا، غسل کرنا و خوشبو سے معطر ہونا اور اچھا لباس پہننا مستحب ہے."

(لطائف المعارف لابن رجب، ص : 189)
 
Top