بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

◆ سحری کی اذان اور وقت

حدثنا عبيد بن إسماعيل، عن أبي أسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر‏. والقاسم بن محمد، عن عائشة رضي الله عنها: أن بلالا كان يؤذن بليل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (كلوا واشربوا حتى يؤذن ابن أم مكتوم، فإنه لا يؤذن حتى يطلع الفجر). قال القاسم: ولم يكن بين أذانهما إلا أن يرقى ذا وينزل ذا.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ( عبیداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہی روایت ) قاسم بن محمدسے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ بلال رضی اللہ عنہ کچھ رات رہے سے اذان دے دیا کرتے تھے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان نہ دیں تم کھاتے پیتے رہو کیوں کہ وہ صبح صادق کے طلوع سے پہلے اذان نہیں دیتے۔ قاسم نے بیان کیا کہ دونوں( بلال اور ام مکتوم رضی اللہ عنہما ) کی اذان کے درمیان صرف اتنا فاصلہ ہوتا تھا کہ ایک چڑھتے تو دوسرے اترتے۔
{{صحیح بخاری ,کتاب:روزے کے مسائل کا بیان,باب ( سورۃ بقرہ میں )اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ,حدیث نمبر: 1918}}
تشریح:
علامہ قسطلانی نے نقل کیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی سحری بہت قلیل ہوتی تھی، ایک آدھ کھجور یا ایک آدھ لقمہ، اس لیے یہ قلیل فاصلہ بتلایا گیا۔ حدیث ہذا میں صاف مذکور ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ صبح صادق سے پہلے اذان دیا کرتے تھے یہ ان کی سحری کی اذان ہوتی تھی اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ فجر کی اذان اس وقت دیتے جب لوگ ان سے کہتے کہ فجر ہو گئی ہے کیوں کہ وہ خود نابینا تھے۔ علامہ قسطلانی فرماتے ہیں و المعنی فی الجمیع ان بلالا کان یوذن قبل الفجر ثم یتربص بعد للدعاءو نحوہ ثم یرقب الفجر فاذا قارب طلوعہ نزل فاخبر ابن ام مکتوم الخ یعنی حضرت بلال رضی اللہ عنہ فجر سے قبل اذان دے کر اس جگہ دعاءکے لیے ٹھہرے رہتے اور فجر کا انتظار کرتے جب طلوع فجر قریب ہوتی تو وہاں سے نیچے اتر کر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اطلا ع کرتے اور وہ پھر فجر کی اذان دیا کرتے تھے۔ ہر دو کی اذان کے درمیان قلیل فاصلہ کا مطلب یہی سمجھ میں آتا ہے آیت قرآنیہ حتی یتبین لکم الخیط الابیض( البقرۃ : 187 )سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ صبح صادق نمایاں ہوجانے تک سحری کھانے کی اجازت ہے، جو لوگ رات رہتے ہوئے سحری کھالیتے ہیں یہ سنت کے خلاف ہے۔ سنت کے مطابق سحری وہی ہے کہ اس سے فارغ ہونے اور فجر کی نماز شروع کرنے کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جتنا کہ پچاس آیات کے پڑھنے میں وقت صرف ہوتا ہے۔ طلوع فجر کے بعد سحری کھانا جائز نہیں۔

۔۔۔۔اس صحیح حدیث (قطعی الثبوت، قطعی الدلالت) سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہیں۔

(الف)عہدِ نبویﷺ میں دو مؤذن مسجد نبویﷺ میں مقرر تھے؛ ایک بلال۔۔۔ جو سحری کے وقت اذان کہتے تھے، دوسرے ابن ام مکتوم ۔۔۔۔ جو طلوعِ فجر پر اذان دیا کرتے تھے۔

(ب) فجر سے پہلے سحری کے وقت اذان کہنا مسنون ہے اور یہ بھی کہ یہ تعامل عہدِ نبوی ﷺ میں جاری رہا کیوں کہ لفظ ''کان یؤذن'' ماضی استمراری ہے۔

(ج) سحری کی اذان کے وقت روزہ رکھنے والے کو کھانا پینا درست ہے جب کہ فجر کی اذان سے کھانا پینا بند ہو جاتا ہے۔

(د) مسجد میں دو مؤذن (عن ابن عمر قال كان لرسول الله مؤذنان :بلال و ابن أم مكتوم-مسلم 1/125-12منه)مقرر کرنے مسنون ہیں؛ ایک سحری کے وقت اذان دینے والا، دوسرا فجر طلوع ہونے پر اذان دینے والا۔ یہ اس لئے ہے کہ دو مختلف آوازوں سے اذانِ سحری اور فجر کا امتیاز ہو جائے۔
«عن عبد اللّٰه بن عمر قال سمعت رسول اللّٰه (ﷺ) یقول: إن بلالا یؤذن بلیل فکلوا واشربوا حتی تسمعوا أذان ابن أم مکتوم»
{{مسلم249/1}}

سیّدناابن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ تو رات کے وقت اذان دیتا ہے اس لئے تم کھاتے پیتے رہو حتیٰ کہ ابن ام مکتوم کی اذان سن لو۔

« عن ابن مسعود عن النبیﷺ قال: إن بلالا یؤذن بلیل لیوقظ نائمکم ولیرجع قائمکم»امام محمد بن الحسن الشیبانی (موطا امام محمد مترجم:138) اور حافظ ابن حزم المحلی 117/2) نے وضاحت کی ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ سحری کے وقت اذان دیتے تھے ۔
{{النسائی1075/1}}

ابن مسعودرضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے روایت کیا ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان کہتا ہے تاکہ سونے والے کو بیدار کرے اور قیام کرنے والا واپس لوٹ جائے۔

اس حدیث میں اذانِ سحری کا مقصد بیان کیا ہے۔

«عن عائشۃ قالت: قال رسول اللّٰه ﷺ: إذا أذن بلال فکلوا واشربوا حتی یؤذن ابن أم مکتوم قالت: ولم یکن بینھما إلا ینزل ھذا ویصعد ھذا»
{{ النسائى:74/1}}

عائشہ فرماتی ہیں کہ ایک مؤذن اذان کہہ کر اترتا تھا تو دوسرا اذان کے لئے چڑھ جاتا تھا۔

اِس حدیث میں دو اذانوں کا درمیانہ وقفہ (مبالغۃً) ذکر ہے۔ وقت کے اندازہ سے مقصد یہ ہے کہ نبیﷺ اور ان کے صحابہؓ سحری دیر سے کھاتے تھے۔ یعنی پہلی اذان پر کھانا شروع کرتے جب کہ فوری طور پر دوسری اذانِ فجر ہو جاتی۔

«عن سمرة بن جندب قال: قال رسول اللّٰه (ﷺ) لا یمنعکم من سحورکم أذان بلال ولا الفجر المستطیل ولکن الفجر المستطیر في الأفق»مسند احمد’ مسلم

رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ تم کو سحری کھانے سے بلال کی اذان اور صبح کاذب جس میں سفیدی بلندی کی طرف اُٹھنے والی ہوتی ہے۔۔۔۔ نہ روکے لیکن وہ صبح۔۔۔۔۔ جس میں سفیدی دائیں بائیں پھیلتی ہے۔۔۔۔ سحری کھانے سے مانع ہے۔

اس حدیث پر امام احمد نے یوں عنوان لکھا ہے۔ باب وقت السحور واستحباب تاخیرہٖ۔ یعنی سحری کا وقت اور اس کو دیر سے کھانے کا استحباب۔ اور موطا میں امام مالک نے ایک باب یوں باندھا ہے۔ قدر السحور من النداء یعنی اذان کے ذریعہ سے سحری کا اندازہ۔

خبیب بن عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میری پھوپھی۔۔۔۔ نے بیان کیا:۔

«کان بلال وابن أم مکتوم یؤذنان للنبي (ﷺ) فقال رسول اللہ ﷺ إن بلا لا یؤذن بلیل، فکلوا واشربوا حتی یؤذن ابن أم مکتوم؛ فکنا نحبس ابن أم مکتوم عن الأذان، فنقول کما أنت حتی نتسحر ولم یکن بین أذا نیھما إلا أن ینزل ھذا ویصعد ھذا»
{{مسند ابى داؤد الطيالسى185/1}}

نبیﷺ نے دو شخص مؤذن مقرر کر رکھے تھے (جواپنے اپنے وقت پر اذان دیا کرتے تھے۔) ایک بلال رضی اللہ عنہ اور دوسرا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ۔ نبی ﷺ نے فرمایا: بلال رضی اللہ عنہ رات کو (سحری کے وقت) اذان دیتا ہے۔ تم اس وقت تک کھاؤ پیو یہاں تک کہ ابن ام مکتوم اذان دے۔ ہم ابن ام مکتوم سے کہتے، ٹھہر جا! کہ ہم سحری کھا لیں۔ دونوں اذانوں کے درمیان اتنا تھوڑا وقفہ ہوتا تھا کہ ایک اترتا تو دوسرا چڑھ جاتا۔

مولانا عبد الجلیل صاحب جھنگوی نے اپنے رسالہ اذان سحور کے ص ۱۰ میں امام نووی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے کہ:۔
''علما کرام نے اس کی صورت یہ بتائی ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ فجر سے پہلے سحری کی اذان دے کر ذکر دعا وغیرہ میں مشغول رہتے تھے۔ جب دیکھتے کہ فجر ہونے کے قریب ہے تو اتر آتے اور ابن ام مکتوم کو اطلاع دیتے جو پوہ پھٹنے پر اذان دیتے۔''

پھر مولانا موصوف نے حجۃ اللہ البالغہ / ۱۹۲:۱ سے نقل کیا ہے کہ:
''امام دو مؤذن ایسے مقرر کرے جن کی آواز لوگ پہنچانتے ہوں اور لوگوں کے لئے امام اس کا تفصیلاً اعلان کر دے۔'' (ملخصاً)

«عن أبی محذورۃ قال: قال رسول اللّٰه (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) أمناء المسلمین علی صلاتھم وسحورھم المؤذنون»السنن الكبرى للبيهقى426/1 ایک اور روایت میں ہے کہ«ألمؤذنون أمناء الله على فطرهم وسحورهم» مجمع الزوائد143/1 اور مشکوۃ میں ہے «عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خصلتان معلقتان في أعناق المؤذنين للمسلين صيامهم وصلوتهم » رواه ابن ماجه وقال القارى سنده صحيح یہ دونوں حدیثیں ۔

رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ مسلمانوں کی نمازوں اور سحریوں پر امین ان کے مؤذن ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اذانِ نماز کی طرح اذانِ سحری کے لئے بھی مؤذن مقرر ہوتا ہے1، جیسا کہ عہدِ نبوی میں تھا اور یہی عمل مسنون ہے۔
عبدالقادر عارف حصاری

◆ روزہ رکھنے کے لیے سحری کھانا سنتِ رسول ہے

سحری سے مراد وہ کھانا ہوتا ہے جو انسان رات کے آخری حصے میں تناول کرتا ہے، اور اسے سحری اس لیے کہا گیا ہے کہ رات کے آخری حصے کو سحر کہتے ہیں اور یہ کھانا اسی وقت میں کھایا جاتا ہے۔
دیکھیں: " لسان العرب " (4/ 351)

سحری کی فضیلت میں متعدد احادیث وارد ہیں، مثلاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: (سحری کرو؛ کیونکہ سحری میں برکت ہوتی ہے) بخاری: (1923) ، مسلم (1095)

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ( سحری تناول کرنا ہمارے اور اہل کتاب کے روزے کے درمیان فرق ہے) مسلم : (1096)

اور ایک حدیث میں ہے کہ: ( بیشک اللہ تعالی سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کیلیے رحمت کی دعا کرتے ہیں)احمد : (11086) اس حدیث کو مسند احمد کے محققین نے صحیح قرار دیا ہے جبکہ البانی نے اسے "سلسلہ صحیحہ " (1654) میں حسن کہا ہے۔

ان احادیث میں سحری سے مراد وہ کھانا ہے جو روزے دار اس وقت میں کھاتا ہے؛ کیونکہ سحری کھانے سے روزہ دار کو روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سارا دن آسانی سے گزر جاتا ہے؛ نیز سحری تناول کرنا ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں فرق کا باعث ہے، اہل علم کی سحری کو بابرکت بنائے جانے سے متعلق گفتگو سے یہی معلوم ہوتا ہے۔

نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"علمائے کرام کا سحری کے مستحب ہونے پر اجماع ہے اور یہ کہ سحری کرنا واجب نہیں، سحری میں برکت کا معاملہ بھی واضح ہے؛ کیونکہ سحری کرنے سے روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے اور سارا دن جسم توانا رہتا ہے، اور چونکہ سحری کھانے کی وجہ سے روزہ میں مشقت کا احساس کم ہو جاتا ہے ، اس کی بنا پر مزید روزے رکھنے کو بھی دل کرتا ہے، لہذا سحری کے بابرکت ہونے کے متعلق یہی معنی اور مفہوم صحیح ہے" انتہی
" شرح مسلم " از نووی: (7/ 206)

اسی طرح مناوی رحمہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: (بیشک اللہ تعالی سحری کرنے والوں پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے فرشتے ان کیلیے رحمت کی دعا کرتے ہیں) کا معنی ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"یعنی وہ لوگ جو روزے میں معاونت کی غرض سے سحری تناول کرتے ہیں، کیونکہ روزے کی وجہ سے پیٹ اور شرمگاہ کی شہوت کمزور پڑتی ہے اور یوں دل صاف ہوتاہے، روحانیت کا غلبہ بڑھتا ہے جو کہ اللہ تعالی کے قرب کا موجب بنتی ہے، اسی لیے سحری کرنے کیلیے بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے" انتہی
" فيض القدير " (2/ 270)

اور اسی طرح : " الموسوعة الفقهية " (24/ 270) میں ہے کہ:
"روزے دار کیلیے سحری کرنا سنت ہے، ابن منذر نے اس کے مستحب ہونے پر اجماع نقل کیا ہے" انتہی

دائمی فتوی کمیٹی کے علمائے کرام کہتے ہیں:
"روزے دار کیلیے طلوعِ فجر سے پہلے سحری کرنا مستحب ہے؛ کیونکہ سحری کرنے سے روزہ رکھنے میں مدد ملتی ہے" انتہی
" فتاوى اللجنة الدائمة " (9/ 26)

اور شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
"سحری میں برکت ہے؟ یہ برکت کیسے ہے؟ [اس کا جواب یہ ہے کہ] سحری سراپا برکت ہے، سب سے پہلے تو یہ عبادت ہے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا ہے، جہنمیوں کی مخالفت ہے، سحری سے روزہ رکھنے میں معاونت ملتی ہے، انسانی جان کو اس کا حق ملتا ہے کیونکہ انسان نے اس کے بعد کافی دیر تک کھانے پینے سے رکے رہنا ہے، چنانچہ سحری کھانے سے انسان سارا دن روزہ -جو کہ اللہ تعالی کی بہت بڑی عبادت ہے -رکھنے کی طاقت حاصل کر لیتا ہے ، بلکہ سحری روزے کا ابتدائی حصہ بھی ہے۔" انتہی

حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تَسَحَّرُوۡ وَ لَوۡ بِجُزۡ عَةٍ مِّنۡ مَّاءٍ
سحری کھاؤ اگرچہ پانی کے ایک گھونٹ سے ہو
(موارد الظمان ،٨٨٤ )

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سحری کھانے کےلیے بیدار ہونا ضروری ہے۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ۔
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
فَصۡلُ مَا بَیۡنَ صِیَامِنَا وَصِیَامِ اَھۡلِ الۡکتِابِ اکۡلَةُ السَّحَرِ
ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں فرق سحری کا ہے۔
( مسلم ، کتاب الصیام ،باب فضل السحور وتاکید استحبابہ (١٠٩٦ )

سحری میں اللہ تعالیٰ نے برکت بھی رکھی ہوئی ہے۔جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا:
تَسَحَّرُوۡ فَاِنَّ فِیۡ السُّحُوۡرِبَرَکَةُ
سحری کھاؤ اسلیے کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔
(بخاری ،کتاب الصوم ،باب برکة السحور من غیرِ ایجاب ،١٩٢٣ )

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
دَعَانِیۡ رَسُوۡ لُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیۡہِ وَسَلَّمَ اِلَی السُّحُوۡرِ فِیۡ رَمَضَانۡ فَقَالَ ھَلُمَّ اِلَی الۡغَدَاءِ الۡمبَارَکِ
” مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں سحری کھانے کی دعوت دی توآپ نے فرمایا صبح کے بابرکت کھانے کی طرف آؤ۔“
(اباداؤد ،کتاب الصیام ،ح٢٣٤٤ ۔نسائی،ح٢١٦٤ ۔مواردالظمان،٨٨٢۔نیل المقصود،٢٣٤٤)
( سیدنا ابو درداء سے اس حدیث کاشاہد حسن سند کےساتھ صحیح ابن حبان میں موجود ہے
مواردالظمان ٨٨١ ،١٨٤/٣ )

سحری کی برکت سے شرعئی اور بدنی برکت مرادہے۔شرعئی برکت تو یہ ہے کہ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کی فرمانبرداری اور آپؐ کی اقتداء ہے۔اور بدنی برکت سے مراد یہ ہے کہ سحری سے بدن کو غذا ملتی ہے اور روزہ کے لیے تقویت نصیب ہوتی ہے
یہاں ایک بات تذکرہ کردیں کہ اگر سحری میں ایک دو منٹ کی تا خیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”جب تم میں سے کوئی آذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ اس برتن کو حاجت پوری کرنے سے پہلے نہ رکھے ۔“
( ابو داؤد ، کتاب الصوم ،ح ٢٣٥٠ ۔مستدرک حاکم ٤٢٦/١
بیہقی٢١٨/٤ ، دارقطنی،٢١٦٢ باب فی وقت السحر)

◆ سحری دیر سے کھانا
عبداللہ بن عبّاس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یقینًا ہم نبیوں علیھم السلام کا گروہ ہیں ۔ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنی سحری میں
تاخیرکریں اور افطاری جلدی کریں۔اور اپنی نمازمیں دائیں ہاتھ کوبائیں ہاتھ پر رکھیں “
( مواردالظمان،٨٨٥ ۔ طبرانی کبیر، ١٩٩/١١ ( ١١٤٨٥ )
اسکی سند صحیح ہے اور اس کے کئی ایک شواہد بھی موجود ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سےمروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
”جب تم میں سے کوئی آذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو وہاس برتن کو حاجت پوری کرنے سے پہلے نہ رکھے ۔“
( ابو داؤد ، کتاب الصوم ،ح ٢٣٥٠ ۔مستدرک حاکم ٤٢٦/١
بیہقی٢١٨/٤ ، دارقطنی،٢١٦٢ باب فی وقت السحر)
علامہ عبیداللہ مبارکپوری فرماتےہیں
” اس حدیث میں فجر کی آذان سنتے وقت اس برتن سے کھانے اور پینے کی اباحت معلوم ہوتی ہےجو اس کے ہاتھ میں ہے۔اور یہ کہ وہ اسے اپنی حاجت پوری کرنے سے پہلے نہ رکھے۔“
(مسند احمد٣٤٨/٣ ) میں جابر رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کا ایک شاہد بھی ہے۔جسے علامہ ہیثمی نے حسن قراردیاہے۔
(مرعاة المفاتیح ٤٨٠/٦ )

فضیلة الشیخ ابوالحسن مبشّر احمد ربّانی
آپکے مسائل اورانکاحل(جلد سوم)
احکام و مسائل
فضیلة الشیخ محمد بن صالح العثیمین رحمة اللہ علیہ
فتاویٰ اسلامیہ / جلد دوم

وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقُ
وَصَلَّی اللّٰہُ عَلٰی نَبِیَّنَا مُحَمَّدٍ وَآلِہ وَصَحْبِہ وَسَلَّمَ
وعلى آله وأصحابه وأتباعه بإحسان إلى يوم الدين۔
ھٰذٙا مٙا عِنْدِی وٙاللہُ تٙعٙالیٰ اٙعْلٙمْ بِالصّٙوٙاب
وٙالسَّـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه
 
Top