***********=کیا گھوڑا حلال ہے؟=*************
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى،حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ المُنْذِرِ، امْرَأَتِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: «نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ»
ترجمہ:
ہم سےخلاد بن یحییٰ نے بیان کیا،انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ،ان سے ہشام بن عروہ نے کہاکہ مجھے میری بیوی فاطمہ بنت منذر نے خبر دی ان سے حضرت اسماء بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک گھوڑا نحر کیا اور اسے کھایا۔
[صحیح بخاری حدیث نمبر: 5510,کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں,باب: نحر اور ذبح کے بیان میں]


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: «ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ، فَأَكَلْنَاهُ»
ترجمہ:
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے عبدہ سے سنا ، انہوں نے ہشام سے ، انہوں نے فاطمہ سے اور ان سے حضرت اسماءرضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا اس وقت ہم مدینہ میں تھے۔
[صحیح بخاری حدیث نمبر: 5511,کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں,باب: نحر اور ذبح کے بیان میں]


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ المُنْذِرِ، أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، قَالَتْ: «[ص:94] نَحَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا فَأَكَلْنَاهُ» تَابَعَهُ وَكِيعٌ، وَابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامٍ: فِي النَّحْرِ۔
ترجمہ:
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ،کہا ہم سے جریر نے بیان کیا،ان سے ہشام نے،ان سے فاطمہ بنت منذر نے کہ حضرت اسماءبنت ابی بکررضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑے کو نحر کیا ( اس کے سینے کے اوپر کے حصہ میں چھری مارکر ) پھر اسے کھایا ۔ اس کی متابعت وکیع اور ابن عیینہ نے ہشام سے ” نحر “ کے ذکر کے ساتھ کی ۔
تشریح:
گھوڑے کا نحر اور ذبیحہ دونوں جائز ہے اور اس کا گوشت حلال ہے مگر چونکہ جہاد میں اس کی زیادہ ضرورت ہے اس لیے اس کو کھانے کا عام معمول نہیں ہے۔
[صحیح بخاری حدیث نمبر: 5512,کتاب: ذبیح اور شکار کے بیان میں,باب: نحر اور ذبح کے بیان میں]


حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ
ترجمہ:
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے ‘ ان سے عمرو نے ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی تھی ۔
تشریح:
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس حدیث کی بنا پر گھوڑے کے گوشت کو حلال قرار دیا ہے۔
[صحیح بخاری حدیث نمبر:4219,کتاب: غزوات کے بیان میں,باب: غزوئہ خیبر کا بیان]


حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ الْخَيْلِ۔
ترجمہ:
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے خیبر کے روز گھوڑے ‘خچر اور گدھے ذبح کیے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خچروں اور گدھوں سے منع فر دیا لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا ۔
تشریح:
[سنن ابی داؤد حدیث نمبر: 3789,کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل,باب: گھوڑے کا گوشت کھانے کا مسئلہ,حکم: صحیح]

وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً ۚ وَيَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُونَ
ترجمہ:
گھوڑوں کو، خچروں کو گدھوں کو اس نے پیدا کیا کہ تم ان کی سواری لو اور وہ باعث زینت بھی ہیں۔ (١) اور بھی ایسی بہت سی چیزیں پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم نہیں (٢)۔
[سورۃ النحل,آیت نمبر:8]
تفسیر:
سواری کے جانوروں کی حرمت:
اپنی ایک اور نعمت بیان فرما رہا ہے کہ ’ زینت کے لیے اور سواری کے لیے اس نے گھوڑے خچر اور گدھے پیدا کئے ہیں بڑا مقصد ان جانوروں کی پیدائش سے انسان کا ہی فائدہ ہے ‘ ۔ انہیں اور چوپایوں پر فضیلت دی اور علیحدہ ذکر کیا اس وجہ سے بعض علماء نے گھوڑے کے گوشت کی حرمت کی دلیل اس آیت سے لی ہے ۔
جیسے امام ابوحنیفہ اور ان کی موافقت کرنے والے فقہاء کہتے ہیں کہ خچر اور گدھے کے ساتھ گھوڑے کا ذکر ہے اور پہلے کے دونوں جانور حرام ہیں اس لیے یہ بھی حرام ہوا ۔ چنانچہ خچر اور گدھے کی حرمت احادیث میں آئی ہے اور اکثر علماء کا مذہب بھی ہے ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان تینوں کی حرمت آئی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”اس آیت سے پہلے کی آیت میں چوپایوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ’ انہیں تو کھاتے ہو ‘پس یہ تو ہوئے کھانے کے جانور اور ان تینوں کا بیان کرکے فرمایا کہ ’ ان پر تم سواری کرتے ہو ‘ ، پس یہ ہوئے سواری کے جانور “ ۔
مسند کی حدیث میں ہے کہ
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے خچروں کے اور گدھوں کے گوشت کو منع فرمایا ہے } ۱؎
(سنن ابوداود:3790،قال الشیخ الألبانی:ضعیف)
لیکن اس کے راویوں میں ایک راوی صالح ابن یحییٰ بن مقدام ہیں جن میں کلام ہے ۔
مسند کی اور حدیث میں مقدام بن معدی کرب سے منقول ہے کہ{ہم سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ صائقہ کی جنگ میں تھے ، میرے پاس میرے ساتھی گوشت لائے ، مجھ سے ایک پتھر مانگا میں نے دیا۔انہوں نے فرمایا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ خیبر میں تھے لوگوں نے یہودیوں کے کھیتوں پر جلدی کر دی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ{ لوگوں میں ندا کر دوں کہ نماز کے لیے آجائیں اور مسلمانوں کے سوا کوئی نہ آئے}۔
پھر فرمایا کہ{ اے لوگو !تم نے یہودیوں کے باغات میں گھسنے کی جلدی کی ،سنو معاہدہ کا مال بغیر حق کے حلال نہیں اور پالتو گدھوں کے اور گھوڑوں کے اور خچروں کے گوشت اور ہر ایک کچلیوں والا درندہ اور ہر ایک پنجے سے شکار کھلینے والا پرندہ حرام ہے }}۔ ۱؎
(مسند احمد:89/4:وھوضعیف)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ممانعت یہود کے باغات سے شاید اس وقت تھی جب ان سے معاہدہ ہو گیا ۔ پس اگر یہ حدیث صحیح ہوتی تو بیشک گھوڑے کی حرمت کے بارے میں تو نص تھی لیکن اس میں بخاری و مسلم کی حدیث کے مقابلے کی قوت نہیں جس میں منقول ہے کہ
{حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے ‘ان سے عمرو نے ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوئہ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی تھی ۔}۔۱؎
[صحیح بخاری:كِتَابُ المَغَازِي,بَابُ غَزْوَةِ خَيْبَرَ:4219]
ایک اور حدیث مبارکہ میں ہے کہ
{حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ ذَبَحْنَا يَوْمَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْبِغَالِ وَالْحَمِيرِ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ الْخَيْلِ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے خیبر کے روز گھوڑے ‘خچر اور گدھے ذبح کیے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خچروں اور گدھوں سےتو منع کر دیا لیکن گھوڑوں کےگوشت سے منع نہیں فرمایا ۔
(سنن ابوداود:3789،كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ،بَابٌ فِي أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ،قال الشیخ الألبانی:صحیح)

صحیح بخاری شریف میں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ
{ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، سَمِعَ عَبْدَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: «ذَبَحْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا، وَنَحْنُ بِالْمَدِينَةِ، فَأَكَلْنَاهُ»
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ،انہوں نے عبدہ سے سنا ، انہوں نے ہشام سے ، انہوں نے فاطمہ سے اور ان سے حضرت اسماءرضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اس کا گوشت کھایا اس وقت ہم مدینہ میں تھے۔} ۔۱؎
[صحیح بخاری,كِتَابُ الذَّبَائِحِ وَالصَّيْدِ,بَابُ النَّحْرِ وَالذَّبْحِ:5511]
پس یہ سب سے بڑی سب سے قوی اور سب سے زیادہ ثبوت والی حدیث ہے اور یہی مذہب جمہور علماء کا ہے ۔ مالک ، شافعی ،احمد ،رحمہ اللہ علیہم ان کے سب ساتھی اور اکثر سلف و کلف یہی کہتے ہیں۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» ۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ” پہلے گھوڑوں میں وحشت اور جنگلی پن تھا اللہ تعالیٰ نے اسماعیل علیہ السلام کے لیے اسے مطیع کردیا “ ۔ وہب نے اسرائیلی روایتوں میں بیان کیا ہے کہ جنوبی ہوا سے گھوڑے پیدا ہوتے ہیں ۔ «وَاللہُ اَعْلَمُ» ۔
ان تینوں جانوروں پر سواری لینے کا جواز تو قرآن کے لفظوں سے ثابت ہے
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سفید خچر ہدیے میں دیا گیا تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کرتے تھے } ۱؎
(صحیح بخاری,كِتَابُ الزَّكَاةِ,بَابُ خَرْصِ الثَّمَرِ:1481)
ہاں یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ گھوڑوں کو گدھیوں سے ملایا جائے ۔ یہ ممانعت اس لیے ہے کہ نسل منقطع نہ ہو جائے ۔
{ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیں تو ہم گھوڑے اور گدھی کے ملاپ سے خچر لیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:{ یہ کام وہ کرتے ہیں جو علم سے کورے ہیں } } ۔ ۱؎
(مسند احمد:311/4:صحیح لغیرہ)
________________________________________________

گھوڑے کا گوشت حرام ہے یا حلال؟
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
گھوڑے کا گوشت حرام ہے یا حلال؟ اگر حلال ہے تو پھر اتنے سارے گھوڑے یوں ہی مر جاتے ہیں اور حلال جانور کا گوشت حرام جاتا ہے ۔ اس پر کیوں آج تک علماء نے آواز بلند نہیں کی ؟کیا وجہ ہے؟حالانکہ ایک جانور صحیح نص سے حلال ہے اور پھر اس کو جان بوجھ کر حرام کیا جاتا ہے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گوشت کو کھانا منع کیا ہے ؟ اور اگر منع کیا ہے تو کب کیا تھا اور پھر اس کا حکم دیا تو کب دیا؟ اس کی تفصیل لکھ دیں۔(محمد بشیر الطیب )

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
گھوڑا حلال ہے۔
صحیح بخاری میں ہے: عَن أَسْمَائَ قَالَت: نَحَرنَا فَرَسًا عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَأَکَلْنَاہُ [’’ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں گھوڑا ذبح کیا اور اسے کھایا۔‘‘]
نیزصحیح بخاری ہی میں ہے :((عن جابر بن عبداللہ قال: نَھَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمَ خَیْبَرَ عَنْ لُحُوْمِ الْحُمُرِ ، وَرَخَّصَ فِی لُحُوْمِ الْخَیْلِ))1
[’’خیبر کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھوں کے گوشت سے منع کیا اور گھوڑے کے گوشت میں رُخصت دی۔‘‘]
امام شوکانی لکھتے ہیں:
(( قال الطحاوی: ذھب أبو حنیفۃ إلی کراھۃ أکل الخیل، وخالفہ صاحباہ ، وغیرھما ، واحتجوا بالأخبار المتوا ترۃ فی حلھا ولو کان ذلک مأخوذا من طریق النظر لما کان بین الخیل والحمر الأھلیۃ فرق ، ولکن الأثار إذا صحت عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أولی أن نقول بھا مما یوجبہ النظر ، ولا سیما وقد أخبر جابر أنہ صلی اللہ علیہ وسلم أباح لھم لحوم الخیل فی الوقت الذی منعھم فیہ من لحوم الحمر فدل ذلک علی اختلاف حکمھما))(نیل الأوطار:۸،۱۱۱)
حرمت خیل والی روایات کی تضعیف نیل الأوطار میں خود ملاحظہ فرما لیں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 بخاری،کتاب الذبائح والصید،باب لحوم الخیل۔

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل جلد02ص 666

کتاب: اجتماعی نظام
صفحہ نمبر: 539
________________________________________________

(146) گھوڑا اور جنگلی گدھا
السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ
برائلر مرغی والے جو اب کے ضمن میں گھوڑے اور جنگلی گدھے کی حلت کے بارے میں اشارہ تھا جس پر بہت زیادہ بھائیوں نے سوالات بھیجے ہیں اور کچھ لوگوں کے طعنوں کا تذکرہ بھی کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس کی مفصل وضاحت کریں؟

الجواب بعون الوہاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاتہ!
الحمد للہ، والصلاة والسلام علیٰ رسول اللہ، أما بعد!
تفصیل کے ساتھ وہی جواب حاضر ہے۔
گھوڑا حلال ہے.
اس کی دلیل حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے کہ:
(( أن اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہی یوم خیبر عن لحوم الحمر و أذن فی لحوم الخیل.))
''کہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گدھوں کے گوشت کے بارے میں منع کیا اور گھوڑے کے گوشت کی اجازت دی۔'' (متفق علیہ)
حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں:
(( أکلنا لحم فرس علی عہد النبی ﷺ .))
''کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے گھوڑے کا گوشت کھایا۔'' (متفق علیہ)
مصنف ابنِ ابی شیبہ میں صحیح سند سے مروی ہے کہ عطاء بن ابی رباح سے ابنِ جریج نے گھوڑے کے گوشت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا:
(( لم یزل سلفک یأکلونہ؟قلت :أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال نعم .))
''کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلف ہمیشہ اس کو کھاتے رہے ہیں؟ میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم؟ تو انہوں نے کہا ہاں۔''
(مصنف ابنِ ابی شیبہ ج۸، ص۲۵۰)
امام صلاح الدین خلیل بن کیکلدی العلائی نے اپنی کتاب توفیة الکیل لمن حرم لحوم الخیل میں لکھا ہے کہ:
جمہور سلف و خلف ائمہ محدثین سوید بن غفلہ ، علقمہ بن اسود اصحاب عبداللہ بن مسعود ، ابراہیم نخعی، شریح، سعید بن جبیر، حسن بصری ، ابنِ شہاب زہری ،حماد بن ابی سلیمان ، امام شافعی ، احمد بن حنبل ، قاضی ابو یوسف، محمد بن حسن الشیبانی ، اسحاق بن راہویہ ،دائود ظاہری، عبداللہ بن مبارک اور جمہور اہل حدیث کے نزدیک گھوڑا حلال ہے۔اس کی حلت میں کوئی شک و شبہ نہیں صرف امام ابو حنیفہ اور بعض مالکیوں نے اسے حرام یا مکروہ کہا تھا۔
ہمارے ملک میں چونکہ ایسے لوگوں کی اکثریت ہے جو امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں اور ان کے ہاں گھوڑا حرام سمجھا جاتا ہے۔اس لئے جب اس کی حلت کی بات کی جاتی ہے تو اسے بڑا عجیب سمجھا جاتا ہے اور لوگ مختلف انداز سے اس کے متعلق سوال کرتے ہیں حالانکہ موجودہ دور میں کئی حرام اشیاء مثلاًسود، شراب ، جوا غیر اللہ کے نام پر دی ہوئی اشیاء وغیرہ لوگ سر عام استعمال کرتے ہیں اور ان پر کبھی اتنے سوال نہیں اٹھائے جاتے صرف اس لئے کہ یہ چیزیں لوگوں کی ہڈیوں میں رچ چکی ہیں.
اور جونہی کسی ایسی چیز کی حلت کے متعلق سوال ہو جو ان کے ہاں غیر معروف ہو تو بلا سوچے سمجھے اس پر حرمت کا فتویٰ جڑ کر تنقید شروع کر دیتے ہیں۔
حالانکہ امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے ابو یوسف اور امام محمد ا س کی حلت کے قائل ہیں۔
کتاب منیہ المصلی اردو میں جوٹھے پانیوں کے بیان میں لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کی گھوڑے کے جوٹھے پانی میں چار روایات ہیں۔
*ایک میں نجس
*ایک میں مشکوک
*اور ایک میں مکروہ
*اور ایک میں پاک ہے۔
امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک پاک ہے اس واسطے کہ اس کا گوشت حلال ہے۔
کنز الدقائق فارسی مترجم ملا نصیر الدین کرمانی میں ہے۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے:
(( نہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عن لحوم الحمر و الخیل و البغال .))
''کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے ، گھوڑے اور خچر کے گوشت سے منع کیا۔''
لیکن یہ حدیث ضعیف ہے_
اس میں عکرمہ بن عمار یحییٰ بن ابی کثیر سے بیان کرتا ہے جب یہ عکرمہ یحییٰ سے بیان کرے تو حدیث ضعیف ہوتی ہے۔
یحییٰ بن سعید القطان فرماتے ہیں:کہ اس کی حدیثیں یحییٰ بن ابی کثیر سے ضعیف ہیں۔
امام بخاری کہتے ہیں کہ سوائے یحییٰ کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
اسی طرح گھوڑے کے گوشت کی حرمت میں خالد بن ولید کی بھی ایک حدیث پیش کی جاتی ہے وہ حدیث بھی شاذ اور منکر ہے۔
پھر اس حدیث میں یہ ہے کہ خالد خیبر میں شریک ہوئے حالانکہ وہ خیبر کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔
جنگلی گدھے کے بارے میں بھی صحیح بخاری شریف میں حدیث ہے۔
ابو قتادہ کہتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے۔ کچھ ہم میں احرام پہنے ہوئے اور کچھ بغیر احرا م کے تھے۔ ۔۔میں نے ایک جنگلی گدھا شکار کیا اور اپنے ساتھیوں کے پاس لے آیا۔
(( فقال بعضہم کلوا و قال بعضہم لا ت؟لا تأکلوا فأتیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم وہو امامنا فسألتہ فقال کلوا حلالا.))
''بعض نے کہا کھا لو بعض نے کہا نہ کھاٶ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جو ہمارے آگے تھے اور پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کو کھالو۔ یہ حلال ہے۔''
(بخاری مع الفتح۴/۳۵ )
حافظ ابنِ حجر نے امام طحاوی حنفی کا قول نقل کیا ہے ، فرماتے ہیں:
" قال الطحاوی و قدأجمع العلماء علی حل الحمار الوحشی."
''کہ علماء کا جنگلی گدھے کے حلال ہونے پر اجماع ہے۔'' (فتح الباری۶۵۶/۱)
یہ بھی یاد رہے کہ جنگلی گدھا ایک اور جانور ہے نام میں اشتراک کی وجہ سے اسے گھریلو گدھا نہ سمجھا جائے۔ بقول ابی یوسف اور محمد و شافعی ''بخوردن گوشت اسپ با کے نیست''۔
ابو یوسف اور امام شافعی کے نزدیک گھوڑے کے گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
مولوی ثناء اللہ امرتسری پانی پتی حنفی نے اپنی کتاب مالا بدّمنہ کے صفحہ ۱۱۰پر لکھا ہے.
''اسپ حلال است'' گھوڑا حلال ہے۔
مولوی اشرف علی تھانوی بھی دبی زبان میں گھوڑے کی حلت کا اقرار کرتے ہوئے رقم طراز ہیں.
''گھوڑی کا کھانا جائز ہے لیکن بہترین ''
(بہشتی زیور حصہ سوم ، ص۵۶)
بلکہ خود امام ابو حنیفہ نے اپنے پہلے فتویٰ سے رجوع کر لیا تھا اور گھوڑے کی حلت کے قائل ہو گئے تھے۔
علامہ آلوسی حنفی نے اپنی تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے کہ:
" إنہ رجع عن حرمتہ قبل موتہ بثلاثة أیام و علیہ الفتوی "
''کہ امام ابو حنیفہ نے اپنی وفات سے تین دن قبل گھوڑے کی حرمت سے رجوع کر لیا تھا اور اسی قول پر فتویٰ ہے۔''
جامع الرموز، کتاب الذبائح ، ج۳، ص۳۵۰ میں ہے:
" إنہ رجع عن حرمتہ قبل موتہ بثلاثة أیام عن حرمتہ لحمہ و علیہ الفتوی ."
بات ختم کرنے سے پہلے چند شبہات کا ازالہ بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ قرآن مجیدکی آیت﴿ وَالْخَیْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِیرَ لِتَرْکَبُوہَا وَزِینَةً ... ٨﴾...النحل کہ گھوڑے خچر اور گدھوں کو سواری کے لئے زینت بنایا ہے، سے گھوڑے کی حرمت پر استدلال کرتے ہیں لیکن یہ درست نہیں کیونکہ یہ بالا تفاق مکی ہے اور گھوڑے کی حلت کا حکم مدنی ہے۔
ہجرت سے تقریباً۶ سال بعد کا اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت سے گھوڑے کی حرمت سمجھتے تو اس کی اجازت کبھی نہ دیتے۔
پھر یہ آیت گھوڑے کی حرمت میں نص بھی نہیں اور حدیث میں اس کی حلت کی صراحت موجود ہے۔
نوٹ:امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کا اپنے سابقہ مؤقف سے رجوع[رَد المختار:۹/۴۴۲، طبع بیروت، کتاب الذبائح میں بھی موجود ہے]۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب
آپ کے مسائل اور ان کا حل ج 1

کتاب: اجتماعی نظام
صفحہ نمبر: 1561
________________________________________________

ترتیب:ابومحمدعبدالاحدسلفی
مدیر:التوحیداسلامک لاٸبریری خانیوال پاکستان
 
Top