************ گاناو موسیقی**************
قسط نمبر#1
گاناو موسیقی کی حُرمت:قرآنِ کریم سے
اللہ تعالیٰ نے جن کاموں کو حرام قرار دیا ہے انکے لیٔے مختلف کلمات اور انداز اختیار فرمائے ہیں جنکی مثالیں قرآنِ کریم اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اسلوبِ بیان میں بکثرت پائی جاتیں ہیں مثلاً کبھی اسے حرام،منع،ناپسندیدہ اور ملعون قرار دیا ہے،کہیں اسے رحمت سے دوری کا باعث یا رحمت کے فرشتوں کے حاضر نہ ہونے کا سبب،بُرے لوگوں اور کفّار و مشرکین کا وطیرہ و شیوہ،باعثِ مسخ،سببِ پتھراؤ،باعثِ عذاب،زمین میں دھنسائے جانے کا موجب،جھوٹ[الزور]،گناہ،لغو اور بے ہودہ کام کہا ہے اور کبھی شیطانی کام اور اسکے کرنے والے کو شیطان کا آلۂ کار بتایا ہے۔اور گانا و موسیقی کو حرام قرار دینے کیلئے یہ تمام انداز قرآن و سنت میں ملتے ہیں۔[1]
یہی وجہ ہے کہ گانا و موسیقی کو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لیکر آج تک تمام اہلِ عِلم حرام قرار دیتے آئے ہیں اور ان کی حرمت پر قرآنِ کریم،حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آثار و اقوالِ صحابہ و سلفِ اُمّت شاہد ہیں چنانچہ آیئے سب سے پہلے اس سلسلہ میں قرآنِ کریم کے بعض مقامات کا

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 26
________________________________________________[1] دیکھیئے: دو ماہی ’’ طیّبات ‘‘ لاہور، جلد: ۲ شمارہ: ۵ ۱۴۲۳؁ ھ ،۲۰۰۲ ء ۔

مطالعہ کریں۔
پہلی آیت:
اس سلسلہ میں پہلی آیت سورۃ لقمان کی آیت:۶ ہے جس میں ارشادِ الٰہی ہے:
﴿وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَہْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِغَیْرِ علِمٍْ وَّ یَتَّخِذَہَا ہُزُوًا أُولٰٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ﴾(سورۂ لقمان:۶)
’’ اور لوگوں میں سے بعض ایسے ہیں جو لغو باتیں خریدتے ہیں تاکہ[لوگوں کو]بے علمی کے ساتھ اللہ کے راستے سے گمراہ کریں،اور اس[دین]سے استہزاء و مذاق کریں۔یہی لوگ ہیں جنھیں ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا۔‘‘
تفسیرِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم:
اس آیت میں وارد کلمہ﴿لَہْوَ الْحَدِیْثِ﴾سے مراد گانا بجانا یا ساز و موسیقی ہے۔
اس بات کا پتہ خود نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے چلتا ہے چنانچہ معجم طبرانی کبیر میں حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((لَا یَحِلُّ بَیْعُ الْمُغَنِّیَاتِ وَ لَا شِرَائُ ہُنَّ وَ لَا تِجَارَۃٌ فِیْہِنَّ وَ ثَمَنُہُنَّ حَرَامٌ))
’’ گلوکاراؤں کا خریدنا،بیچنا اور انکی تجارت کرنا حلال نہیں اور انکی قیمت کھانا حرام ہے۔‘‘
اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اِنَّمَا نَزَلَتْ ہٰذِہٖ الْآیَۃُ فِيْ ذَالِکَ))
’’ یہ آیت اسی[گانے بجانے]کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‘‘
آگے مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ لقمان کی یہ آیت:۶ مکمل تلاوت فرمائی،اور پھر

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 27


فرمایا:
’’ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے،کوئی شخص جب گانا گاتے ہوئے اپنی آواز اونچی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو شیطان بھیج دیتا ہے جو اسکے دونوں کندھوں پر چڑھ کر اسکے سینے پر پاؤں مارنے(رقص کرنے)لگتے ہیں،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینۂ مبارک کی طرف اشارہ فرمایا:اور جب تک وہ خاموش نہ ہوجائے وہ پاؤں مارتے ہی رہتے ہیں۔‘‘[1]
اس حدیث میں اس آیت کے کلمات﴿لَہْوَ الْحَدِیْثِ﴾کی وضاحت آگئی کہ اس سے مراد گانا و موسیقی اور گلوکار و موسیقار ہیں اور یہ آیت ہی انہی اشیاء کو حرام کرنے کیلئے نازل کی گئی ہے۔
تفسیر و آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم ا ور آثارِتابعین رحمہم اللہ و غیرہ:
اس آیت کے سببِ نزول کا پتہ کئی دیگر آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم اور اقوالِ تابعین رحمہم اللہ سے بھی چلتا ہے:
1۔اثرِ ترجمان القرآن رضی اللہ عنہما:
ترجمان القرآن حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے الادب المفرد امام بخاری،مصنف ابن ابی شیبہ،سنن کبریٰ بیہقی اور تفسیر ابن جریر طبری میں مروی ہے:
((نَزَلَتْ فِي الْغِنَائِ وَ اَشْبَاہِہٖ))[2]
’’ یہ آیت گانے بجانے و غیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‘‘

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 28
________________________________________________[1] المعجم الکبیر للطبرانی ، جلد : ۸ حدیث : ۷۷۴۹ ، ۷۸۰۵ ، ۷۸۲۵، ۷۸۵۵ ، ۷۸۶۲ [2] الادب المفرد امام بخاری : ۱۲۶۵، مصنف ابنِ ابی شیبہ ۶؍۳۱۰ ، بیہقی ۱۰ ؍ ۲۲۰-۲۲۳ ، تفسیر ابن جریر طبری ۲۱؍ ۴۰

2۔اثرِ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ:
اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ،سنن و شعب الایمان بیہقی،مستدرک حاکم اور تفسیر طبری میں ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سورۂ لقمان کی اس آیت:۶ میں وارد کلمہ﴿لَہْوَ الْحَدِیْثِ﴾کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا:
((ہُوَ الْغِنَائُ وَ الَّذِیْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُرَدِّدُھَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ))[1]
’’ اس سے مراد گانا بجانا ہے،مجھے اُس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبودِ بر حق نہیں ہے،اور انھوں نے یہ بات تین مرتبہ کہی۔‘‘
اس اثر کی سند کو امام حاکم،علامہ ذہبی،علامہ ابنِ قیّم اورامام ابن الجوزی نے صحیح قرار دیا ہے۔[2]
3۔اثرِحضرت عکرمہ رحمہ اللہ:
ایک تیسرا اثر حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے تاریخ امام بخاری،تفسیر ابن جریر طبری،بیہقی اور مصنّف ابن ابی شیبہ میں مروی ہے،اُن سے پوچھا گیا:﴿لَہْوَ الْحَدِیْثِ﴾سے کیا مراد ہے؟تو انھوں نے فرمایا:
(ہُوَ الْغِنَائُ)[3] ’’ اس سے مراد گانا بجانا ہے۔‘‘
اس اثر کی سند کو حسن درجے کی اور متابعت کی وجہ سے اس اثر کو صحیح قرار دیا گیا ہے۔[4]

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 29
________________________________________________[1] ابنِ ابی شیبہ ۶؍۳۱۰ ، سنن بیہقی ۱۰ ؍ ۲۲۱،۲۲۳ ، شعب الایمان ۴؍ ۶۷۸: ۵۰۹۶ ، تفسیر ابنِ جریر طبری ۲۱؍۴۰، مستدرک حاکم ۲؍۴۱۱ [2] تحریم آلات الطرب، ص : ۱۴۳۔ [3] تاریخِ امام بخاری ۲؍۲۱۷ ، تفسیر طبری ۲۱؍۴۰ ، ابنِ ابی شیبہ ۶؍۳۱۰، بیہقی ۱۰؍۲۲۱،۲۲۳ [4] الطبری ایضاً

4۔اثرِ امام مجاہد رحمہ اللہ:
بالکل اِنہی لفظوں میں ایک اثرحضرت امام مجاہد رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے،جسے ابن ابی شیبہ،ابن جریر طبری اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا ہے۔
5۔اثرِ ثانی:
امامِ تفسیر حضرت مجاہد رحمہ اللہ سے تفسیر ابن جریر طبری میں ایک دوسرا اثر بھی حضرت ابن جریج رحمہ اللہ کے طریق سے مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ امام مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا:
(اَللَّہْوُ:اَلطَّبَلُ)[1] ’’لہو الحدیث سے مراد طبلہ و ساز ہے ‘‘
6۔اثرِ حضرت حسن بصری رحمہ اللہ:
ا س سلسلہ میں ابن ابی حاتم کی روایت سے امام سیوطی نے اپنی تفسیر الدّر المنثور میں حضرت حسن بصری رحمہ اللہ کا ایک اثر بھی ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے فرمایا ہے:
(نَزَلَتْ ہَذِہٖ الْآیَۃُ:﴿وَمِنَ النَّاسِ… الخ﴾فِي الْغِنَائِ وَ الْمَزَامِیْرِ)
’’یہ آیت﴿وَمِنَ النَّاسِ… الخ﴾گانے اور بانسریوں یعنی ساز و موسیقی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔‘‘
اِنہی سب آثار کے پیشِ نظر امام واحدی نے اپنی التفسیر الوسیط میں کہا ہے کہ اکثر مفسِّرین کرام کے نزدیک﴿لَہْوَ الْحَدِیْثِ﴾سے مراد گانا ہی ہے۔
دوسری آیت:
گانے بجانے کے حرام ہونے پر جس دوسری آیت سے استدلال کیا گیا ہے وہ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت:۶۴ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے شیطان اور اسکی جماعت سے مخاطب ہو کر

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 30
________________________________________________[1] الطبری ایضاً

ارشاد فرمایا ہے:
﴿وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ وَاَجْلِبْ عَلَیْہِمْ بِخَیْلِکَ وَرَجِلِکَ وَ شَارِکْہُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْہُمْ وَ مَا یَعِدُہُمُ الشَّیْطَانُ اِلَّا غُرُوْراًo﴾
’’ اور ان میں سے جس کو بہکا سکے،اپنی آواز سے بہکا تا رہ اور ان پر اپنے سواروں اور پیادوں کو چڑھا کر لاتا رہ اور انکے مال و اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ،اور شیطان ان سے جو وعدے کرتا ہے،سب دھوکہ ہے۔‘‘
آوازِ شیطان:
اس آیت میں شیطان کی جس آواز کا ذکرآیا ہے وہ اللہ کی نافرمانی کی طرف پُر فریب دعوت دینے والی ہر آواز ہے۔حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما اور امام مجاہد رحمہ اللہ جیسے بعض عظیم مفسِّرین نے اس سے گانا و موسیقی اور لہو و لعب ہی مراد لیا ہے۔
صوت الشیطان:
ابنِ ابی حاتم نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہمانے﴿وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْہُمْ بِصَوْتِکَ﴾کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:
((کُلُّ دَاعٍ اِلَیٰ مَعْصِیَۃٍ))۔
’’ معصیت و گناہ کی طرف بلانے والی ہر آواز و چیز۔‘‘
اور یہ بات واضح ہے کہ گانا نافرمانی کے دواعی میں سے سب سے بڑھ کر ہے لہٰذا اسے[صوتُ الشّیطان]کا نام دیا گیا ہے۔
اور انہی کلمات کی تفسیر میں کئی دیگر آئمہ تفسیر کے نزدیک بھی گانے اور ہر کلامِ باطل کو[صوتُ الشّیطان]قرار دیا گیا ہے،اور امام مجاہد نے بانسریوں[ساز و موسیقی]کو شیطان کی

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 31


آوازکواور حضرت حسن بصری نے حرام دَف[جو عید و شادی پر عورتوں کے علاوہ کسی اورکے ہاتھوں بجائی جائے]کو بھی شیطان کی آواز قرار دیا ہے۔
تیسری آیت:
اس سلسلہ میں قرآنِ کریم کے ایک تیسرے مقام سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جو کہ سورۃ النجم کی آیات:۵۹،۶۰،۶۱ہیں،جہاں ارشادِ ربانی ہے:
﴿اَفَمِنْ ہَذَا الْحَدِیْثِ تَعْجَبُوْنَ o وَتَضْحَکُوْنَ وَ لَا تَبْکُوْنَ o وَ أَنْتُمْ سَامِدُوْنَ﴾
’’اب کیا وہ یہی باتیں ہیں جن پر تم اظہارِ تعجب کرتے ہو،ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو،اور غفلت میں مبتلا ہو کر[گابجا]کر انہیں ٹالتے ہو؟۔‘‘
سمود یعنی گانا بجانا:
یہاں﴿سَامِدُوْنَ﴾کا معنیٰ امام راغب اصفہانی نے مفردات القرآن میں تکبّر و غرور سے سَر منہ چڑھانا بیان کیا ہے۔حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہمااور امام مجاہد رحمہ اللہ سے یہی تفسیر منقول ہے جبکہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہماسے ہی ایک دوسرے قول میں،اور عکرمہ و ابو عبید نحوی; کا کہنا ہے:
(اَلسُّمُوْدُ اَلْغِنَائُ فِي لُغَۃِ الْحِمْیَرِ،یُقَالُ:اُسْمُدِيْ لَنَا أَيْ غَنِّيْ لَنَا)
’’ حِمیری[یمنی عربی]زبان میں سَمُود کا معنیٰ گانا بجانا ہے،کہا جاتا ہے:
اُسْمُدِیْ لَنَایعنی ہمارے لیٔے گاؤ۔‘‘[1]
اسی معنیٰ کے اعتبار سے اس آیت میں اشارہ ہے کہ کفّارِ مکہ قرآن کی آواز کو دبانے اور لوگوں کی توجہ بٹانے کیلئے زور زور سے گانا شروع کردیتے تھے تو گویا یہ گانا و موسیقی کفّار و مشرکین کا وطیرہ و شیوہ ہے۔[2]

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 32
________________________________________________[1] تحریم آلات الطرب ص : ۱۴۳۔ [2] تفسیر ابن کثیر ۴؍۲۲۹ ، تفہیم القرآن ۵؍۲۲۴، اغاثۃ اللہفان ابن قیم ۔

چوتھی آیت:
حُرمتِ ساز و آواز پر ہی ایک چوتھی آیت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے جو کہ سورۃ الفرقان کی آیت:۷۲ ہے،جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ وَ اِذَا مَرُّوْا بِالَّلغْوِ مَرُّوْا کِرَاماًo﴾
’’اور(عبادُ الرحمن میں وہ بھی شامل ہیں)جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب کسی لغو و بیہودہ چیز کے پاس سے ان کا گزر ہوتا ہے تو وہ شریفانہ انداز سے گزر جاتے ہیں۔‘‘
مقاماتِ ساز و آواز:
اس آیت میں﴿وَالَّذِیْنَ لَا یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَ﴾کا ایک مفہوم تو یہی ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے البتہ محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ لغو و بیہودہ کاموں اور گانے بجانے کے مقامات و مواقع پر شرکت نہیں کرتے۔غرض بقولِ علّامہ ابن قیم:
’’سلفِ امت نے الزُّوْر کی تفسیر گانے اور تمام باطل امور سے کی ہے۔‘‘[1]
اور﴿وَ اِذَا مَرُّوْا بِالَّلغْوِ مَرُّوْا کِرَاماًo﴾کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ کسی لغو و بیہودہ کام والی جگہ پر حاضر نہیں ہوتے اور اگر کبھی اتفاق سے انہیں ایسی جگہ سے گزرنا ہی پڑے تو نہایت مہذّب و شریفانہ انداز سے انہیں نظر انداز کیٔے ہوئے گزر جاتے ہیں۔[2]
پانچویں آیت:
گانا بجانا خصوصاً ساز و موسیقی کے حرام ہونے کی دلیل کے طور پر ایک پانچویں آیت بھی پیش کی جاسکتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کفّار کے بارے میں سورۃ الانفال،آیت:۳۵میں فرمایا ہے:

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 33
________________________________________________[1] اغاثۃ اللہفان ابن قیم ۔ [2] ابن کثیر ۳؍۲۸۳۔

﴿وَ مَا کَانَ صَلَٰوتُہُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُکَآئً وَّ تَصْدِیَۃً﴾
’’ اور ان لوگوں کی نماز خانہ کعبہ کے پاس سیٹیاں اور تالیاں بجانے کے سوا کچھ نہ تھی۔‘‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما،عطیہ،مجاہد،ضحاک،حسن بصری اور قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اَلْمُکَآئُ سے مراد سیٹیاں مارنا اور اَلتَّصْدِیَۃُ کا معنیٰ تالیاں بجانا ہے۔اہلِ لُغت نے بھی اَلْمُکَآئ ُکا معنیٰ سیٹی مارنا اور اَلتَّصْدِیَۃُ کا معنیٰ تالی بجانا ہی ذکر کیا ہے جو کہ ساز و موسیقی کی قسم ہے۔[1]
غرض قرآنِ کریم کے ان پانچ مقامات سے گانے بجانے،ساز و آواز اور راگ رنگ کے حرام ہونے کا واضح پتہ چلتا ہے۔
گانے بجانے کی حُرمت:احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں
گانے اور موسیقی کے حرام ہونے کا پتہ متعدد احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی چلتا ہے جن میں سے چند احادیث درجِ ذیل ہیں:
پہلی حدیث:
حضرت ابو عامر۔یا ابو مالک۔اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:
((لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِيْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ وَ الْحَرِیْرَ وَ الْخَمْرَ وَ الْمَعَازِفَ۔۔۔))
’’ میری امت میں سے ایسے لوگ ضرور پیدا ہونگے جو شرمگاہ[زنا]،ریشم،شراب اور گانا و موسیقی کو حلال کرلیں گے۔‘‘

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 34
________________________________________________[1] اغاثۃ اللہفان ابن قیم ۔

اس حدیث میں بعض دیگر امور کے تذکرہ کے بعد اس کے آخر میں یہ بھی مذکور ہے:
((وَ یَمْسَخُ آخَرِیْنَ قِرَدَۃً وَ خَنَازِیْرَ اِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ))[1]
’’ ان میں سے بعض کو اللہ تعالیٰ قیامت تک کیلئے بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کردے گا۔‘‘
المعازف کیا ہے؟
المعازف کی تشریح بیان کرتے ہوئے النہایۃ میں ابن الاثیر نے لکھا ہے:
’’ دفیں[ڈھول تاشے]جو بجائے جاتے ہیں۔‘‘
القاموس المحیط میں فیروز آبادی لکھتے ہیں:
’’آلاتِ لہو و لعب جیسے عُود و سارنگی اور طبلہ و طنبورہ ہیں۔۔۔اور العازف ان آلات سے کھیلنے[بجانے]والا اور گانے والا ہے۔‘‘[2]
علامہ ابن قیم نے اغاثۃ اللہفان فی مصاید الشیطان میں لکھا ہے:
’’ المعازف سے مراد تمام آلاتِ لہو و موسیقی ہیں اور اس میں اہلِ لُغت کے مابین کوئی اختلاف نہیں ہے۔‘‘[3]
اور علامہ ذہبی نے بھی لکھا ہے کہ المعازف تمام آلاتِ لہو و لعب کا نام ہے جو بجائے جاتے ہیں جیسے بانسری،طنبورہ،شبابہ[بانسری کی قسم]اور صنج[طبل]و غیرہ۔[4]
اس حدیث کے یہ الفاظ کہ:’’میری امت کے بعض لوگ ان(چار چیزوں)کو حلال کرلیں گے۔‘‘ یہ اس بات کی دلیل ہیں کہ یہ چیزیں دراصل حرام ہیں لیکن وہ لوگ حیلوں

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 35
________________________________________________[1] صحیح بخاری تعلیقاً بالجزم مع الفتح ۱۰؍۵۱ ، ۵۶، حدیث : ۵۵۹۰ کتاب الاشربۃ۔ [2] القاموس المحیط مادۃ ’’ عزف ‘‘ [3] غاثۃ اللہفان۔ [4] سیر اعلام النبلاء ذہبی۲۱؍۱۵۸ ، تذکرۃ الحفّاظ ۲؍۱۳۳۸ ۔

بہانوں اور فقہی موشگافیوں سے انہیں حلال کر لیں گے۔اور ان موشگافیوں کی تفصیل ملّا علی قاری کی المرقاۃ شرح المشکوٰۃ(۵؍۱۰۶)اور شیخ البانی کی تحریم آلات الطرب(ص:۹۳)میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اس حدیث کی استنادی حیثیّت:
امام بخاری نے اس حدیث کو پورے جزم و یقین کے صیغے سے تعلیقاً بیان کیا ہے اور اس سے حجت لی اور استدلال کیا ہے جو محدّثین کے نزدیک اس حدیث کے صحیح ہونے کی دلیل ہے،چنانچہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
’’ آلاتِ لہو و موسیقی کے بارے میں ایک صحیح حدیث بخاری شریف میں ہے جسے امام صاحب نے اپنی شرائطِ صحت پر پوری پاتے ہوئے پورے جزم و اعتماد کے ساتھ تعلیقاً روایت کیا ہے۔‘‘[1]
علّامہ ابن حزم کا اعتراض اور اس کا ردّ:
اس حدیث پر علامہ ابن حزم کا یہ اعتراض کرنا کہ اس میں انقطاع پایا جاتا ہے یہ صحیح نہیں ہے،کیونکہ ہشام بن عمّار امام بخاری کے اساتذہ میں سے ہیں اور بقول علّامہ البانی اس حدیث کو کئی حفّاظ و آئمہ حدیث نے موصولاً بھی ہشام سے بیان کیا ہے،جن میں سے چند ایک درجِ ذیل ہیں:
1۔ ابن حبان کے یہاں یہ حدیث صرف المعازف تک ہی ہے۔[2]
2۔ امام طبرانی[3]اور طبرانی کے طریق سے ہی اسے ضیاء المقدسی نے ’’ موافقات ہشام بن عمّار‘‘ ‘[4] میں روایت کیا ہے۔

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 36
________________________________________________[1] الاستقامہ ابنِ تیمیہ ۱؍۲۹۴ [2] ۸؍۲۶۵ ، حدیث : ۶۷۱۹ الاحسان [3] معجم الکبیر ۳؍۳۱۹ ، حدیث : ۳۴۱۷ [4] قلمی ۳۷؍۱۔۲ بحوالہ تحریم آلات الطرب للالبانی ص:۴۰

3۔ مسند الشامیین للطبرانی۔[1]
4۔ المستخرج علیٰ الصحیح للاسماعیلی اور انہی کے طریق سے سنن کبریٰ بیہقی۔[2]
اور اس حدیث کو روایت کرنے میں ہشام اور انکے استاد صدقہ بن خالد منفرد بھی نہیں بلکہ انکی متابعت کئی دوسرے رواۃ نے کی ہے۔[3] اس حدیث کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ[4] اور علّامہ ابن قیم نے[5] صحیح و متّصل قرار دیا ہے۔اس حدیث میں لفظ اَلْمَعَازِفَ نہیں بلکہ محض کچھ کلام کا تذکرہ کرکے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جبکہ اس کی تصریح دوسرے دو ثقہ حفّاظ میں سے عبد الرحمن بن ابراہیم سے المستخرج للاسماعیلی میں[6]اور اسماعیلی کے طریق سے ہی سنن کبریٰ بیہقی[7]میں اور عیسیٰ بن محمد بن احمد العسقلانی سے تاریخ دمشق ابن عساکر[8]میں موجود ہے۔
5۔ التاریخ الکبیر امام بخاری[9] اس حدیث کے آخر میں امام بخاری نے یہ صراحت بھی کی ہے کہ اَلْمَعَازِفَ والی حدیث میں جو راویٔ حدیث صحابی ’’ابو عامر یا ابو مالک ‘‘ میں شک ہے وہ اس روایت کی سند سے دور ہو جاتا ہے اور پتہ چل جاتا ہے کہ وہ حضرت ابو مالک اشعری

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 37
________________________________________________[1] الطبرانی ۱؍۳۳۴، حدیث :۵۸۸ [2] سنن کبریٰ بیہقی۱۰؍۲۲۱ ،المستخرج بحوالہ فتح الباری۱۰؍۱۵۶ [3] دیکھیٔے: سنن ابی داؤد ، حدیث : ۴۰۳۹ [4] ابطال التحلیل ص:۲۷بحوالہ تحریم آلات الطرب [5] اغاثۃ اللہفان [6] کما فی الفتح ۱۰؍۱۵۶ [7] سنن کبریٰ بیہقی ۳؍۲۷۲ [8] تاریخ دمشق ابن عساکر ۱۹؍۱۵۶ [9] التاریخ الکبیر امام بخاری۱؍۱؍۳۰۴۔۳۰۵

رضی اللہ عنہ ہیں۔اور اس حدیث کو علّامہ ابن قیم نے صحیح السند قرار دیا ہے۔[1]
ایک اور اعتراض اور اس کا ردّ:
یوں امام بخاری کی روایت سے انقطاع کا شُبہہ تو ختم ہوا جو کہ علامہ ابنِ حزم کی طرف سے کیا گیا تھا،البتہ ایک اعتراض جو علامہ ابنِ حزم کو بھی نہیں سُوجھا تھا وہ بعض معاصرین نے گھڑ لیا اور کہہ دیا کہ حدیثِ بخاری کا ایک راوی عطیہ بن قیس مجہول ہے۔[2]
1۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس حدیث کو دسیوں کبار محدّثینِ کرام نے صحیح قرار دیتے ہوئے علامہ ابن حزم کا ردّ کیا ہے۔جیسے امام بخاری،ابن حبان،اسماعیلی،ابن الصلاح،نووی،ابن تیمیہ،ابن قیم،ابن کثیر،ابن حجر،ابن الوزیر،امام سخاوی اور صنعانی رحمہم اللہ ہیں۔[3]
2۔ دوسری بات یہ کہ اگر بفرضِ محال اس روای کو مجہول بھی مان لیا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ بھی اسے بیان کرنے میں منفرد نہیں بلکہ دوسرے دو راویوں نے ان کی متابعت کی ہے۔[4]
دوسری حدیث:
گانا و موسیقی کے حرام ہونے کا پتہ دینے والی دوسری حدیث مسند بزّار میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 38
________________________________________________[1] اغاثۃ اللہفان۔ [2] تحریم آلات الطرب ص: ۸۹ [3] دیکھیٔے : تاریخ کبیر امام بخاری ۱؍۱؍۳۰۵،ابن ماجہ ۴۰۲۰ ، ابن حبان ۱۳۸۴ ۔الموارد ، بیہقی ۸؍۲۹۵۔۱۰؍۲۳۱ ، ابن ابی شیبہ ۸؍۱۰۷ ، حدیث :۳۸۱۰،مسند احمد ۵؍۳۴۲ ، معجم طبرانی کبیر۳؍۳۲۰ ۔۳۲۱ ، تاریخ دمشق ابن عساکر ۱۶؍۲۲۹۔۲۳۰ یہاں متابع مالک ابو مریم ہیں ۔جبکہ تاریخ کبیر ۱؍۱؍۳۰۴۔۳۰۵ میں متابع ابراہیم بن عبد الحمید ہیں ۔ [4] مسند بزار ۱؍۳۷۷؍۷۹۵ ۔کشف الاستار ، الاحادیث المختارہ للضیاء ۶؍۱۸۸؍۲۲۰۰ ،۲۲۰۱ ۔

((صَوْتَانِ مَلْعُوْنَانِ فِي الدُّنْیَا وَ الْآخِرَۃِ:مِزْمَارٌ عِنْدَ النِّعْمَۃِ وَ رَنَّۃٌ عِنْدَ الْمُصِیْبَۃِ))[1]
’’ دو آوازوں پر دنیا و آخرت میں لعنت و پھٹکار ہے:
نعمت و خوشی کے وقت بانسری[ساز]اور مصیبت کے وقت غم کی چیخ و بَیْن۔‘‘
اس حدیث کی استنادی حیثیت:
علّامہ منذری نے الترغیب و الترہیب [2] میں اور علّامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد [3] میں اس کے راویوں کو ثقہ قرار دیا ہے اور علّامہ البانی نے اس حدیث کو حسن بلکہ صحیح قرار دیا ہے۔
اسکی شاہد روایت:
بعض کے یہاں ایک روایت اس حدیث کی شاہد بھی ہے جس میں حضرت جابر اورحضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
((اِنِّيْ لَمْ أَنْہَ عَنِ الْبُکَائِ،وَ لَٰکِنِّیْ نَہَیْتُ عَنْ صَوْتَیْنِ أَحْمَقَیْنِ فَاجِرَیْنِ:صَوْتٌ عِنْدَ نِعْمَۃٍ؛ لَہْوٌ وَ لَعِبٌ وَ مَزَامِیْرُ الشَّیْطَانِ،وَ صَوْتٌ عِنْدَ مُصِیْبَۃٍ ؛ لَطْمُ وُجُوْہٍ،وَ شَقُّ جُیُوْبٍ وَ رَنَّۃُ شَیْطَانٍ))[4]
’’ میں نے رونے سے منع نہیں کیا بلکہ میں نے دو فاجرانہ و احمقانہ آوازوں سے منع کیا ہے۔ایک آواز نعمت و خوشی کے وقت،جو لہو و لعب اور شیطانی بانسریوں

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 39
________________________________________________[1] مسند بزار۱؍۳۷۷؍۷۹۵ ۔کشف الاستار ، الاحادیث المختارہ للضیاء ۶؍۱۸۸؍۲۲۰۰،۲۲۰۱ ۔ [2] الترغیب۴؍۱۷۷ [3] مجمع الزوائد ۳؍۱۳ [4] حاکم ۴؍۴۰ ، سنن کبریٰ بیہقی ۴؍۶۹ ،شعب الایمان ۷؍۶۴۱؍۱۰۶۳ و ۱۰۶۴ ، شرح السنہ للبغوی ۵؍۴۳۰ ۔۴۳۱ ،مسند طیالسی : ۱۶۸۳ ، طبقات ابن سعد ۱؍۱۳۸ ، ابن ابی شیبہ ۳؍۳۹۳ ، المنتخب من المسند لعبد بن حمید ۳؍۸؍۱۰۴۴، ترمذی :۱۰۰۵ مختصراً ۔

پر مشتمل ہو،دوسری آواز مصیبت کے وقت،جب گال پیٹے،گریبان پھاڑے اور شیطانی چیخ و بَین کیٔے جائیں۔‘‘
اسکا استنادی مقام و مرتبہ:
اسے روایت کرکے امام ترمذی نے حسن[یعنی حسن لغیرہٖ]قرار دیا ہے۔علامہ زیلعی نے نصب الرایہ[1]میں اور علامہ ابن قیم نے اغاثۃ اللہفان [2] میں امام ترمذی کے حسن قرار دینے کو برقرار رکھا ہے اور حافظ ابن حجر نے اسے فتح الباری میں ذکر کرکے خاموشی اختیار فرمائی ہے جو ان کے قاعدے کی رو سے اس کے حسن ہونے کا اشارہ ہے۔
مجمع الزوائد میں علامہ ہیثمی نے اسے مسند ابو یعلی و بزار کی طرف منسوب کرکے لکھا ہے کہ اس کے ایک راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ میں کلام ہے۔[3]جبکہ صرف اس کلام کی وجہ ہی ہے کہ اسے صحیح کی بجائے حسن قرار دیا گیا ہے۔غرض یہ حدیث اس سے پہلی کیلئے ایک شاہد ہے۔
امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الاستقامہ میں لکھا ہے کہ موسیقی اور گانے بجانے کے حرام ہونے پر دلالت کرنے والی بہترین حدیث وہ ہے کہ جس میں خوشی و مصیبت کے وقت کی آوازوں کو حرام قرار دیا گیا ہے اور خوشی کے وقت کی آواز نغمہ و گانا ہی ہوتی ہے۔[4]

کتاب: سماع و قوالی اور گانا و موسیقی (کتاب وسنت اور سلف امت کی نظر میں )

صفحہ نمبر: 40
________________________________________________[1] نصب الرایہ ۴؍۸۴ [2] اغاثۃ اللہفان ۱؍۲۵۴ [3] مجمع الزوائد ۳؍۱۷ [4] مختصراً از الاستقامہ ۱؍۲۹۲۔۲۹۳
قسط نمبر#2 کالنک۔۔۔۔
 
Top