بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
📒کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ
📝قسط نمبر#1
🌹حرفِ چند
اِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہ‘ وَنَسْتَعِیْنُہ‘ وَنَسْتَغْفِرُہ‘،وَ نَعُوْذُ بِا للّٰہِ مِنْ شُرُوْرِأَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئَاتِ أَعْمَا لِنَا،مِنْ یَّھْدِہٖ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہ‘،وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہ‘،وَاَشْھَدُ اَنْ لَّا إِلٰہَ اِلاَّ اللّٰهُ وَحْدَہ‘ لَا شَرِیْکَ لَہ‘،وَ اَشْھَدُ أَ نَّ مُحَمَّداً عَبْدُہ‘ وَرَسُوْلُہ‘۔اَمَّا بَعْدُ:
قارئین ِ کرام!السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ماہِ رمضان،روزہ اور زکوٰۃ کے فضائل و مسائل اور احکام پر مشتمل ہماری ایک تفصیلی کتاب طباعت کیلئے تیار ہے،لیکن اس پر کچھ وقت لگے گا،لہٰذا ہم نے سوچا کہ اُسکی طباعت سے پہلے یہ مختصر رسالہ آپ کی خدمت میں پیش کردیا جائے۔امید ہے کہ ضروری مسائل اس مختصر انداز میں آپ کیلئے باعث ِاستفادہ ہونگے۔اللہ تعالیٰ اس رسالہ کو شرفِ قبولیت سے نوازے،اور ہمارے لئے اور ہمارے معاون تمام دوست واحباب کیلئے دنیا و آخرت کی نجاح وفلاح کا ذریعہ بنائے۔آمین والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
رمضان کی مبارک گھڑیوں میں آپ کی نیک خواہشات اور دعاؤں کا طالب۔
الخبر،سعودی عرب ابوعدنان محمد منیر قمر نواب الدین
۴؍رمضان المبارک ۱۴۲۲؁ھ ترجمان سپریم کورٹ،الخبر۔31952
۱۹؍نومبر ۲۰۰۱ء وداعیہ متعاون،مراکز دعوت وارشاد

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 7


الخبر،الدمام،الظہران
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مختصرمسائل واحکامِ
رمضا ن و روزہ
فضائل و برکات:
[1] رمضان المبارک میں قرآنِ کریم نازل کیا گیا،لہٰذا یہ ’’ماہِ قرآن‘‘ ہونے کا شرف رکھتا ہے۔
اسکا روزہ مسلمانوں پر فرض کیا گیا ہے۔(البقرہ:۱۸۳،۱۸۵)
نبی کریم ﷺ نے روزے کو اسلام کے پانچ ارکان میں سے شمار فرمایا ہے۔(بخاری۱؍۵۴۹)
[2] روزہ ایک ایسی انفرادی حیثیت والی عبادت ہے،جسکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’ روزہ میرے لئے ہے اور اسکا اجر بھی میں ہی دونگا‘‘۔(صحیح بخاری و مسلم)
اور نبی ﷺ نے فرمایاہے:’’ایمان و اخلاص کے ساتھ روزے رکھنے والوں کے پہلے تمام گناہ بخشے جاتے ہیں‘‘۔(صحیح بخاری و مسلم)
[3] رمضان المبارک کی صرف ایک رات’’لیلۃ القدر‘‘ کی عبادت کا ثواب ایک ہزارماہ(۸۳ سال ۴ماہ)سے زیادہ ہے۔(سورۃ القدر:۳)
روزے کے فضائل و برکات اور فوائد و ثمرات کے روحانی پہلو کے علاوہ اسکے طبی و نفسیاتی اور مادی فوائد بھی بکثرت ہیں۔(تفصیل کیلئے دیکھیئے: ماہنامہ مجلہ’’منار الاسلام‘‘ ابوظہبی جلد ۶ شمارہ ۹ بابت ۱۴۰۱ ھ ۱۹۸۱ ء تفسیر المنار علّامہ رشید رضا مصری ۲؍۱۴۴۔۱۴۹

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 8


احکام الصیام ڈاکٹر مصطفیٰ السباعی ص۳۸۔۴۰)
لغوی و اصلاحی معنیٰ:
[4] الصوم(روزہ)کا لغوی معنیٰ’’ کسی کام سے رک جانا ہے‘‘جبکہ اصطلاحی اعتبار سے ’’ صبح صادق سے لیکر غروبِ آفتاب تک پیٹ اور نفس کی خواہشات سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے‘‘۔(تفسیر ابن کثیر ۱/۲۱۳،تفسیر المنار ۲/۱۴۴ فتح الباری ۴/۱۰۲،نیل الاوطار۲/۴/۱۸۶)
سلامی یا استقبال کا روزہ:
[5] رمضان سے ایک دن پہلے استقبال و سلامی کا روزہ رکھنا یا رمضان کے آغاز و شعبان کی انتہاء میں شک کی وجہ سے روزہ رکھنا،سخت منع ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)شک کے دن کے روزے کو نبی ﷺ کی نافرمانی قراردیا گیا ہے۔(سنن ِاربعہ و ابن حبان و دارمی)
رمضان کے دنو ں کی تعداد:
[6] اس بات پر پوری امتِ اسلامیہ کا اجماع و اتفاق ہے کہ کوئی عربی یا قمری مہینہ(رمضان یا غیر رمضان)انتیس(۲۹)دنوں سے کم اورتیس(۳۰)دنوں سے زیادہ نہیں ہوتا۔(بدایۃ المجتہد ۲/۹۲)یہ بات نبی اکرم ﷺ سے بھی ثابت ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
ترکِ روزہ کا گناہ:
[7] رمضان المبارک کے روزے بلا عذرِشرعی ترک کرنا گناہ ِ کبیرہ ہے۔(کتاب الکبائرعلّامہ ذہبی ص۳۹)
ہلالِ عیدورمضان کی شہادت:
[8] ایک عاقل و بالغ،نیک خصال وصدق مقال اور قوی نظر مسلمان شہادت دے کہ اس نے

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 9


چاند دیکھا ہے تو اگلے دن روزہ رکھا جائے گا۔(ابوداؤد،ابن حبان،حاکم،بیہقی،دارمی)
البتہ عید کے چاند کیلئے دو آدمیوں کی گواہی چاہیئے۔(ابوداؤد،نسائی،دارقطنی،احمد)
[9] اگر کوئی ایسی شہادت ہو جو شرعاً معتبر نہ ہو،تو ایسے موقع پر شہادت دینے والا خواہ واقع میں سچا ہی کیوں نہ ہو،اسے اکیلے اپنی رؤیت پر عمل کر کے روزہ نہیں رکھنا چاہیئے اور نہ ہی اکیلے عید کرنا چاہیئے،بلکہ تمام مقامی مسلمانوں کے ساتھ رہنا چاہیئے۔(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،دارقطنی،بیہقی)
اگر رؤیت کی غلطی کی وجہ سے رمضان کا پہلا روزہ چھوٹ گیا ہو،اور ۲۸ روزوں کے بعد شوال کا چاندنظر آجائے تو اگلے دن عید کرلیں۔لیکن عید کے بعد ایک روزہ قضاء کرلیں۔سعودی عرب خلیجی ممالک میں ایسا ہو چکا ہے۔(فتاویٰ اسلامیہ ۲؍۳۲ ۱۔فتویٰ ابن بازؒ)
اختلافِ مطالع:
[10] پوری دنیا میں چاند کا مطلع ایک نہیں ہو سکتا،لہٰذااختلافِ مطا لع کا اعتبار ہوگا۔ہر ملک اپنی رؤیت کا پابندہے۔(المغنی ابن قدامہ ۴/۳۲۸)
جہاں چاند نظر آجائے،وہاں سے مشرق کی جانب ۵۶۰میل(۸۴۰کلومیٹر)تک طلوعِ ہلال کا اعتبار ہوگا۔(فضائل و احکامِ رمضان،مولانا عبیداللہ رحمانی ص۸۔۱۲،جدید فقہی مسائل ص۷۹۔۸۰)
طویل الاوقات علاقوں میں روزے:
[11] قطبین اور انکے قریبی طویل الاوقات علاقوں میں نمازوں کے اوقات اور روزے کیلئے دن رات یا سحری و افطاری کیلئے وہاں معتدل شب وروز والے علاقوں کی طرح ہی ہر ۲۴ گھنٹے میں پانچ نمازیں اور بارہ ماہ مقرر کر کے ایک ماہ کے روزے رکھے جاہیں گے۔(صحیح مسلم

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 10


وشرح نووی ۹؍۱۸؍۶۵۔۶۶،صحیح سنن ترمذی ۲؍۲۴۹،جدید فقہی مسائل ص ۸۴۔۸۶)
دعاء رؤیت ِہلال:
[12] رمضان ‘عید یا کسی بھی ماہ کا چاند پہلی مرتبہ دیکھیں‘ تو رؤیت ِہلال کی یہ دعاء کریں:
((اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہ‘ عَلَیْنَا بِا لْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ
وَالْاِسْلَامِ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضیٰ،رَبُّنَا وَرَبُّکَ اللّٰہُ))
(ابن حبان،دارمی،مستدرک حاکم،مسند احمد)
یا یہ کہیں:
((اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہ‘ عَلَیْنَا بِا لْاَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْاِسْلَامِ،
رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللّٰہُ))(ترمذی شریف)
[13] بوقتِ دعاء چاند کی طرف منہ کئے کھڑے نہ رہیں ‘بلکہ دیکھیں اور اپنی راہ لیں اور دعاء کرتے جائیں۔(مصنف ابن ابی شیبہ،آثارِ حضرت علی و ابن عباس رضی اللہ عنہما)
نمازِ تراویح:
[14] قیام اللیل،قیام ِ رمضان،صلوٰۃ اللیل،تہجّداور تراویح ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں‘ جن کی مسنون تعداد ‘وترسمیت گیارہ رکعتیں ہے۔(صحیح بخاری مع فتح الباری ۳؍۳۳؍۴؍۲۵۱،صحیح مسلم مع نووی ۳؍۶؍۱۷)
[15] نمازِتراویح کی بڑی فضیلت ہے۔یہ نماز تمام گناہوں کے کفّارے کا سبب ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)البتہ یہ سنت ہے،فرض نہیں۔(صحیح بخاری و مسلم)
اسکی جماعت بھی سنت ہے۔نبی ﷺ نے تین دن جماعت کروائی تھی۔(بخاری و مسلم)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 11


[16] بیس تراویح والی مرفوع روایت صرف ایک ہے اور وہ ضعیف ہے۔(نصب الرایہ زیلعی،آثار السنن نیموی،تحفۃ الاحوذی مبارکپوری)یہی معاملہ اس موضوع سے متعلقہ آثار کا ہے۔(فتح الباری و تحفۃ الاحوذی و زاد المعادو نمازِ تراویح علّا مہ البانی)
[17] آئمہ وفقہاء وعلمائِ احناف کی ایک معتد بہ تعداد نے گیارہ رکعتِ تراویح(مع وتر)کے ہی سنتِ رسول ﷺ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔(عمدۃ القاری عینی ۴؍۱۷،نصب الرایہ زیلعی۲؍۱۵۲،موطا امام محمد ص۹۳ وص۱۳۸۔۱۳۹،فتح القدیر شرح ہدایہ۱؍۳۳۴‘ التعلیق الممجد عبدالحی لکھنوی ص ۹۳،۱۳۸ وعمدۃ الرعایہ حاشیہ شرح وقایہ ۱؍۲۰۷ و تحفۃ الاخیار ص ۲۸ و حاشیہ ہدایہ ۱؍ ۱۵۱،المرقاۃملا علی قاری ۲؍۱۷۲۔۱۷۵ ‘اوجز المسالک مولانا محمد زکریا کاندھلوی،العرف الشذی علّامہ انور شاہ کشمیری ص ۳۰۹،۳۲۹،فیض الباری۱؍۴۲۰،کشف الستر ص ۲۷ ‘لطائف ِقاسمیہ مولانا نانوتوی مکتوب سوئم،فتح سرّ المنّان ص ۳۲۷ ‘البحرالرائق ابن نجیم ۲؍۶۶،۷۲‘ حاشیہ علّامہ طحطاوی بر درمختار ۱؍۳۹۵‘ فتاویٰ شامی۱؍۴۹۵ ‘حاشیۃالاشباہ والنظائر للحموی ص ۹ ‘شرح کنز الدقائق ابوالسعود ص۳۶ ‘مراقی الفلاح ابوالحسن ص ۲۴۷ ‘ما ثبت بالسنۃ شیخ عبدالحق دہلوی ص۲۹۲ و مدارج النبوّۃ ۱؍۴۶۵ ‘حاشیہ بخاری مولانا احمد علی سہارنپوری۱؍۱۵۴ و عین الہدایہ ص ۵۶۲ والمفاتیح لا سرار التراویح ص ۹ مصفّیٰ شرح مؤطا مع مسوّیٰ شاہ ولی اللہ دہلوی۱؍۱۷۷)
[18] نمازِ تراویح کے بعد دوبارہ با جماعت تہجّد یا نوافل ادا کرنا ثابت نہیں،البتہ انفرادی طور پر باعثِ اجروثواب ہے۔(فتویٰ مولانا عبید اللہ عفیف ہفت روزہ اہلحدیث لاہور جلد ۲۰،شمارہ ۲۱،۱۴۰۹؁ ھ؍ ۱۹۸۹؁ء)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 12


بچوں کے روزے:
[19] بچوں کو روزے رکھوانا چاہیئے،تاکہ وہ عادی ہو جائیں۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہی عمل تھا۔(صحیح بخاری و مسلم)
سحری کے مسائل:
[20] روزہ کی صرف دل سے کی گئی نیت کافی ہے۔(فتاویٰ ابن تیمیہ ؒ ۲۲؍۲۱۷۔۲۵۵،فتح الباری،۱؍ ۱۳ زاد المعاد ۱؍۲۰۱)
وَبِصَوْمِ غَذٍ۔۔۔۔کے الفاظ والی نیت مسنون نہیں بلکہ خود ساختہ ہے۔(اشعۃ اللمعات شیخ عبد الحق دہلوی حنفی ص۱۹،ہدایہ،عمدۃالرعایۃ لکھنوی ص۱۲۹،مکتوبات مجدّدالف ثانی دفتر اول مکتوب:۱۸۶،بہشتی زیور حصّہ دوم ص۱۳)
[21] سحری کھانا نبی ﷺ کی سنت اور باعثِ برکت ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
اہلِ کتاب اور مسلمانوں کے روزوں میں فرق صرف سحری کھانا ہی ہے۔(بخاری و مسلم)
وہ چاہے ایک لقمہ(سنن سعید بن منصور)یا پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو۔(ابن عساکر،
صحیح الجامع الصغیر ۲؍۳؍۴۱)سحری کسی بھی حلال چیز سے ہو سکتی ہے،البتہ ’’مومن کی بہترین سحری کھجور ہے‘‘۔(صحیح سنن ابی داؤد)
[22] رات کے آخری تہائی حصّہ سے لیکر آذان تک سحری کھائی جاسکتی ہے،حتیٰ کہ آذان کے وقت تک کوئی کھا پی رہا ہے،اور آذان شروع ہوگئی تو وہ دورانِ آذان پانی وغیرہ پی سکتا ہے۔‘‘(صحیح سنن ابی داؤد)رات بھر کھاتے پیتے رہنا اور اصل سحری کے وقت سے پہلے ہی سوجانا

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 13


خلافِ سنت اور باعث ِنحوست اوربے برکتی ہے۔
افطاری کے مسائل:
[23] سورج غروب ہوتے(آذان سنتے)ہی روزہ افطار کرلینا چاہیئے۔’’اِسی میں خیروبھلائی ہے۔‘‘(صحیح بخاری و مسلم)
’’افطاری میں بلاوجہ تاخیر کرنا یہود ونصاریٰ کا فعل ہے۔‘‘(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،حاکم)
[24] ’’روزہ تازہ کھجور یا پھر خشک کھجورورنہ پانی سے افطار کرنا مسنون ہے۔‘‘(ابوداؤد،حاکم ترمذی،ابن ماجہ،ابن حبان،دارمی،مسند احمد)
نمک سے روزہ افطار کرنے کا کوئی ثبوت ہماری نظر سے نہیں گزرا۔
روزہ افطار کرنے کی دعاء:
[25] ((اَللّٰہُمَّ لَکَ صُمْتُ وَعٰلیٰ رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ))
(سنن کبریٰ بیہقی،مصنف ابن ابی شیبہ،عمل الیوم واللیلۃ ابن السنّی،الزہد ابن المبارک)
اس دعاء والی حدیث کی سند پر شیخ غازی عزیر(الجبیل)نے کلام کیا ہے۔(ترجمان دہلی جلد ۱۴, شمارہ ۷،۱۴۱۴؁ھ ؍۱۹۹۴؁ء)جبکہ علّامہ البانی نے اسے مرسل(ضعیف)قرار دیتے ہوئے شواہد کی بناء پر قوّی کہا ہے۔(تحقیق مشکوٰۃ ۱؍۶۲۱،ارواء الغلیل ۴؍۳۸)
بہر حال اس دعاء میں جو((وَبِکَ اَمَنْتُ وَ عَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ))کے الفاظ ہیں،وہ ثابت نہیں ہیں۔البتہ ایک دوسری حدیث میں یہ دعاء بھی ہے:
((ذَہْبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُإِنْ شَآئَ اَللّٰہُ))
(ابوداؤد،السنن الکبریٰ نسائی،دارقطنی،مستدرک حاکم،ابن السنی)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 14


افطاری کے وقت دعاء قبول ہوتی ہے۔(ترمذی،ابن ماجہ،ابن السنّی،ابن حبان،مستدرک حاکم،ابن عساکر،تحقیق زادالمعاد۲؍۵۲،الارواء۴؍۴۴)
[26] روزہ افطارکروانے والے کو بھی روزے دار جتنا ثواب دیا جاتا ہے اور روزے دار کا ثواب بھی کم نہیں کیا جاتا۔(ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،ابن خزیمہ،ابن حبان،مسند احمد)
روزے کے مباحات(جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا):
[27] مسواک کرنا،صبح ہو یا شام اور مسواک خشک ہو یا تر۔ (ترجمۃ الباب بخاری،ترمذی،
مسند احمد)سہ پہر کو مسواک کی ممانعت کا پتہ دینے والی روایت ضعیف و ناقابل ِحجت ہے۔
اور تر مسواک پر قیاس کرتے ہوئے ہی[28] منجن اور[29] ٹوتھ پیسٹ کا(احتیاط کے ساتھ)استعمال روا ہے۔(فتاویٰ شیخ ابن باز،مجلہ الدعوۃ،شمارہ۱۰۴۱ رمضان ۱۴۰۶ھ؍ ۱۹۸۶ء)[30] بوقتِ ضرورت سالن چکھ کر تھوک دینا۔(ترجمۃ الباب بخاری)
[31] کلی کرنا اور[32] احتیاط کے ساتھ ناک میں پانی ڈالنا۔(ابوداؤد،ترمذی،نسائی ابن ماجہ،ابن خزیمہ،حاکم)
[33] بھول کر کچھ کھا پی لینا۔(صحیح بخاری و مسلم)
[34] نہانا اور[35] سر پر پانی ڈالنا۔(ابوداؤد،نسائی،مؤطا مالک،مسند احمد)
[36] جنابت کی حالت میں روزہ رکھنا۔(صحیح بخاری و مسلم)
[37] بیوی کا بوسہ لینا اور[38] بغلگیر ہونا۔(صحیح بخاری و مسلم)البتہ جسے اپنے نفس پر اختیار نہ ہو اور بوس و کنار کے نتیجہ میں جماع میں واقع ہوجانے کا خدشہ ہو،اسکے لئے یہ مکروہ ہے۔(بخاری ومسلم،ابوداؤد)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 15


[39] سینگی لگوانا،فصدکروانا یا پچھنے لگوانا۔(صحیح بخاری،دارقطنی،بیہقی)
[40] سرمہ لگانا۔(ترمذی و الفتح الربانی)اسی کے تحت آنکھ میں قطرے(آئی ڈراپس)یا کوئی دوسری دوا بھی آجاتی ہے۔(فقہ السنہ)
[41] بخُور کرنا۔[42] عطرلگانا۔[43] جسم پر تیل لگانا۔[44] کوئی خوشبو سونگھنا۔(فتاویٰ ابن تیمیہ،فقہ السنہ،تحفۃ الاحوذی)اسی سے اگربتی کے جواز کا بھی پتہ چلتا ہے۔[45] خودبخود قے آجانا۔(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،ابن حبان،مسند احمد،حاکم)[46] ٹیکہ لگوانا(جو دوائی ہو،غذائی نہ ہو)۔(فتاویٰ علماء حدیث،فتاویٰ ابن تیمیہ،فقہ السنہ،جدید فقہی مسائل،فتاویٰ ابن باز مجلۃ البلاغ کویت،شمارہ ۶۵۰ رمضان ۱۴۰۲ھ؍ ۱۹۸۲ء)
روزے کے مُبطلات(جن سے روزہ ٹوٹ جاتاہے):
[47] جان بوجھ کر کچھ کھا پی لینا۔کیونکہ روزے کے دوران کچھ نہ کھانا پینا ہی تو روزے کا رکنِ اعظم ہے۔(٭اور جمہور اہل علم کے نزدیک اس پر قضاء واجب ہے۔)[48] جماع کرلینا۔(صحیح بخاری و مسلم)اس پر بالاتفاق قضاء اور مرد پر کفّارہ بھی ہے۔یعنی اسکی جگہ ایک روزہ رکھے،اور غلام آزاد کرے،یا مسلسل ساٹھ روزے رکھے،یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔(بخاری و مسلم،المغنی،فقہ السنہ)[49] عمداً یعنی جان بوجھ کر قے کرنا۔(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ،ابن حبان،مسند احمد،مستدرک حاکم)اور اس پر قضاء واجب ہے۔
[50] حیض ونفاس کا خون شروع ہوجانا،چاہے غروبِ آفتاب کے کچھ پہلے ہی کیوں نہ آجائے۔اس عرصہ میں چُھوٹی ہوئی نمازیں تو معاف ہیں،مگر روزوں کی قضاء واجب ہے۔(بخاری و مسلم،فقہ السنہ)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 16


[51] کچھ نگل لینا،اگرچہ وہ چیز غذا کے طور پر استعمال ہونے والی نہ ہو۔(المغنی)
[52] سحری و افطاری میں غلطی،یعنی قبل از وقت روزہ افطار کر لینا یا بعد از انتہاء سحری دیر تک کھاتے پیتے رہنا،اس پر احتیاطاً اس دن کی قضاء ہے۔
(بخاری،المغنی،فقہ السنہ)
[53] جان بوجھ کر کسی طرح مادۂ منویہ خارج کرلینا۔(اس پر قضاء واجب ہے)البتہ محض نظر یا سوچ سے ایسا ہو جائے،سوتے میں بدخوابی ہو جائے،یا مذی خارج ہو جائے،تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے۔(فقہ السنہ)
اصحابِ رخصت ِقضاء:
[54] بیمار،جسے روزہ رکھنے سے بیماری بڑھنے،شفاء متاخّر ہو نے،یا اس کے مرنے کا ڈرہو۔(سورۃالبقرہ:۱۸۵ و فقہ السنہ و احکام القرآن جصّاص)
[55] دائم المرض آدمی ہر روزہ کے بدلے فدیہ دیتا جائے،اس پر قضاء بھی واجب نہیں۔(الفقہ علی المذاھب الاربعہ)
[56] عمر رسیدہ مرد یا عورت جسکے لئے روزہ رکھنا ممکن نہ ہو۔وہ صرف فدیہ دے دیں۔اور اگر وہ فقیر بھی ہوں،تو ان پر فدیہ و قضاء کچھ بھی نہیں۔(صحیح بخاری،الفقہ علی المذاھب الاربعہ،تفسیرابن کثیر،ارواء الغلیل،فتاویٰ علماء حدیث)
[57] حمل یا چھوٹے بچے کو دودھ پلانے والی عورت کو بھی قضاء کرنے کی اجازت ہے۔البتہ ہر روزے کے ساتھ ہی فدیہ بھی دے دے۔(بخاری،سنن ِاربعہ،فتاویٰ علماء حدیث)
[58] حیض ونفاس والی عورتیں،یہ بعد میںاتنے روزے قضاء کرلیں۔(بخاری و مسلم)
[59] مسافر،(سورۃ البقرہ:۱۸۵)جس سفرمیں نماز قصر کی جاسکتی ہے،اسی میں روزہ بھی قضاء

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 17


کیا جا سکتا ہے۔
لیلۃ القدر اور اعتکاف:
[60] لیلۃ القدر رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں(۲۱،۲۳،۲۵،۲۷،۲۹)میں سے ایک ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)ماہِ رمضان ماہِ قرآن اور لیلۃ القدر،شبِ قرآن ہے۔(سورۃ البقرہ:۱۸۵،سورۃالدخان:۳،سورۃ القدر:۳)
اسی ایک رات کی عبادت کا ثواب ایک ہزار ماہ(۸۳ سال ۴ ماہ)سے زیادہ ہے۔(القدر:۳)اس رات کے اگلے دن کا سورج اسطرح طلوع ہوتا ہے کہ اسکی شعائیں نہیں ہوتیں۔(مسلم)
یہ رات بالکل صاف اور روشن ہوتی ہے۔اسمیں سکون ودلجمعی ہوتی ہے نہ گرمی اورنہ سردی ہوتی ہے اور نہ صبح تک ستارے جَھڑتے ہیں۔(تفسیر ابن کثیر)
[61] اسی کی تلاش میں اعتکاف کیا جاتا ہے،جو کہ سنتِ رسول ﷺہے۔(بخاری ومسلم)
[62] اکیسویں شب کے آغاز میں اعتکاف کی نیّت سے مسجد میں داخل ہو جائیں اور فجر پڑھ کر جائے اعتکاف میں داخل ہوجائیں۔(بخاری ومسلم،الفتح الربانی،فتاویٰ علماء حدیث)
[63] اعتکاف صرف مسجد(جامع مسجد)ہی میں ہوسکتا ہے۔(سورۃ البقرہ:۱۸۷،بخاری و مسلم،تحفۃ الاحوذی،فقہ السنہ،فتاویٰ علماء حدیث)
مباحاتِ اعتکاف:
[64] اعتکاف کے دوران نہانا،تیل لگانااور کنگا کرنا جائز ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[65] گھر والوں سے ضروری بات کرنا اور انہیں باہر کے دروازے تک الودع کرنا۔(صحیح بخاری و مسلم)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 18


[66] مسجد میں مخصوص جگہ(کپڑا وغیرہ لگا کر)بنا لینا۔(ابن ماجہ)
ممنوعاتِ اعتکاف:
[67] اعتکاف والا آدمی اپنی بیوی کوشہوت کے ساتھچُھو نہیں سکتا،نہ بوس وکنار کر سکتا ہے،
نہ کسی کے جنازے میں شرکت کرسکتا ہے اور نہ کسی مریض کی مزاج پرسی کرسکتاہے۔(ابوداؤد)
[68] فضول گوئی سے بچیں۔(ترمذی و ابن ماجہ)البتہ مباح گفتگو وغیرہ میں کوئی حرج نہیں۔(صحیح بخاری و مسلم)
شبینہ:
[69] تین دن سے کم عرصہ میں قرآنِ کریم ختم کرنے والے کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ اس نے قرآن کو سمجھا ہی نہیں۔
(ابوداؤد،ترمذی،دارمی)
نبی ﷺ نے ایک رات میں کبھی بھی پورا قرآن نہیں پڑھا,لہٰذا مروجہ شبینہ جائز نہیں۔
(زاد المعاد،فتاویٰ علماء حدیث،جدید فقہی مسائل)
اور ایک رات میں قرآن پڑھنے والی حضرت عثمان ص سے متعلقہ روایت ضعیف ہے۔
صدقۂ فطر:
[70] صدقۂ فطر فرض ہے۔(سورۃ الاعلیٰ:۱۴۔۱۵،ابن ماجہ)
[71] یہ فضول گوئی ونازیبا بات کا کفّارہ اور روزے کو پاک کرتا ہے۔(ابوداؤد)
[72] یہ ہر آزاد،غلام،مرد،عورت،چھوٹے بڑے مسلمان پر فرض ہے اور اسکی مقدار ایک صاع(2.50کلوگرام)ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[73] یہ کھجور،گندم،جَو،پنیر،کِشمش(غلے کی اقسام)سے دیا جاسکتا ہے۔(بخاری و مسلم)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 19


چاول،کنگنی،چینا،جوار،مکئی،باجرہ،ماش،چنا،مٹر،انجیر اور خشک توت سے بھی فطرانہ نکالا جاسکتا ہے۔(فتاویٰ علماء حدیث)
[74] حنابلہ،مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک صرف غلے سے ہی فطرانہ دینا ضروری ہے۔مالکیہ کے نزدیک نقدی میں فطرانہ کفایت تو کر جائے گا،مگر مکروہ ہے۔البتہ احناف کے نزدیک نقدی بھی جائز ہے۔بہر حال کسی خاص مجبوری کے سوا غلہ ہی دینا چاہیئے،تا کہ نقدی کی شکل میں آج فطرانہ،پھر ہدی وقربانی اور پھر کہیں دیگر فرائض واسلامی شعائر کی قیمت لگانے کا بھی نہ سوچا جانا شروع ہوجائے۔(الفقہ علی المذھب الاربعہ،الفتح الربانی)
[75] نمازِ عید سے پہلے ادا کریں۔(صحیح بخاری و مسلم)
[76] عید سے دو ایک دن پہلے ادا کرنا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل تھا۔(بخاری و مسلم)
[77] یہ بھی فقراء و مساکین،جہاد و مجاہدین وغیرہ ان آٹھوں مصارف میں صرف کیا جا سکتا ہے،جو مصارفِ زکوٰۃ ہیں۔(سورۃ التوبہ: ۶۰)
[78] اجتماعی طریقہ اختیار کیا جائے تو بہتر ہے۔پہلے مقامی مستحقین کو دیں،پھر جو بچ جائے دوسرے علاقوں اور ممالک کو بھی بالاتفاق بھیج سکتے ہیں۔(الفتح الربانی،فقہ السنہ)
نفلی روزے:
[79] ’’جس نے رمضان کا مہینہ روزے رکھے(30×300=10)اور پھر شوال کے بھی چھ(شش عیدی)روزے رکھ لئے(6×60=10)تو اس نے گویا ہمیشہ(سال بھر یعنی ۳۶۰ دنوں کے)روزے رکھے۔‘‘(صحیح مسلم،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)
[80] نبی ﷺ ’’ذوالحج کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھا کرتے تھے۔‘‘(ابوداؤد،نسائی،

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 20


بیہقی،مسند احمد)
[81] نو ذوالحج(یومِ عرفہ)کا روزہ اس سے پہلے اور پچھلے دوسالوں کے(صغیرہ)گناہوں کا کفّارہ ہو جاتا ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
البتہ حاجیوں کے لئے بالاتفاق عرفہ کا روزہ رکھنا منع ہے۔(الفتح الربانی)
[82] ماہ ِمحرّم کے روزے رمضان کے بعد افضل ترین روزے ہیں۔(بخاری و مسلم)
خصوصاًیومِ عاشوراء(دس محرم)کا روزہ ایک سال کے(صغیرہ)گناہوں کا کفّارہ ہو جاتا ہے۔(صحیح مسلم،ابوداؤد،بیہقی)
اسکے ساتھ ہی نو محرّم کا روزہ ملا لینا بھی سنت ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[83] ماہِ شعبان میں بھی نبی ﷺ بکثرت روزے رکھا کرتے تھے۔(بخاری و مسلم)
البتہ استقبالِ رمضان یا سلامی،اسی طرح نصف شعبان کے روزے ثابت نہیں ہیں۔جیساکہ شروع میں با دلیل وحوالہ تذکرہ ہوا ہے۔
[84] ہر ماہ کے ایامِ بیض(۱۳،۱۴،۱۵)کے روزے رکھنا سنت و ثواب ہے۔(صحیح مسلم)
ماہِ رمضان اورایامِ بیض کے روزوں کا ثواب پورے سال کے روزوں جتنا ہوجاتا ہے(مسلم)
[85] ہر سوموار اورجمعرات کا روزہ رکھنا بھی سنت ہے۔(ترمذی ونسائی)
نبی ﷺ ان دنوں کا روزہ رکھتے تھے،کیونکہ ان دنوں میں بندوں کے اعمال اللہ کے حضور پیش کئے جاتے ہیں۔(ترمذی)سوموار کے روزے کے بارے میں فرمایا کہ اس دن میں پیدا ہوا اور نبی بنایا گیا تھا۔(صحیح مسلم)
[86] صومِ داؤدی(ایک دن روزہ اور ایک دن چھٹی)کو نبی ﷺ نے افضل روزے قرار دیا

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 21


ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
البتہ بلا ناغہ ہمیشہ روزے رکھتے جانے والوں کے بارے میں نبی ﷺ نے فرمایا:’’اس نے نہ روزہ رکھا نہ افطار کیا‘‘(یعنی اسکا عمل بیکار گیا)۔(صحیح مسلم)
[87] ہر ہفتہ اور اتوار کو بھی روزہ رکھنا چاہیئے،تا کہ یہودیوں اور عیسائیوں کی مخالفت ہو جائے۔(نسائی)
[88] نفلی روزہ جب چاہیں توڑلیں،اس پر کوئی قضاء و کفّارہ نہیں ہے۔(نیل الاوطار)
ممنوع روزے اور ممنوع انداز:
[89] عید الفطر اور عید الاضحی کے روزوں سے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔(بخاری و مسلم)
[90] ذوالحج کی ۱۱،۱۲،۱۳ تاریخ(ایامِ تشریق)کے روزے بھی منع ہیں۔(مسلم واحمد)
سوائے اسکے جسے ہدی(قربانی)کا جانورنہ ملے۔(صحیح بخاری)
یعنی اسکے بدلے میں وہ دس روزوں میں سے تین اُن دنوں میں رکھ سکتا ہے۔
[91] شوہر موجود ہو،تو اسکی اجازت کے بغیر عورت نفلی روزہ نہیں رکھ سکتی۔(بخاری و مسلم)
[92] صرف جمعہ کا اکیلا روزہ رکھنا منع ہے۔اس سے پہلے جمعرات یا بعد میں ہفتہ کاروزہ بھی
رکھے تو جائز ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[93] اکیلے اتوار کا نفلی روزہ بھی منع ہے۔(ابوداؤد،ترمذی،نسائی ابن ماجہ)
[94] شک کے دن کا روزہ رکھنا(کہ شاید رمضان کا چاند نکل گیا ہو،مگر نظر نہ آیا ہو)یہ بھی ممنوع ہے۔جیسا کہ شروع میں باحوالہ بات گزری ہے۔
عیدین کے مسائل:

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 22


[95] جمہور علماء امت کے نزدیک نمازِ عید سنت ِ مؤکدہ ہے۔البتہ بعض نے فرض کفایہ اور بعض نے واجب بھی کہا ہے۔(الفروع للنووی،الفقہ علی المذھب الاربعہ،المغنی،الفتح الربانی،تمام المنّہ،الروضہ الندیہ)
[96] یومِ عید سے پہلی رات کی فضیلت کے بارے میں کوئی حدیث صحیح نہیں،البتہ بعض آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم ملتے ہیں۔(قیام اللیل مروزی)
[97] عید کے دن غسل کرنے کے مستحب ہونے کے بارے میں بھی بعض آثار ہی ملتے ہیں۔
(مسند احمد،مؤطا مالک)
[98] عیدین اور جمعہ کے دن خوبصورت لباس پہننا اور خوشبو لگانا چاہیئے۔(بخاری و مسلم)
[99] عیدالفطر کیلئے کچھ کھا کر(صحیح بخاری)اور عیدالاضحی سے آکر کھانا چاہیئےعیدالاضحی کی سنت کو نصف دن کا روزہ کہنا جہالت ہے۔
[100] عیدین کیلئے مسنون و افضل یہ ہے کہ شہر سے باہر جاکر پڑھیں۔البتہ بعض ضعیف روایات سے مسجد میں پڑھنے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔(ابوداؤد،ابن ماجہ،مستدرک حاکم و تلخیص الحبیر ابن حجر)
[101] عورتوں اور بچوں کو بھی عید گاہ جانا چاہیئے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[102] پیدل اور سوار ہو کر دونوں طرح عیدگاہ جانا جائز ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[103] عیدگاہ جانے اورآنے کا راستہ بدل لینا چاہیئے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[104] تکبیراتِ عید:(ا)((اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَر کَبِیْراً))(مصنف عبدالرزاق)
(ب)((اَللّٰہُ اَکْبَرُ،اَللّٰہُ اَکْبَرُ،لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ،وَاللّٰہُ اَکْبَرُ،

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 23


((اَللّٰہُ اَکْبَرُ،وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ))(مصنف ابن ابی شیبہ)
[105] عیدالفطر کے دن،گھر سے نکلنے سے لیکر خطبہ شروع ہونے تک اور عید الاضحی کے موقع پر نو ذوالحج(یومِ عرفہ)کی صبح سے لیکر ۱۳ ذوالحج کی عصر تک تکبیریں کہتے رہیں۔(فتح الباری)
[106] نمازِ عید الفطر کا وقت سورج کے دو نیزے اور عید الاضحی کا ایک نیزہ بلند ہو نے سے شروع ہوجاتا ہے۔(التلخیص والارواء وفقہ السنہ)
[107] نمازِ عید کی دورکعتوںسے پہلے یا بعد میں کوئی سنت نماز ثابت نہیں۔(بخاری و مسلم)
[108] نمازِ عید سے واپس لوٹ کر اپنے گھر میں دورکعتیں پڑھنا ثابت ہے۔(ابن ماجہ،
ابن خذیمہ،بیہقی،مسند احمد)
[109] نمازِ عید کیلئے نہ آذان ہے،نہ اقامت۔(زاد المعاد،فقہ السنہ)
[110] نمازِ عید کی صرف دو رکعتیں ہیں۔(صحیح بخاری و مسلم)
[111] نمازِ عید کی دو رکعتیں عام دو رکعتوں کی طرح ہی پڑھی جاتی ہیں۔صرف پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اوردعائِ استفتاح کے بعد سات اور دوسری رکعت میں تکبیرِ قیام کے بعد پانچ تکبیریں اضافی کہی جاتی ہیں،جنہیں تکبیراتِ زوائد کہا جاتا ہے۔(ابو داؤد،ابن ماجہ،حاکم،بیہقی،دارقطنی،مسند احمد،معانی الآثار طحاوی،مصنف ابن ابی شیبہ)
[112] احناف کے یہاں تکبیراتِ زوائد صرف چھ ہیں۔تین پہلی رکعت میں قراء ت سے پہلے اورتین دوسری رکعت میں قراء ت کے بعد۔لیکن اسکی دلیل والی روایت ضعیف ہے۔
(عون المعبود،تحفۃ الاحوذی،نیل الاوطار،الفتح الربانی)
[113] یہ تکبیرات ِزوائد سنت ہیں اور اگر بھول کر چھوٹ جائیں،تو اس پر سجدہ ٔسہو بھی نہیں

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 24


ہے۔(المغنی،نیل الاوطار)
[114] ان تکبیرات کے مابین کوئی ذکر ودعاء نبی ﷺ سے تو ثابت نہیں،البتہ ایک اثر میں حضرت ابن ِمسعود ص کہتے ہیں کہ ہر دوتکبیروں کے مابین: [1]
((سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ))کہیں۔
(بیہقی،معجم طبرانی کبیر)
[115] ان تکبیراتِ زوائد کے ساتھ ہر مرتبہ رفع یدین کرنا(دونوں ہاتوں کو کندھوں یا کانوں تک اٹھانا)چاہیئے۔(مسند احمد،طیالسی،دارمی،بیہقی وغیرہ)
البتہ بعض علماء نے جنازہ وعیدین کی تکبیرات کے ساتھ رفع یدین کی عدمِ سنیّت کے قول کو صحیح تر قرار دیا ہے۔(تمام المنّۃ،الارواء)
[116] نمازِ عید کی قراء ت جہری ہے۔(صحیح مسلم)
[117] نمازِ عید کے بعد امام کو خطبہ دینا چاہیئے۔(صحیح بخاری و مسلم)
[118] خطبہ کا آغاز مسنون خطبہ سے ہی کرنا چاہیئے۔(زادالمعاد)
جن بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ تکبیرات سے آغاز ہو وہ ضعیف ہیں۔(ابن ماجہ،بیہقی،مستدرک حاکم،المغنی،زادالمعاد،الارواء،فقہ السنہ)
[119] عیدین کا خطبہ ایک ہی مسنون ہے،جمعہ کی طرح دو نہیں۔(الارواء،فقہ السنہ)
[120] عیدگاہ میں منبر لیجانا جائز نہیں،امام ویسے ہی کھڑے ہوکر خطبہ دے(بخاری و مسلم)

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 25


[121] عید کا خطبہ سننا سنت ہے۔(صحیح بخاری و مسلم)
اگر کسی کوعذر وضرورت ہو،تو بلا سنے نکل آنا جائز ہے۔(ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ،ابن خذیمہ،دارقطنی،بیہقی،مستدرک حاکم)
[122] عید کی نماز کے لئے بھی دوسری جماعت کروائی جاسکتی ہے۔(صحیح بخاری)
[123] عید مبارک کہنے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو:
((تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ))کہا کرتے تھے۔(فتح الباری،تمام المنّہ)
[124] نمازِعید کے بعد معانقہ(گلے ملنا)ثابت نہیں۔(فتاویٰ علّامہ شمس الحق عظیم آبادی،صاحب ِعون المعبود)
[125] عیدوجمعہ ایک ہی دن میں آجائیں تو جمعے کی فرضیّت ساقط ہوجاتی ہے۔(صحیح بخاری،ابوداود،ابن ماجہ،نسائی،ابن خذیمہ،بیہقی،مسند احمد،مستدرک حاکم)

روزہ داروں کیلئے چند ضروری نصیحتیں ۱؎
1۔ روزے کے صرف طبی و معاشرتی پہلؤوں اور فوائد کو ہی مدّ ِ نظر نہ رکھیں اور یہ نہ بھول جائیں کہ یہ اللہ کی ایک عظیم عبادت ہے۔
2۔ راتوں کو جاگ جاگ کر دن اور دنوں کو سو سو کر راتیں نہ بنا دیں۔
3۔ فرض نمازوں سے سوئے نہ رہیں،خصوصاً نماز ظہر و عصر سے۔
4۔ رنگا رنگ کھانوں اور مشروبات میں فضول خرچی نہ کریں۔
5۔ بے فائدہ امور اور لا یعنی لہو و لعب یا کھیل کود میں وقت ضائع نہ کریں۔

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 26


6۔ سحری قبل ازوقت کھا کر سوجانا،نماز ِ فجر کے قضاء کردینے کا سبب بنتا ہے۔
7۔ افطار سے تھوڑا قبل جنو نی تیزرفتاری سے گاڑیاں چلانا خطرے سے خالی نہیں۔
8۔ روزے کے دوران سخت مزاجی اور دوسروں سے گالی گلوچ نہ کریں۔
9۔ نماز ِ تراویح کو درمیان میں ہی چھوڑ کر نہ نکل جائیں۔
10۔ کھیل کود کیلئے گلیوں اور سڑکوں کے کناروں پر جمع نہ ہوں۔
11۔ جھوٹ،غیبت و چغلی اور ممنوع مذاق سے اپنے روزے کی روح کو مجروح نہ کریں۔
12۔ رمضان کے مہینہ کو سُستی و کاہلی اور بکثرت سونے کا موسم نہ بنا لیں۔
13۔ رمضان میں اللہ کی عبادت کرکے اور رمضان سے پہلے اور بعد میں عبادت سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو ’’رمضانی‘‘ نہ بنالیں بلکہ ہمیشہ عبادت گزار رہ کر رحمانی بنیں۔
14۔ رمضان میں تو مساجد میں حاضر مگر بعد میں مساجد سے منہ موڑ لینے والا رویّہ نہ اپنائیں۔
15۔ آذان کے شروع ہوتے ہی کھانا پینا بند کردینا چاہیئے،آذان کے وسط یا آخر تک ہی کھاتے پیتے نہیں رہنا چاہیئے۔
16۔ بعض لوگ اگر بھول کر کچھ کھا پی لیں تو اُسے بڑا بُرا محسوس کرتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ روزے کو مجروح کردیتا ہے،اور اسکے صحیح ہونے میں شک کرنے لگتے ہیں،جبکہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا ہے کہ ایسے شخص پر کوئی مؤاخذہ نہیں،اُسے تو اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔
17۔ اگر کوئی بھول کر کچھ کھاپی لے تو سمجھدار لوگ اسے یہ نہیں بتاتے کہ بھئی تمہار اروزہ صحیح ہے جسکے نتیجہ میں وہ کھلے عام کھانے پینے لگتا ہے اور اسے دیکھ کر فاجر و فاسق لوگوں کو بھی ہمّت ملتی ہے کہ وہ بھی رمضان میں دن کے وقت کھاتے پیتے پھریں۔

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 27


18۔ آذان ختم ہوجانے کے بعد تک روزہ افطار کرنے میں تاخیر کرنا غلط ہے،جبکہ نبی ﷺکا حکم اور سنت یہ ہے کہ غروب ِ آفتاب پر فوراً روزہ افطار کرلیا جائے۔
19۔ بعض لوگ دوپہر[زوال] کے بعد مسواک نہیں کرتے اور سمجھتے ہیں کہ یہ روزے کے صحیح ہونے میں نقصان دہ ہے،جبکہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں صبح،دوپہر،سہ پہر،سارا دن مسواک کیا کرتے تھے۔
20۔ اگر کوئی جما ع کرلے یا احتلام ہوجانے سے جُنبی[جس پر غسل فرض ہوتا ہے] ہوجائے اور اسی حالت میں اسے سحری کا وقت ہوجائے تو وہ اُسے بڑا بُرا محسوس کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسطرح روزہ خراب ہوجاتا ہے،حالانکہ نبی ﷺ کو جُنبی ہونے کی حالت میں سحری ہوجاتی،آپ ﷺ کھانا کھا لیتے اور پھر فجر کیلئے غسل فرماتے اور روزہ پورا کیا کرتے تھے۔
21۔ روزے کے بہانے سے اپنے کام اور سرکاری ذمہ داریوں میں کوتا ہی کرنا صحیح نہیں،روزہ تو اللہ کو نگران سمجھنے کے سلسلہ میں تربیّت ِ نفس کی ایک بہترین ٹریننگ ہے۔
22۔ بعض لوگ رمضان کی راتوں میں اپنی بیوی سے جماع کرنا حرام سمجھتے ہیں،حالانکہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے :
{أُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ اِلیٰ نِسَآئِ کُمْ}(سورۃ البقرہ:۱۸۷)
’’ روزے کی رات کو تمہارے لئے اپنی بیوی سے جماع کرنا حلال کردیا گیا ہے ‘‘۔
23۔ بعض لوگ اپنے بچوں کو روزہ رکھنے سے منع کردیتے ہیں کہ وہ ابھی بالغ نہیں ہوئے،اور ان کے لئے روزے فرض نہیں،اور ڈرتے اس بات سے ہیں کہ روزے رکھنے سے کمزور ہوجائیں گے،حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے بچوں کو نیکی و اطاعت کے کاموں کی باقاعدہ

کتاب: مختصر مسائل و احکام رمضان،روزہ اور زکوۃ

صفحہ نمبر: 28

قسط نمبر#2 کالنک۔۔۔۔۔https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=513014386739244&id=100040920600108
 
Top