ذیشان خان

Administrator
عمرہ کیا اور بغیر بال کٹائے اپنے ملک واپس چلا گیا

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال : ایک شخص پاکستان سے عمرہ پر آیا اور لاعلمی میں یا جان بوجھ کر بال نہیں کٹوائے اور واپس پاکستان چلا گیا اب اس کے لئے کیا حکم ہے؟ اگر دم دینا ہے تو اسے مکہ کے مساکین میں ذبح کرکے تقسیم کرنا ہوگا شایدشرط یہی ہے لیکن جب وہ دوبارہ مکہ نہیں آسکتا تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟نیز جب بھی یاد آ جانے پر بال کاٹے جا سکتے ہیں تو کیا اپنے ملک واپس جا کر بھی بال کاٹے جا سکتے ہیں جبکہ اس نے اپنا احرام کھول لیا ہے ۔
سائل : عبدمنیب ، پاکستان
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ :
سعودی عرب میں رہنے والے جو بارباردیکھا دیکھی عمرہ کرتے ہیں اور عمرہ کے متعلق اسے صحیح جانکاری نہیں ہوتی ،ایسے لوگ عام طور سے سروں کے چند بال کہیں کہیں سے کاٹ لیا کرتے ہیں ، ان میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو سرے سے بال کٹاتے ہی نہیں ۔ اس قسم کے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو گھر جاتے وقت عمرہ کرتے ہیں اور بیوی کا خیال کرکے بال نہیں کٹاتے ۔ بہت افسوس کی بات ہے عمرہ جیسی عظیم عبادت میں اس قدر غفلت برتی جاتی ہے جبکہ ہونا چاہئے تھا کہ عمرہ کی ادائیگی سے پہلے اس کا مسنون طریقہ جان لیتا اور دعائیں یاد کرلیتا پھر عمرہ کرتا ۔
اوپر سوال میں مذکور عمرہ کرکے بغیر بال کٹائے وطن واپس ہوجانا، اس کی دو صورتیں ہیں ۔
پہلی صورت : یا تو اسے بال کٹانا معلوم تھا مگر اس نے بال کی محبت، غفلت وسستی یا بال کٹانے کو اہمیت نہ دے کر بغیر بال کٹائے وطن واپس ہوگیا تو ایسی صورت میں اسے دم دینا ہوگا کیونکہ عمرہ میں بال کٹانا یا منڈانا واجب ہے اور واجب کے چھوڑنے کی وجہ سے دم دینا ہوگا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مکہ میں ایک چھوٹا جانور ذبح کرے اور وہاں کے فقراء ومساکین پر تقسیم کردے ۔ اس کام کے لئے معتمر کا سعودی عرب آنا ضروری نہیں ہے وہ کسی کو اپنا وکیل بناکر یہ کام کراسکتا ہے ۔ اگر دم دینے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کے بدلے دس روزہ رکھ سکتا ہے ۔
دوسری صورت : اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ عمرہ میں بال کٹایا جاتا ہے یا جلدی بازی کی وجہ سے بال کٹانا بھول گیا ، بہرکیف لاعلمی میں وہ بال نہیں کٹاسکا تو اس میں بھی مجھےعلماء کے دو اقوال ہیں ۔
(1) شیخ صالح فوزان کہتے ہیں کہ اگر کوئی حلق / تقصیر بھول گیا اور احرام کھول دیا تو جب بھی یاد آئے اس پر واجب ہے کہ وہ احرام کا لباس لگائے اور جس جگہ موجود ہے وہیں حلق یا قصر کرائے حتی کہ اپنے ملک میں بھی کیونکہ حلق/تقصیر کسی بھی جگہ کیا جاسکتا ہے اس کے لئے حرم ہی خاص نہیں ہے ۔ ساتھ ہی شیخ نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر اس نے بیوی سے جماع کرلیا تو ایک بکری ذبح کرکے حرم کے مسکینوں پر تقسیم کرنا ہوگا ، اس کی طاقت نہیں رکھتا تو کہیں بھی وہ دس روزہ رکھ لے ۔
(2) شیخ عبداللہ بن عبدالرحمن جبرین ایک سال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے عمرہ کرکے حلق / تقصیر چھوڑدیا اور اس پر لمبا وقفہ گذرگیا تو اس کا معنی یہ ہے کہ عمرہ کے اعمال ختم ہوگئے اسے فدیہ دینا ہوگا۔
مختصرا دوسری صورت میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جس کسی نے بھی عمرہ کیا اور اس میں لاعلمی کی وجہ سے بال کٹانا بھول گیایہاں تک کہ اس عمرہ پہ لمبی مدت گزر گئی خواہ اپنے وطن واپس ہو جانے یا سعودی عرب میں ہی کئی روز گذرجانے کی وجہ سے تو اس صورت میں دم دے یعنی جانور ذبح کرکے حرم کے فقراء پر تقسیم کردے ، اس کی طاقت نہیں تو دس روزے رکھ لے۔ سنت رسول اللہ ﷺ سے عمرہ کے ارکان وواجبات پے درپے ادا کرنے کا ثبوت ملتا ہے ۔اوراگر لمبی مدت نہیں گذری ہے چند گھنٹوں یا آج کا واقعہ ہے کہ عمرہ کرکے بال نہیں کٹایا تو جیسے علم ہو فورا احرام کا لباس لگالے اور حلق یا تقصیر کرالے اس وقت اس پر کچھ بھی نہیں ہے ۔

واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top