ذیشان خان

Administrator
إن الله لا يغير ما بقوم حتى يغيروا ما بأنفسهم

✍
فاروق عبد اللہ نراین پوری

اس آیت کا صحیح معنی کیا ہے؟
عموما اس آیت کا معنی لوگ (خصوصا مقررین حضرات) یہ بیان کرتے ہیں کہ جب تک انسان خود کوشش نہ کرے اللہ تعالی ان کی زبوں حالی کو دور نہیں کرتا، لیکن اس کا راجح معنی یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں کو جو نعمتیں عطا کی ہیں ان سے وہ نعمتیں اس وقت تک نہیں چھینتا جب تک کہ وہ اپنی بد اعمالیوں کے ذریعہ اس کے چھیننے کا خود سبب نہ بن جائیں۔ اس کی تفسیر سورہ انفال کی آیت نمبر 53 سے ہوتی ہے:
ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَأَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور یہ معلوم ہے کہ قرآن کی بعض آیتیں بعض آیتوں کی تفسیر کرتی ہیں۔
البتہ پہلے معنی کو بھی بعض علما نے صحیح کہا ہے۔ لیکن دوسرا معنی ہی راجح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم۔
 
Top