ذیشان خان

Administrator
زکاۃ میں ”اموال ظاہرہ“ و ”اموال باطنہ“ اور ”مچندین“ کی حیثیت

✍ کفایت اللہ سنابلی

اموال زکاۃ کی دو قسم ہیں:
● پہلی قسم : ”اموال باطنہ“
ایسے اموال جن کا چھپانا ممکن ہو جیسے سونا ، چاندی ، اور مال تجارت ۔
● دوسری قسم: ”اموال ظاہرہ“
ایسے اموال جن کا چھپانا ممکن نہ ہو ،جیسے جانور، غلے اور پھل۔
.
پہلی قسم کے اموال یعنی ”اموال باطنہ“ میں زکاۃ کی ادائیگی کا ذمہ دار خود صاحب مال ہے ، عہد رسالت یا عہد خلافت میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ ﴿الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ نے لوگوں سے ”اموال باطنہ“ کی زکاۃ وصول کی ہے۔
بلکہ احادیث وآثار کا پورا ذخیرہ یہی کہتا ہے کہ ﴿الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ صرف ”اموال ظاہرہ“ ہی وصول کرتے تھے ، اور خلیفہ اول ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ نے جن سے جنگ کی تھی ان سے ”اموال باطنہ“ کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ ”اموال ظاھرہ“ ہی کا مطالبہ تھا ۔
.
اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ ﴿الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾کا کام ”اموال ظاھرہ“ کی زکاۃ وصول کرنا ہے نہ کہ ”اموال باطنہ“ کا ، کیونکہ ”اموال باطنہ“ کی زکاۃ نکالنا اور اسے مستحقین تک پہنچانا یہ خود ارباب اموال کی ذمہ داری ہے۔
.
اس تفصیل کی روشنی میں آج کل کے بیشتر ”مچندین“ کی پوزیشن اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی حیثیت نہ تو ﴿الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾بننے کی ہے، اور نہ ہی یہ ﴿الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ کا کام کررہے ہیں کیونکہ یہ تو ارباب مال سے ”اموال باطنہ“ یعنی سونے ، چاندی اور نقدی کی زکاۃ وصولتے ہیں ، اور یہ کام ﴿الْعَامِلِينَ عَلَيْهَا﴾ کا نہیں بلکہ خود ارباب اموال کا ہے ، لہذا ان مچندین کی اجرت ارباب اموال کو الگ سے دینی ہوگی کیونکہ یہ انہیں کے وکیل بنتے ہیں ، اور زکاۃ کے مال سے ایک چونی بھی نہ تو ان مچندین کو دی جاسکتی ہے ، اور نہ ہی یہ مچندین لے سکتے ہیں ۔
اگر ارباب اموال ان کی اجرت الگ سے نہ دیں تو یہ مچندین یا تو مفت میں کام کریں ، یا پھر کوئی ادارہ زکاۃ کے علاوہ دوسرے قسم کے عطیات سے ان کو اجرت دے ۔ لیکن ان کو زکاۃ کے مال سے اجرت دینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے ، پرسینٹیج دینا تو بہت دور کی بات ہے۔
 
Top