ذیشان خان

Administrator
ملکیت بدلنے سے مال کی حیثیت بدل جاتی ہے

✍ کفایت اللہ سنابلی

فقراء و مساکین جب زکاۃ کا مال وصول کرلیتے ہیں تو وہ مال ، زکاۃ کا مال نہیں رہ جاتا ہے بلکہ ملکیت کے بدلنے سے اس مال کی حیثیت بھی بدل جاتی ہے ۔
بریرہ رضی اللہ عنہا سے متعلق مشہور حدیث ہے کہ ان کے پاس صدقہ کا گوشت آیا ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی طلب کیا ، تو کہا گیا کہ یہ تو صدقہ کا مال ہے جو آپ کے لئے جائز نہیں ہے ، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا:
«هو عليها صدقة، ولنا هدية» ، ”یہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے لئے صدقہ ہے ، اور ہمارے لئے (بریرہ کی طرف سے ) ہدیہ ہے“ [صحيح البخاري رقم 5097]
اسی حدیث سے فقہاء نے ایک قاعدہ بنایا ہے:
”تبدل سبب الملك كتبدل الذات“ ، ”یعنی ملکیت بدلنا ذات کے بدلنے کی طرح ہے“
.
لہٰذا ایک فقیر ومسکین مال زکاۃ وصول کرنے کے بعد وہی مال ایسے لوگوں کو بھی دے سکتا ہے جن کے لئے زکاۃ جائز نہیں ہے ، جیسے عام مالدار شخص ، عام سید یا عام غیر مسلم کو ۔
بلکہ اسی مال سے کچھ رقم یا کوئی بھی چیز لیکر زکاۃ دینے والے کو بھی ہدیہ کرسکتا ہے ، ان تمام صورتوں میں یہ مال لینے والے لوگ زکاۃ کا مال لینے والے نہیں کہلائیں گے۔
جب کہ فقییر ومسکین جب شروع میں یہی مال وصول کرتے ہیں تو زکاۃ لینے والے کہلاتے ہیں ۔
 
Top