ذیشان خان

Administrator
”انفاق“ اور ”قریبی رشتہ داروں“ کا حق

✍ کفایت اللہ سنابلی

ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس کھجور کے باغات تھے ، جن کے سبب وہ انصار میں سب سے زیادہ مالدار تھے ، صحیح بخاری کی روایت ہے :
”جب یہ آیت نازل ہوئی {لَنْ تَنَالُوا البِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} [آل عمران: 92] یعنی {{تم نیکی کو اس وقت تک نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو}} یہ سن کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ {{ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پا سکتے جب تک تم اپنی پیاری سے پیاری چیز نہ خرچ کرو }} ۔ اور مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اس لیے میں اسے اللہ تعالیٰ کے لیے خیرات کرتا ہوں۔ اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کا امیدوار ہوں۔ اللہ کے حکم سے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مناسب سمجھیں اسے استعمال کیجئے“ ...[صحيح البخاري 2/ 120رقم 1461]
.
یہاں تھوڑا سارک کر غور کیجئے کہ ہمارے یہاں آج اگر کوئی بڑے سے بڑا سیٹھ کسی مولانا سے پوچھے میں اپنی فلاں قیمتی جائداد اللہ کی خاطر صدقہ کرکے ذخیرہ آخرت بنانا چاہتاہوں ، تو اسے کہاں خرچ کروں ؟ تو عمومی جواب یہی ہوگا کہ کسی مسجد یا مدرسہ میں دے دو !
لیکن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ وہ دیکھیں :
.
”فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَخٍ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ، وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ، وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهَا فِي الأَقْرَبِينَ» فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَسَمَهَا أَبُو طَلْحَةَ فِي أَقَارِبِهِ وَبَنِي عَمِّهِ“
”یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ خوب! یہ تو بڑا ہی آمدنی کا مال ہے۔ یہ تو بہت ہی نفع بخش ہے۔ اور جو بات تم نے کہی میں نے وہ سن لی۔ اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ تم اسے اپنے نزدیکی رشتہ داروں کو دے ڈالو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا۔ یا رسول اللہ! میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ انہوں نے اسے اپنے رشتہ داروں اور چچا زاد بھائیوں کو دے دیا“ [صحيح البخاري 2/ 120رقم 1461]
 
Top