ذیشان خان

Administrator
احرام باندھنے کے بعد حیض آگیا اور سفر سے لوٹ گئی

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ایک خاتون نے مدینہ سے احرام باندھااور مکہ پہنچ کر عمرے سے پہلے پیریڈز شروع ہو گئے،چونکہ اسکول میں ان کے بچوں کے پیپرز تھے وہ رک نہیں سکتی تھیں تو وہ عمرہ کئے بغیر ریاض واپس آگئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے احرام کے منافی ابھی تک کوئی کام نہیں کیا،اب ان پرکیا لازم آتا ہےدم دینا یا صرف عمرہ کرنا؟اوراگر اسے عمرہ کرنا ہے تواسی نیت سے کریں گی جو مدینہ کی میقات پرکی تھی یا پھر سے کسی میقات سے نیت کرنی پڑے گی؟ واضح ہو کہ ریاض سے دوبارہ سفر کرتے ہوئے طائف والی میقات سے بھی گزرہوگا۔
سائلہ : ام عبداللہ ،پاکستان
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ :
عورت نے اس وقت مدینہ کی میقات سے احرام باندھا جب وہ پاک تھی اور حالت احرام میں مناسک عمرہ کی ادائیگی سے قبل راستے ہی میں حیض آگیا ،اس حیض کی وجہ سے عمرہ یا احرام فاسد نہیں ہوتا بلکہ احرام کی حالت باقی رہتی ہے ۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ عورت حالت حیض میں بھی احرام باندھ سکتی ہے۔
چونکہ حیض کی وجہ سے احرام فاسد نہیں ہوا اس وجہ سے وہ عورت ابھی تک محرمہ ہی شمار ہوگااور ریاض لوٹ جانے سے بھی احرام ختم نہیں ہوا ، اسے دم دینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس قدر جلدی ہو ریاض سے اسی نیت پہ عمرہ کے لئے سفر کرے ،طائف کی میقات سے بھی بغیر نیت گزرجائے اور مکہ پہنچ کر عمرہ کی ادائیگی کرے ، اس دوران وہ ممنوعات احرام سے بچتی رہے تاوقتیکہ عمرہ مکمل نہ جائے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمدسلفی
 
Top