الحمد للہ رب العالمین،و الصلاۃ و السلام علی أشرف الأنبیاء و المرسلین، أما بعد

اللہ رب کریم کی رحمت و کرم کا کوئی اندازہ نہیں,وہ رب ِّ کریم اپنے بندوں کو سال بھر کسی نہ کسی شکل میں خیر و فلاح اور نجات و نجاح کے مواسم عنایت فرماتا رہتا ہے , ایامِ بیض کے روزے اللہ کریم کی کرم فرمائی اور مہربانی کا ایک مظہر اور پرتوہے ۔

ایام بیض کی وجہ تسمیہ :ایام بیض کو ایام ِ بیض اس لئے کہا جاتا ہے کہ ان دنوں کی راتیں چاندنی اور انتہائی صاف و شفاف ہوتی ہیں,منور اور پوری طرح روشن ہوتی ہیں,اور یہ عربی تاریخ (چاند)کی ۱۳,۱۴,اور ۱۵ تاریخ کو کہا جاتا ہے

روزہ کے عمومی فوائد:روزہ ,ایمانی قوت کو بڑھاتا ہے,ہاتھ,پاؤں,زبان و دل اور کان و آنکھ کی حفاظت کا بہترین ذریعہ ہے, دلوں کو اللہ کی راہ میں لگادیتا ہے,نگاہ و دماغ غلط راہوں پر چلنے سے محفوظ رہتا ہے,شیطانی حملوں اور ابلیسی چالوں سے بخوبی بچا جا سکتا ہے,معصیتوں سے اجتناب ممکن ہے,فرض روزے تو صرف رمضان کے ہی فرض ہیں,مگر مواسم ِ خیر و فلاح کے دروازے تو پورے سال تمام مؤمنوں کے لئے وا رہتے ہیں, ایک مؤمن کے لئے ہوشیاری اور کامیابی اسی میں ہے کہ مرد ِ مؤمن ان ایام کو بسا غنیمت سمجھے,اسی لئے نبی ٔ کریمﷺروزوں کا اہتمام ہمیشہ فرماتے تھے,چنانچہ سوموار,جمعرات,ہر ماہ کے تین روزے,ایام بیض کے روزے,یوم ِعرفہ اور عاشورہ کے روزے کا خوب خوب اہتمام فرماتے تھے,اور ان کی ترغیب بھی دیتے تھے۔

ایام بیض کے روزوں کی فضلیت و اہمیت نبی ٔ کریمﷺ نے خوب بیان فرمائی ہے,چنانچہ:

نبی ٔ کریمﷺ نے فرمایا:(صيامُ ثلاثَةِ أيامٍ من كل شهرٍ صيامُ الدهرِ، أيامُ البِيضِ ثلاثَ عشرةَ، ورابعَ عشرةَ، وخمسَ عشرةَ) ([1])(ہر ماہ کے تین روزہ کا ثواب عمر بھر روزہ رکھنے کے برابر ہے,ایام بیض یعنی چاند کی ۱۳,۱۴,۱۵ تاریخ )


نیز نبی ٔ کریمﷺ فرمایا:( صَوْمُ ثلاثَةِ أيامٍ من كلِّ شهرٍ، و رَمَضَانُ إلى رَمَضَانَ صَوْمُ الدَّهْرِ و إِفْطَارُهُ) (
[2]) (ترجمہ:ایک رمضان سے دوسرے رمضان کے درمیان ہر ماہ ۳ دن (ایام بیض) کے روزے رکھناعمر بھر روزے رکھنے کے برابر ہے." یعنی چاند کی 13-14-15 تیرہ ،،چودہ ،، پندرہ تاریخ)


نیز آپﷺنے فرمایا:(إذا صُمْتَ مِنَ الشَّهْرِ ثَلاثًا، فَصُمْ ثَلاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبعَ عَشْرَةَ، وخَمْسَ عَشْرَةَ) (
[3])(ترجمہ:ماہ کے تین روزے رکھنے ہوں تو ۱۳,۱۴,اور ۱۵ تاریخ کے روزے رکھا کرو)


حضرت قتادہ بن ملحان۔رضی اللہ عنہ۔ فرماتے ہیں:(كانَ رَسولُ اللَّهِ ﷺ يأْمُرُنَا بِصِيَامِ أَيَّامِ البيضِ: ثَلاثَ عشْرَةَ، وأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ) (
[4])(ترجمہ:رسول اللہﷺایام بیض کے روزے رکھنے کا ہمیں حکم دیا کرتے تھے,۱۳,۱۴,اور ۱۵ ویں تاریخ کا)


حضرت ابن عباس ۔رضی اللہ عنہما۔فرماتے ہیں: (كانَ رسولُ اللَّهِ ﷺ لاَ يُفْطِرُ أَيَّامَ البِيضِ في حَضَرٍ وَلا سَفَرٍ) (
[5])(ترجمہ:رسول اللہﷺایام بیض کے روزے کبھی نہیں چھوڑتے تھے,نہ سفر میں اور نہ ہی حضر میں)


حضرت موسی بن سلمہ نے حضرت ابن عباس ۔رضی اللہ عنہما۔سے ایام ِ بیض کے روزے کے متعلق پوچھا تو فرمایا:حضرت عمر یہ روزے رکھا کرتے تھے(
[6])


ایامِ بیض کے روزے کی حکمت:

بہت سارے سائنسی معلومات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ چاند کا اثر ایک شخص کی نفسیات پر پڑتا ہے جو پوری ہونے پر ظاہر ہوتا ہے ، یعنی ہر قمری مہینے کے تیرہویں ، چودھویں اور پندرہویں دن جیسے کہ اس دور میں انسان اعصابی جلن اور نفسیاتی تناؤ کو بڑھاتا ہے ، سائنسی طور پر جس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسانی جسم 80 فیصد پانی پر مشتمل ہوا کرتاہے ، جبکہ باقی بالکل زمین کی سطح کی طرح صرف ٹھوس مادہ ہے، اور چونکہ چاند کی کشش سمندر وغیرہ میں مد و جزر کا سبب ہوتی ہے,اس لئے یہ مد و جزر انسانی جسم میں بھی اثر انداز ہوتی ہے, اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب ایام بیض میں چاند مکمل ہوتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ماہانہ مدت کے دوران چاند کا انسانی طرز عمل پر اصل اثر کے لحاظ سے ایک واضح اور ثابت اثر پڑتا ہے ،

لہذا ایسے حالات میں اس کا مزاج چاند کی حرکت کی بنیاد پر متاثر ہوتا ہے ،


انسان کے بعض حالات کو (قمری جنون)کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے,لہذا ان حالات میں جبکہ چاند مکمل ہوتا ہے,(یعنی ایام بیض میں)انسان کے سلوکیات میں بھی ڈانواں ڈول کی سی صورت پیدا ہونے لگتی ہے,اور ایسے میں انسان کے روزے رکھنے سے انسانی سلوکیات میں اصلاح ہوتی ہے,اس امر کی حقیقت نبی ٔ کریمﷺنے ا ایک حدیث میں یوں بیان فرمائی ہے,اماں عائشہ ۔رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے چاند کو دیکھا اور فرمایا: يا عائشةُ استَعيذي باللَّهِ من شرِّ هذا، فإنَّ هذا هوَ الغاسِقُ إذا وقَبَ). (
[7])(عائشہ:اس کے شر سے اللہ کی پناہ پکڑا کرو,کیوں کہ یہی وہ رات کی تاریکی ہے جبکہ اس کا اندھیرا پھیل جاتا ہے


ویسے بھی نبی ٔ کریمﷺہر ماہ کے تین روزے رکھنے کی تعلیم دیا کرتے تھے,اور اس کی بڑی فضیلت بیان فرماتے تھے چنانچہ آپﷺ نے فرمایا: (شهرُ الصبرِ ، وثلاثةُ أيامٍ من كلِّ شهرٍ ، صومُ الدهرِ) (
[8]) ترجمہ:صبر کے مہینہ اور ہر ماہ کے تین روزے پوری عمر کے روزے کے برابر ہے )


نیز حضرت ابو ہریرہ ۔رضی اللہ عنہ ۔ فرمایا کرتے تھے:(أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : صِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى ، وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ) (
[9])(ترجمہ:میرے دوست ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی(۱)ہر مہینہ کے تین روزے(۲)چاشت کی دو رکعتیں (۳)اور یہ کہ سونے سے پہلے وتر کی نماز ضرور پڑھ لیا کروں


یہی وصیت آپﷺنے کبھی حضرت ابو ذر کو فرمائی,کبھی حضرت ابو درداء کو فرمائی اور کبھی عبد اللہ بن عمرو بن العاص ۔رضی اللہ عن الجمیع۔


حضرت معاذہ نے حضرت عائشہ۔رضی اللہ عنہا۔سے پوچھا:(أَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ ، فَقُلْتُ لَهَا : مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ كَانَ يَصُومُ؟ قَالَتْ: لَمْ يَكُنْ يُبَالِي مِنْ أَيِّ أَيَّامِ الشَّهْرِ يَصُومُ) (
[10])(ترجمہ:کیا رسول اللہﷺہر ماہ کے تین روزے رکھتے تھے؟حضرت عائشہ نے عرض کیا:ہاں,میں نے پوچھا:مہینہ کے کن دنوں میں رکھتے تھے؟عرض کیا:مہینے کے کسی دن بھی رکھ لیا کرتے تھے اور کوئی پروا نہیں کرتے تھے)


امام بخاری نے اپنی مایہ ٔ ناز کتاب(صحیح بخاری)میں یوں باب قائم فرمایا ہے(بابُ صيامِ البِيضِ؛ ثلاثَ عشرةَ وأربَعَ عَشرةَ وخَمسَ عَشرةَ)(ایام ِ بیض(تیرہ,چودہ,اور پندرہ) کے روزے کے بیان میں) پھر ہر ماہ تین روزے کے مستحب ہونے کے متعلق وارد تمام احادیث کا تذکرہ فرمایا ہے۔


سعودی کے سابق مفتی ٔ اعظم سماحۃ الشیخ ابن باز ۔رحمہ اللہ۔فرماتے ہیں:,,رسول اللہ ﷺسے بکثرت وارد صحیح کسی بھی حدیث میں ایام بیض کا تذکرہ نہیں ہے,بلکہ جب چاہے,رکھے,جیسا کہ حضرات :عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی بخاری و مسلم میں موجود احادیث,حضرت ابو ہریرہ کی بخاری و مسلم میں موجود احادیث اور حضرت ابو الدرداء کی مسلم شریف میں موجود حدیث میں بیان ہوا ہے,حالانکہ یہ احادیث حضرت ابو ذر ۔رضی اللہ عنہ۔سے مروی حدیث سے کہیں زیادہ صحیح تر ہیں,لہذا اگر ہر ماہ تین کے روزے مہینے کے شروع میں رکھے,مہینے کےوسط میں رکھ لے,یا آخر میں رکھ لے ,اسے اجر مل جائے گا ,اور اگر ایام بیض میں رکھ لے تو یہ تمام احادیث کے ما بین تطبیق دیتے ہوئے افضل و بہتر ہے,, (
[11])


ائمہ ٔ اربعہ :امام مالک ,امام شافعی,امام احمد اور امام ابو حنیفہ نے ہر مہینے کے ان تین روزوں کو ایام بیض میں رکھنا مستحب قرار دیا ہے(
[12])


اگر ان تین روزوں کو ایام ِ بیض کو رکھ لئے جائیں تو کیا کہنے؟اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ ایام بیض کے روزے ضرور رکھے جائیں ,تاکہ پوری عمر روزہ رکھنے کا ثواب حاصل ہو۔

اس لئے اس عظیم موقعہ کو غنیمت جانیں اور ایام ِ بیض کے روزے رکھیں

اللہ کریم ہمیں جملہ نیک اعمال کی توفیق ارزانی کرے,ہمارے عملوں کو شرف ِ قبولیت بخشے ,آمین یا رب العالمین


([1]) نسائی رقم:۲۴۱۹,ابو یعلی رقم:۷۵۰۴, طبرانی کبیر رقم:۲۳۹۱,صحیح الترغیب رقم :۱۰۴۰
([2]) صحیح الجامع رقم:۳۸۰۲
([3]) ترمذی رقم:۷۶۱,نسائی رقم:۲۴۲۲,مسند احمد رقم:۲۱۴۳۷
([4]) ابو داؤد رقم:۲۴۴۹,نسائی رقم:۲۴۳۲,مسند احمد رقم:۲۰۳۱۹
([5]) نسائی رقم:۲۳۴۵,بزار رقم,۵۰۳۵,الأحادیث المختارۃ رقم:۱۰۰
([6]) بغیۃ الباحث :۸۳,امام بوصیری نے (اتحاف الخیرۃ المھرۃ:۱/۳۹۵)میں اس کی سند کی توثیق فرمائی ہے
([7]) صحیح ترمذی رقم:۳۳۶۶,مسند احمد رقم:۲۵۸۴۴,سنن کبری رقم:۱۰۱۳۷)
([8]) نسائی رقم:۲۴۰۸,مسند احمد رقم:۷۵۷۷,و سندہ صحیح
([9]) بخاری رقم:۱۹۸۱,مسلم رقم:۷۲۱
([10]) صحیح مسلم رقم: ۱۱۶۰
([11]) دیکھئے:فتاوی اللجنۃ الدائمۃ:۱۰/۴۰۴
([12]) دیکھئے:الکافی لابن عبد البر:۱/۱۲۹,المجموع للنووی:۶/۳۸۵,المغنی لابن قدامہ:۳/۱۸۰,کشف القناع للبہوتی:۲/۳۳۷,بدائع الصنائع:۲/۷۹,المبسوط للسرخسی:۱۱/۷۱۷۔
 

Attachments

Top