اسلامی بھائیو !
وقت کی بڑی اہمیت ہے، نہ اس کو بڑھایا جا سکتا ہے، نہیں گزرے اوقات کو واپس لوٹا سکتے ہیں، یہ دن مہینے اور سال، ، یہ سب ہماری زندگی ہے، پھر بھی انسان اس سے غافل ہے ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
نِعمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا کَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ : الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ.

(بخاري)

’’دو نعمتوں کے بارے میں اکثر لوگ خسارے میں رہتے ہیں : صحت اور فراغت۔‘‘
معلوم ہوا کہ یہ دو نعمتیں بہت عظیم ہیں، اس میں دینی اور دنیاوی دونوں فائدے ہیں، اب اسے کوئی چاہے تو اچھی طرح استعمال کر کے دین و دنیا دونوں کی کامیابی حاصل کرلے، یا صحیح استعمال نہ کرکے ندامت و شرمندگی خسارہ اور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائے۔

اللہ کے بندو !
ہم یہ گفتگو ہر سال چھٹیوں کے موسم میں یاد دہانی کے طور پر کرتے ہیں کہ تاکہ ہم ان اوقات کا صحیح استعمال کریں مگر کتنے لوگ ہیں جو ان خالی اوقات کو طرح طرح کی ایسی مشغولیت میں گزار دیتے ہیں جو گناہوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔
یاد رکھیے ان اوقات کا ہمیں اللہ کے یہاں حساب دینا ہے ۔
نوجوانو!
یہ چھٹیوں کے اوقات ہمارے قیمتی اوقات میں سے ہیں
اس میں اگر ہم غلط چیزوں میں مشغول رہ کر کے بیجا طور سے گذرار دیتے ہیں تو سوچ لیجئے ہم کسی طرح اس کی بھرپائی نہیں کر پائیں گے ۔
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن [أربع]: عمره فيمَ أفناه؟ وعن علمه فيمَ فعل؟ وعن ماله من أين اكتسبه؟ وفيمَ أنفقه؟ وعن جسمه فيمَ أبلاه))؛ رواه الترمذي
ابن آدم کے قدم اس وقت تک نہیں ہل سکیں گے جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے ۔
اپنی عمر کے بارے میں کہ اس نے کہاں گنوائی ؟
اپنے علم کے بارے میں کہ اس نے اس پر کیا عمل کیا ؟
اپنے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں لگایا ؟
اپنے جسم کے بارے میں کہ کہاں کھپایا ؟
حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں
ہر روز جب سورج نکلتا ہے پکارنے والا ایک پکار لگاتا ہے آسمان سے، کہ ‏لوگو یہ نیا دن ہے اور آپ کا عمل آپ کے لئے گواہی دینے والا ہے، اس لیے زیادہ سے زیادہ عمل صالح کرلو کیونکہ میں دوبارہ لوٹنے والا نہیں ۔
اللہ کے بندو !
آپ بڑی بڑی شخصیتوں کی تاریخ کو پڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے وقت کی قیمت کو سمجھا وقت کا صحیح استعمال کیا، اور وقت سے فائدہ اٹھایا ۔
تو کامیابیوں نے ان کے قدم چومے ۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :
" پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو! یعنی پانچ حالتیں ایسی ہیں کہ جب وہ موجود ہوں تو ان کو ان پانچ حالتوں سے غنیمت سمجھو جو آنے والے زمانہ میں پیش آنے والی ہیں (١) بڑھاپے سے پہلے جوانی کو یعنی اپنے اس زمانہ کو غنیمت جانو اور اس سے پورا فائدہ اٹھاؤ جس میں تمہیں عبادت وطاعات کی انجام دہی اور اللہ کے دین کو پھیلانے کی طاقت وہمت میسر ہو۔ قبل اس کے کہ تمہارے جسمانی زوال کا زمانہ آجائے اور تم عبادت وطاعت وغیرہ کی انجام دہی میں ضعف وکمزوری محسوس کرنے لگو (٢) بیماری سے پہلے صحت کو یعنی ایمان کے بعد جو چیز سب سے بڑی نعمت ہے وہ صحت وتندرستی ہے، لہٰذا اپنی صحت وتندرستی کے زمانہ میں اگرچہ وہ بڑھاپے کے دور ہی میں کیوں نہ ہو، یعنی دینی ودنیاوی بھلائی وبہتری کے لئے جو کچھ کرسکتے ہو کر گزرو، (٣) فقرو افلاس سے پہلے تونگری وخوشحالی کو (یعنی تمہیں جو مال ودولت نصیب ہے قبل اس کے کہ وہ تمہارے ہاتھ سے نکل جائے یا موت کا پنجہ تمہیں اس سے جدا کردے تم اس کو عبادت مالیہ اور صدقات وخیرات میں خرچ کرو اور اس دولتمندی وخوشحالی کو ایک ایسا غنیمت موقع سمجھو جس میں تم اپنی اخروی فلاح وسعادت کے لئے بہت کچھ کرسکتے ہو۔ (٤) مشاغل وتفکرات میں مبتلا ہونے سے پہلے وقت کی فراغت واطمینان کو۔ (٥) موت سے پہلے زندگی کو، کو غنیمت سمجھو (ترمذی )

اللہ تعالی ہمیں وقت کی اہمیت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے ۔

صفی الرحمن ابن مسلم فیضی بندوی
 
Top