حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ آذَنْتُهُ بِالحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إِلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَيْهِ، وَمَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ: كُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَإِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنِ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ نَفْسِ المُؤْمِنِ، يَكْرَهُ المَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ
ترجمہ:
مجھ سے محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن مخلد نے ، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے ، ان سے شریک بن عبد اللہ بن ابی نمر نے ، ان سے عطاءنے اور ان سے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی اسے میری طرف سے اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ جن جن عبادتوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے اورکوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے ( یعنی فرائض مجھ کو بہت پسندہیںجیسے نماز ، روزہ، حج ، زکوٰۃ ) اور میرا بندہ فرض ادا کرنے کے بعد نفل عبادتیں کرکے مجھ سے اتنا نزدیک ہوجاتا ہے کہ میںاس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں ۔ پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اگر وہ کسی دشمن یا شیطان سے میری پناہ مانگتا ہے تو میں اسے محفوظ رکھتا ہوں اور میں جو کام کرنا چاہتا ہوں اس میں مجھے اتنا تردد نہیں ہوتا جتنا کہ مجھے اپنے مومن بندے کی جان نکالنے میں ہوتا ہے ۔ وہ تو موت کو بوجہ تکلیف جسمانی کے پسند نہیں کرتا اور مجھ کو بھی اسے تکلیف دینا برا لگتاہے۔
تشریح:
اس حدیث میں محدثین نے کلام کیا ہے اوراس کے راوی خالد بن مخلد کو منکر الحدیث کہا ہے۔ میں وحید الزماں کہتا ہوں کہ حافظ ابن حجر نے اس کے دوسرے طریق بھی بیان کئے ہیں گو وہ اکثر ضعیف ہیں۔ مگی یہ سب طریق مل کر حدیث حسن ہوجاتی ہے اورخالد بن مخلد کو ابوداؤ دنے صدوق کہا ہے ( وحیدی )
اس حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بندہ عین خدا ہوجاتا ہے جیسے معاذاللہ اتحاد یہ اورحلولیہ کہتے ہیں بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب بندہ میری عبادت میں غر ق ہوجاتا ہے اورمرتبہ محبوبیت پر پہنچتا ہے تواس کے حواس ظاہری وباطنی سب شریعت کے تابع ہوجاتے ہیں وہ ہاتھ پاؤ ں کان آنکھ سے صرف وہی کام لیتا ہے جس میں میری مرضی ہے۔ خلاف شریعت اس سے کوئی کام سرزد نہیں ہوتا۔ ( اور اللہ کی عبادت میں کسی غیرکو شریک کرنا شرک ہے جس کا ارتکاب موجب دخول نار ہے۔ توحید اورشریعت کی تفصیلات معلوم کرنے کے لئے تقویۃ الایمان کا مطالعہ کرنا چائیے عربی حضرات ”الدین الخالص “کا مطالعہ کریں وباللہ التوفیق۔
صحیح بخاری حدیث نمبر: 6502
کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں
باب: تواضع یعنی عاجزی کرنے کے بیان میں

صحیح بخاری - حدیث 6502 (https://shamilaurdu.com/hadith/bukhari/6502/)
 
Top