نکاح مسیار کی حقیقت
سوال: آج کل بعض ممالک میں نکاح مسیار کا بہت چرچا ہے، یہ کیا ہوتا ہے اور اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ہم نے سنا ہے کہ یہ نکاح متعہ کی ایک جدید شکل ہے۔ اس کے متعلق کتاب و سنت کے مطابق وضاحت کر دیں۔
جواب: مسیار، سیر سے ماخوذ ہے، یہ مبالغہ کا صیغہ ہے، اس سے مراد زیادہ سفر کرنا ہے، اس کے ذریعے اس آدمی کی تعریف کی جاتی ہے جو ہمیشہ سفر کی حیثیت سے رہے، یا زیادہ سفر کرے۔ نکاح مسیار سے مراد ایسی شادی ہے کہ ایک عورت

کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث

صفحہ نمبر: 380


ظاہری طور پر شرعی حدود کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی مرد سے نکاح کرتی ہے اور وہ اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ یعنی وہ نان و نفقہ اور رہائش وغیرہ کا مطالبہ نہیں کرے گی۔ مرد جب چاہے آ کر اپنی جنسی تسکین پوری کر لے اور مرد باقی ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے۔ اس کی کئی ایک صورتیں ہو سکتی ہیں، مثلاً
٭ کسی مرد نے سفر کرنا ہے تو شادی کر کے عورت کو ہمراہ لے جائے۔
٭ طالب علم نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہے تو اس دوران کسی سے شادی کر لے۔
٭ کسی شخص نے کاروبار کے سلسلہ میں کسی شہر میں قیام کرنا ہے تو اس دوران شادی کر لے۔
تعلیم یا سفر ختم ہوتے ہی اسے طلاق دے دے یا کبھی عارضی طور کی امید پر اپنی اس شادی کو برقرار رکھے، اس قسم کی شادی کے ذریعے بننے والے میاں بیوی اس رشتے کو اپنی ذات کی حد تک محدود رکھتے ہیں۔ فریقین میں سے کسی کو دوسرے کے رشتے داروں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا بلکہ ایک دوسرے کے خاندان سے واقفیت نہیں ہوتی۔
دور حاضر کے علماء اس قسم کی شادی کے متعلق تین آراء رکھتے ہیں جن کی تفصیل حسب ذیل ہے:
٭ چونکہ اس میں شرعی شرائط پائی جاتی ہیں اس لیے یہ جائز ہے، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیوی اپنے حقوق سے دستبردار ہو جاتی ہے، وہ خاوند سے نان و نفقہ اور رہائش کا مطالبہ نہیں کرتی، جیسا کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنے حقوق سے دستبردار ہو کر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنی باری ہبہ کر دی تھی۔ البتہ اس میں کراہت کا پہلو یہ ہے کہ اس قسم کا نکاح مقاصد شریعت کے خلاف ہے۔
٭ اس قسم کا نکاح حرام ہے کیوں کہ اس کا مقصد صرف جنسی تسکین ہے، قرون اولیٰ میں اس قسم کے نکاح کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ نکاح مقاصد شریعت کے خلاف ہے کیوں کہ اس میں اولاد، تربیت اولاد، خاندانی حقوق و فرائض کا دور دور تک کوئی نشان نظر نہیں آتا، شریعت میں ظاہری الفاظ کے پیش نظر نہیں بلکہ مقاصد کو سامنے رکھ کر کوئی حکم لگایا جاتا ہے۔
٭ کچھ اہل علم توقف کے قائل ہیں، وہ اس کی حلت و حرمت کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کرتے جیسا کہ شیخ ابن عثیمین رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [1]
ہمارے رحجان کے مطابق اس قسم کی شادی کا تصور اسلام میں نہیں پایا جاتا، بلکہ ہمارے نزدیک یہ شادی نکاح متعہ کی ایک جدید شکل ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔ اس قسم کا نکاح امیر لوگ غیر ممالک میں محض عیاشی اور جنسی تسکین کے لیے کرتے ہیں۔ اس کے متعلق ہمیں جو تفصیلات ملی ہیں ان کے مطابق ایک شخص کسی عورت سے معینہ مدت کے لیے شادی کرتا ہے،ا گرچہ اس کا الفاظ سے اظہار نہیں کرتا، یہ بھی ہوتا ہے کہ عورت کو کچھ رقم دے کر مدت کے تعین کے بغیر شادی کرتا ہے کہ جب تک میں زیر تعلیم ہوں یا کاروبار کے سلسلہ میں یہاں مقیم ہوں یا یہاں ملازمت کرتا ہوں، اس

کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث

صفحہ نمبر: 381
________________________________________________[1] صحیح فقہ السنہ، ج۳، ص۱۵۹
وقت تک محض جنسی تسکین کے لیے تیرے پاس آیا کروں گا۔ اسلام ایسی عارضی شادی کی اجازت نہیں دیتا جو محض تلذذ کے لیے کی جاتی ہے۔ ہماری شریعت میں نکاح کوئی ملکی رسم یا خاندانی روایت نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جو پاک بازی، افزائش نسل،باہمی پیار و محبت کی خشت اول ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَ مِنْ اٰيٰتِهٖۤ اَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوْۤا اِلَيْهَا وَ جَعَلَ بَيْنَكُمْ مَّوَدَّةً وَّ رَحْمَةً ﴾[1]
’’اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی ہے۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوا کہ نکاح کے نتیجہ میں دو طرح کی رشتہ داریاں وجود میں آتی ہیں: ایک یہ کہ ہمارے ہاں عورت بہو بن کر آتی ہے، اس سے نسبی رشتہ داری وجود میں آتی ہے، دوسری یہ کہ ہماری بیٹیاں کسی کے گھر بہو بن کر جاتی ہیں تو اس سے سسرالی رشتہ داری قائم ہوتی ہے۔ پھر ان دونوں قسم کی تعلق داری سے پورا معاشرہ جڑ جاتا ہے اور ایک ہی جیسا تمدن وجود میں آتا ہے۔ مقام غور یہ ہے کہ ایک طرف تو یہ مبارک نکاح اور اس کے عظیم مقاصد اور دوسری طرف نکاح مسیار، جس میں عورت خاوند کی بیوی تو ہے لیکن نہ سسر، نہ ساس، اسی طرح عورت کو خاوند کے رشتے داروں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ سوال میں سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کی حقیقت یہ ہے: ’’جب سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بڑی عمر کی ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑ دیں گے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ! میرا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے وقف ہے تو رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول فرما لیا۔‘‘[2]
ایک روایت میں ہے ، سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے اس لیے وقف کی تھی تاکہ اس قربانی کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کر سکے۔[3]
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو اندیشہ ہوا کہ مبادا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں بڑھاپے کی وجہ سے چھوڑ دیں گے تو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت اور آپ کی خوشنودی کی وجہ سے اپنے جذبات کی قربانی دی۔ اس حدیث کا موجودہ نکاح مسیار سے کیا تعلق ہے؟ جو سراسر مقاصد نکاح کے خلاف ہے۔ بہرحال اسلام میں اس طرح کے عارضی نکاح کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ یہ ایک نکاح متعہ کی صورت ہے جسے اسلام نے قیامت تک کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ واللہ اعلم!
٭٭٭

کتاب: فتاویٰ اصحاب الحدیث

صفحہ نمبر: 382
________________________________________________[1] الروم:۲۱۔ [2] ابو داؤد، النکاح:۲۱۳۵۔ [3] بخاری، الہبہ:۲۵۹۳
 
Top